خوبی تو کوئی نہیں ملی جسے ادھر لکھا جا سکے. اور طالبعلم ہوں. مسلسل سیکھنے کی کوشش ہے. اس لیے کوئی رائے حتمی نہیں ہے. موجودہ سے بہتر رائے ملی تو وہ اپنا لوں گا
@TahirImran پاکستان میں ذاتی ڈیٹا کا کوئی حال نہیں ہے۔ جو چاہے جب چاہے حاصل کر لیتا ہے ۔ اور عوام کے ساتھ فراڈ عروج پر ہے۔ جس ادارے کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ وہ سو رہا ہے
سادہ سی بات ہے کہ یزید وہ پہلا مسلمان حکمران تھا جس نے مملکت اسلام میں غیر قانونی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اور آپ سیدنا حسین علیہ السلام کے ساتھ چلنے والوں اور شہید ہونے والوں پر جتنا غور کریں گے۔ اتنا ایمان پختہ ہو گا کہ آپ علیہ السلام حق پر ہیں۔
ایک ٹاور آپ اپنے گھر میں لگوائیں ، دوسرا شزہ فاطمعہ کے گھر، تیسرا وہ ٹیلی کام افسر جو کسی جرنیل کا بیٹا ہے جس نے بل ڈرافٹ کیا ہے شاید ، چوتھا شہباز شریف کے جاتی امرا والے گھر لگوا لیں۔ پھر انجمن ستائش باہمہی شروع کریں گے ہم۔
بجٹ 2026-27: استحکام کا پردہ، قرض کا نظام اور معیشت کا گلا گھونٹتا ہوا فریم ورک
وفاقی بجٹ 2026-27 کو حکومت معاشی استحکام، fiscal discipline اور IMF compliance کا بجٹ کہہ رہی ہے، مگر اصل تصویر یہ ہے کہ یہ بجٹ growth، productivity، investment اور کاروبار کے لیے نہیں بلکہ debt servicing، administrative survival اور status quo کو برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
اس بجٹ کا کل حجم تقریباً 18.771 ٹریلین روپے ہے۔ بظاہر یہ ایک balanced budget دکھایا گیا ہے، مگر یہ balance accounting کا ہے، معیشت کا نہیں۔ حکومت کے اپنے net revenue receipts صرف 11.751 ٹریلین روپے ہیں، جبکہ کل اخراجات 18.771 ٹریلین روپے ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ تقریباً 7.020 ٹریلین روپے کا gap قرض، non-bank borrowing، external receipts، bank borrowing اور privatization proceeds سے پورا کیا جا رہا ہے۔
یہ بجٹ دراصل تین تلخ حقیقتوں کو چھپاتا ہے۔
پہلی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی ریاست اب development state نہیں رہی، debt servicing state بن چکی ہے۔ صرف interest payments 8.054 ٹریلین روپے ہیں۔ یعنی وفاق کے net revenue کا تقریباً 68 فیصد صرف سود کی ادائیگی میں جا رہا ہے۔ جب ریاست اپنی حقیقی آمدن کا دو تہائی حصہ صرف ماضی کے قرضوں کے سود پر خرچ کر دے تو پھر تعلیم، صحت، infrastructure، industry، technology، exports اور روزگار کے لیے کیا بچے گا؟
دوسری حقیقت یہ ہے کہ حکومت revenue effort کو tax reform نہیں بلکہ tax extraction سمجھتی ہے۔ FBR کا ہدف 15.264 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ ہدف broad-based reform سے نہیں بلکہ اسی formal sector، salaried class، documented businesses، importers، manufacturers، utility consumers اور fuel users سے مزید وصولی کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش ہو گی۔ informal retail، real estate، agriculture income، undocumented services، elite exemptions اور state-protected rent-seeking structures بدستور سیاسی مصلحت کے پردے میں محفوظ رہیں گے۔
تیسری حقیقت یہ ہے کہ development کو قربان کر کے stabilization دکھائی جا رہی ہے۔ Federal PSDP صرف 1 ٹریلین روپے ہے۔ 18.771 ٹریلین روپے کے وفاقی بجٹ میں حقیقی development spending تقریباً 5 سے 6 فیصد رہ جاتی ہے۔ یہ وہی ملک ہے جہاں آبادی بڑھ رہی ہے، شہروں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، exports stagnant ہیں، industry energy prices اور taxes کی وجہ سے regionally uncompetitive ہے، مگر ریاست کا development response symbolic رہ گیا ہے۔
سب سے بڑا cover-up یہ ہے کہ حکومت deficit کو technical language میں چھپا رہی ہے۔ جب total resources میں borrowing کو بھی resource بنا کر دکھایا جائے تو عوام کو لگتا ہے کہ بجٹ balance ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ tax اور non-tax revenue سے اخراجات پورے نہیں ہو رہے۔ فرق قرض سے پورا ہو رہا ہے۔ یہ fiscal management نہیں، fiscal rollover ہے۔
اس بجٹ کا دوسرا cover-up provincial share اور federal helplessness کے نام پر ہے۔ وفاق یہ کہتا ہے کہ NFC کے بعد اس کے پاس کچھ نہیں بچتا، مگر یہ سوال نہیں پوچھتا کہ federation، provinces، authorities، corporations، ministries، attached departments اور post-18th Amendment duplicated structures کو rationalize کیوں نہیں کیا جاتا؟ اگر صوبوں کو حصہ جا رہا ہے تو پھر وفاقی ministries اور schemes کا duplication کیوں برقرار ہے؟ اگر fiscal space نہیں تو parliamentarians’ schemes، discretionary grants، loss-making SOEs، غیر ضروری departments اور elite perks پر فیصلہ کن کٹ کیوں نہیں لگتی؟
تیسرا cover-up defence، pensions اور civil government running cost کے اردگرد ہے۔ defence affairs and services 3 ٹریلین روپے، pension 1.169 ٹریلین روپے، running of civil government 1.071 ٹریلین روپے، grants and transfers 2.680 ٹریلین روپے، subsidies 1.091 ٹریلین روپے یہ سب مل کر بتاتے ہیں کہ ریاست کے fixed and protected expenditures مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ productive expenditure سکڑ رہا ہے۔
کاروبار پر اس بجٹ کا اثر منفی ہو گا۔ documented business مزید documentation penalty کا شکار ہو گا۔ input costs، withholding taxes، energy tariffs، compliance burden، financing cost اور indirect taxation کا بوجھ بڑھنے سے working capital squeeze ہو گا۔ نئی investment مزید delay ہو گی۔ SMEs formal ہونے کے بجائے informal رہنے کو ترجیح دیں گی۔ manufacturing expansion مشکل ہو گا۔ exporters کو cost competitiveness کا مسئلہ رہے گا۔ real economy میں liquidity کم ہو گی اور demand compression برقرار رہے گی۔
1/2