ھم کسی صورت میں بھی اپنا اختیار سپریم کورٹ کودینےکےلئےتیار نہیں ہیں۔ھم کسی صورت بھی وزیراعظم کا اختیار چیف جسٹس کو دینےکےلئے تیار نہیں ہیں۔ھم کسی صورت بھی الیکشن کمیشن کا اختیار سپریم کورٹ کو دینے کےلئےتیار نہیں ھیں۔
فرزند قائد محترم مفتی اسعد محمود کا پارلمنٹ سے دبنگ خطاب۔💪
ملک تمہاری پالیسیوں کی وجہ سے ٹوٹا ہے،یہی ہماری فوج کی حکومت تھی، اور چار صوبوں کو ایک صوبہ کیاگیا، ون یونٹ لگا دیا گیا۔ مغربی پاکستان چار صوبوں والا، اب وہ صرف ایک صوبہ کہلائے گا، صوبہ مغربی پاکستان،،،،یہ بھی اسی فوج کی سوچ تھی۔
اور آج ان چار صوبوں کو توڑا جا رہا ہے، ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، یہ بھی ہماری فوج کی سوچ ہے۔ ویسے خامخواہ کاکے کو آگے کیا گیا، وہ بھی ان کی سوچ تھی، یہ بھی ان کی سوچ ہے۔
تم پاکستان کے مالک ہو، جب چاہو پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دو، اور جب چاہو چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ تو ہر فیصلے کے پیچھے تمہارے اپنے عزائم ہوتے ہیں، وہاں قوم کو مفاد نہیں ہوا کرتا۔
ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو اپنے ضمیر کی بات کریں گے۔ ہم خیرخواہی کی بنیاد پر بات کرتے ہیں، ہم آپ کی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں، ہم آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں۔
لیکن تمہارا مزاج بن گیا ہے کہ تمہیں خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے، لیکن تمہارے سامنے کوئی سیدھی بات کرے تو وہ تمہیں بری لگتی ہے۔
لیکن ہم ملک کو آپ کی ملکیت نہیں مانتے۔ یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے شہری ہیں، اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔
ہم اصولاً کسی یونٹ کے بنانے کے خلاف نہیں ہیں۔ یونٹیں بنتی رہتی ہیں، ہندوستان میں بھی بنی ہیں، افغانستان میں بھی بنی ہیں، دوسرے ملکوں میں بھی بنی ہیں، لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہیے۔
ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ فاٹا کو صوبے میں انضمام نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے کہا، دو تین آپشنز ہیں، یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی۔ یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے، ان کی منشا سے فیصلہ کیا جائے۔
لیکن آپ نے ان پر تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟
اس وقت باجوا صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے۔ اور جب میں نے ان کو جوابات دیے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔
آج ہمارا جنرل مجھے کہتا ہے، کسی اور کو نہیں، مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔
تمہاری مرضی ہے، تم جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو کچھ کرو، اور پھر تم جب چاہو کچھ اور طریقہ بناؤ۔ روز آپ کا فیصلہ آج ناگزیر ہے، اور کل وہ فیصلہ آپ کا غلط ہے۔
ایک فیصلہ تو بتا دو اللہ کے بندوں، جو تم نے کیا ہو اور اس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ کیوں ایسا کرتے ہو؟ آخر لوگوں سے پوچھو۔
یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ہم کہتے ہیں، ڈیبیٹ کرنی چاہیے۔ یک طرفہ آپ کوئی فیصلہ مسلط نہ کریں۔ یہ ملک عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے، عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔
صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟
نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔
دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتی۔
یہ ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ ازسرِنو پھر ہم معدنیات کے فیصلے بھی پھر سے کریں اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے بھی پھر سے کریں۔
تو ہم تو صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔ اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسئلہ مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ۔۔۔۔ اب بتاؤ، جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے، کابینہ کا ممبر ہے۔
اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی۔ ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ۔اس میں تضادات ہیں،
تو ذاتی نوکر، پاکستان ہم ان کے حوالے کر دیں؟ یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا لاہور میں خطاب
@muzamil_45 تحریک آزادی کی مشہورلیڈرمولانا حسین احمدمدنی رح کوکالاپانی"میں اسیر رکھاگیاتھا۔کالا پانی "مالٹا" وہ مشہور زمانہ جیل تھی جنہاں انگریزسرکارسےباغیوں کوھندوستان سےدور "کالا پانی مالٹا'میں قیدرکھاجاتاتھا۔"کالا پانی"مشہور زمانہ امریکی"گوانتاناؤ بےجیل"کیوبا"کےقریب واقعہ جزیرہ جیسی تھی۔
"اسلامی" جمہوریہ پاکستان کےوزیراطلاعات کی تلاوت ملاحظہ کیجئے
یہ ہے وہ شخص جو کسی کے کہنے پر کسی کا ٹاؤٹ بن کر یوٹیوبروں نیوز چینلز سمیت دیگر کچرے کے ڈھیر نما صحافیوں کو کہتا ہے کہ مولانا کے پیچھے بھونکو یہی تمہارا قومی فریضہ ہے اخخخخخے
#TeamJuiPak#TeamJuiKp#JuiUpdates #JamiatSocialMediaTeam @ziaurrehman76 صاحب ملاحظہ فرمائیں 🚨
@waqasmughalpk فلسطین تو پہلے سے ملک تھا برطانیہ نے یہودیوں سے ایک معاھدہ کیا۔ یہودیوں کو فوجی تربیت دی اور فلسطین میں ایک نئی ناجائز ریاست اسرائیل کی بنیاد ڈ رکھی ۔ اسرائیل اور برطانیہ دونوں فلسطینیوں کے قاتل ہیں
کراچی
اس وقت ملیر کے فقیر محمد گوٹھ کے اطراف پولیس کی بھاری نفری موجودگی میں سماجی کارکن @BalochHafeez201 کے مطابق کچھ عمارتیں جن میں مسجد بھی شامل ہے توڑ دیا گیا ہے جبکہ مقامی مرد اور خواتین گزشتہ 36 گھنٹوں سے جاگ رہے ہیں اور اپنے گاؤں کی حفاظت کے لیے پہرہ دے رہے ہیں۔
یہ معاملہ محض زمین کا نہیں، بلکہ گھروں، شناخت، تاریخ اور ایک برادری کے اپنے وجود کے حق کا معاملہ ہے۔سندھ حکومت ہمارے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے جیسے ہمارے کوئی حقوق ہی نہیں۔ ہماری آبائی زمینیں لے کر انہیں ’’ایجوکیشن سٹی‘‘ کے نام پر بااثر سرمایہ کاروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ ریاست اپنی طاقت کے ساتھ کھڑی ہے، جبکہ ہمارے لوگ اپنی ہمت، وقار اور مزاحمت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اور اگر کل ہم اپنی زمین سے محروم بھی ہو جائیں، تب بھی ہماری مزاحمت شکست نہیں ہوگی۔ ملیر اور اس کے رہائشی ایک حقیقت ہیں۔ دیہات کو دھمکایا جا سکتا ہے، زمین چھینی جا سکتی ہے، لیکن کسی قوم یا برادری کی تاریخ، شناخت اور عزم کو محض طاقت کے ذریعے مٹایا نہیں جا سکتا۔
ہم کھڑے ہیں۔ ہم موجود ہیں۔ ہم پُرامن اور باوقار انداز میں مزاحمت جاری رکھیں گے۔
@HumaNaz555 Homa Naz@
آنٹی ہما ناز ہم معافی 🙏 چاھتے ہیں ۔آپ کی اپنی پروفائل کی تصویر میں آپ کی زلفیں عریاں نظر آرہی ہیں اور آپ معاشرے کو عریانی اور فحاشی سے پچانے کی پوسٹ لگائی ہوئی ہے ۔😯
لا حول ولا قوتہ اللہ باللہ
@ziaurrehman76@RShahzaddk @Rziaurrehman76 & @Rshahzaddk
راجہ شہزاد عامر بھائی آپ کے اپنے لوگوں کا آپ کے ساتھ ناروا سلوک انتہائی قابل افسوس ھے ۔ آپ اپنا حوصلہ بلند رکھئے انشاللہ آپ ہی سرفراز ہونگے۔
@FaizullahSwati ہمیں توعمران خان سےگلہ تھا کہ وہ مغربی ایجنڈے کاعلمبردار ہےمگر موجودہ حکومت تواسی ایجنڈےکو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔جرنیلوں کے مراعات اور توسیع کےقانون پہلےبھی اور آج بھی بن رہےہیں۔یہ تو پالیسی کا تسلسل ہوگیا اور اگر تم مغربی پالیسی کو تسلسل دو گےتو ہماری تم سے جنگ ہے۔قائدِجمعیت