یہ ہے نیا KP‼️
جہاں پولیس کی تشہیر بھی ISPR کر رہی ہے
@OfficialDGISPR جنرل صاحب آپ لوگ فارغ بہت ہیں یا اتنی سی بھی آزادی پولیس کو دینے کو تیار نہیں ⁉️⁉️
میرے سہیل سے بہت سارے سوالات ہیں۔ جو پوچھتا رہوں گا۔ لیکن جب تک خان کی انڈروسمنٹ سہیل کے ساتھ ہے وہی وزیراعلی ہے۔ کوئی بھی سازش کرے گا اس کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔ وزیراعلی لگانے بدلنے کا اختیار صرف خان کا۔ کیونکہ عوام نے ووٹ خان کو دیا۔ کوئی اور اس کا ماما چاچا نہ بنے۔ اس لئے سہیل کو ہٹانے کے ہر عمل کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ ہمارا کوئی گروپ نہیں۔ نہ ہی کسی سے زاتی عناد۔ دشمنی۔ یا دوستی۔
سوالات دونوں سے ہیں۔
گنڈاپور کے وقت ڈیڑھ سال اور سہیل کے وقت پورا سال ضائع ہوا۔ خان کو ریلیف نہ مل سکا۔ دوسری طرف فوجی آپریشن میں بے گھر کئیے جانے والوں کو گنڈا پور نے 9 ارب دہیے تو سہیل نے 22 ارب۔ یہی فوج کی ڈیمانڈ تھی۔ ڈرون پر خان کے احکامات پر دونوں نے کچھ نہ کیا۔ دونوں نے خان سے ملے بغیر بجٹ پاس کئیے۔ دونوں نے سرپلس پیسے بجٹ میں رکھے۔ یہ تمام چیزیں خان کے احکامات کے خلاف ہوئیں۔ اور بہت سارے دوسرے سوالات جو پبلک میں نہیں پوچھے جا سکتے۔ وہ خان کے سامنے بیٹھ کر باتھ ہوگی۔ انشاللہ۔ ہوسکتا ہے میں غلط ہوں۔ غلط ہوا تو خان صاحب فیصلہ کر دیں گے۔ اور خان کبھی چھپاتا نہیں۔ فیصلہ بھی پبلک ہی کرتا ہے۔
لیکن سب سوالوں کے باوجود۔ آج کے دن سہیل ہی ہمارا وزیر اعلی ہے۔ اور رہے گا۔ تا وقت کے خان اسے تبدیل کرنے کے احکامات جاری کرے۔ کیونکہ عوامی مینڈیٹ خان کا ہے-
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
مبارک ہو عاصمہ شیرازی صاحبہ
عاصمہ شیرازی صاحبہ کا KP میں ایمرجنسی کا دفاع نئی بات نہیں۔ انکو نارشل لا ایمرجنسی وہی بری لگتی ہے جو ان کے سیاسی منہ بولے والد نواز شریف کے خلاف ہو۔ تب یہ جمہوری ہوتی ہیں۔ اسی طرح خود یہ کتا کتی کتے کی دم جیسے الفاظ استعمال کرتی ہیں اور آج مطیع اللہ جان کو صحافتی آداب کے لیکچر دے رہی تھیں۔
ایک بات یاد رکھیں ۔ عاصمہ صاحبہ۔ آپ نے عورت کارڈ کو انتہائی بے دردی سے استعمال کیا۔ اتنا استعمال کیا کہ اب بے اثر ہو گیا۔ میں نے آپکی شیطانیت کو بھگتا ہوا ہے۔ آپ نے جس انداز سے میرے خلاف عورت کارڈ استعمال کیا۔ اور اس زمانے میں ہمارے اندر کے چھپے کچھ جعلی لبرل بھی آپکو سپورٹ کرتے رہے۔
پھر آپ نے کمال مہارت سے اپنے آپکو لبرل اور جمہوری پیش کیا۔ جب کے آپ ایک مفاد پرست انسان ہیں۔ جس کا ان اصولوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔
اب آپکا پردہ چاک ہو چکا۔ اب نہ تو کوئی آپکو صحافی مانتا ہے۔ نہ ہی عورت کارڈ چلتا ہے۔ بلکہ اب تو آپکی شناخت ایک جرنیلی ٹاؤٹ کی ہے۔
آپکو نئی پہچان مبارک۔
یہ وہ عسکری گورنر ہے جو 7، 8 دفعہ الیکشن ہار چکا ہے، جس نے 4 کروڑ خیبر پختونخوا کے عوام کی حکومت اور مینڈیٹ پر قبضہ کیا ہے۔ ایمرجنسی تو دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے لگائی تھی، لیکن اصل میں صوبے کے عوام کے ساتھ دہشت گردی ہو رہی ہے۔ #آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس آصف کے بیٹے نے ساری دنیا کے سامنے دو خواتین کو اسلام آباد میں کچل کر شہید کر دیا تھا جسٹس آصف کے بیٹے کا جرم توقیر کے جرم کے برابر تھا لیکن سی سی ڈی نے اس کا ماورائے عدالت قتل نہیں کیا بلکہ دوسرے دن وہ بچہ گھر تھا
انصاف کرو چاہے کہر برپہ ہو جائے
یہ وڈیو ان تمام لوگوں کے لیے جو روز ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں، چاہے سخت مشکل حالات ہوں۔
سچ میں انصافینز کو ہرانا بہت مشکل ہے کیونکہ وہ عمران خان کی طرح کبھی ہار نہیں مانتے۔
#تم_کھڑے_تھے
کیا آپ لوگوں کو یاد ہے جب شہید ارشد شریف کو قتل کیا گیا تھا تو چند ہی گھنٹوں میں ڈجی آئی ایس پی آر اور ندیم انجم روتی شکلیں لیکر بھاگے بھاگے میڈیا پر آئے تھے کہ ہمیں بہت دکھ ہے۔ اس دن پورا پاکستان سمجھ گیا تھا یہی اصل قاتل ہیں۔
آج سلمان اکرام راجہ کی ٹوئیٹ کے بعد جسطرح گنڈا پور نے ردعمل دیا ہے،اس سے واضح ہو گیا ہے کہ یہی پارٹی میں اصلی سانپ اور سپولیے ہیں ۔ اور جو بھی گنڈا پور کی حمایت میں آئے گا وہ سب سپولیے ہیں ۔
یہ ہے مریم نواز کا پنجاب۔۔۔
پنجاب میں ایک سال کے دوران 1,100 سے زائد افراد کا پولیس مقابلوں (STAGED ENCOUNTERS) میں مارا جانا اور صوبے کا گینگ ریپ کیسز میں پہلے نمبر پر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ دور میں قانونی عمل مکمل طور پر دم توڑ چکا ہے۔ پولیس کو خاندانی ملیشیا بنا دیا گیا ہے، اور سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ماورائے عدالت قتل جیسے گھناؤنے فعل پر فخر کیا جا رہا ہے اور جشن منایا جا رہا ہے۔
یہ ہے مریم نواز کا پنجاب، جہاں قانون کے اس خاتمے اور درندگی کے اس رجحان نے معاشرے کو ’’جنگل کے قانون‘‘ کی طرف دھکیل دیا ہے۔
مواصلات کے سابق وفاقی وزیر دوبارہ پڑھیں مواصلات کے سابق وفاقی وزیر مراد سعید کا بھائی گریڈ 9 میں نوکری کرتا ہے اور دفتر کی جانب سے ملے کوارٹر میں مفلوج ماں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔
پی ڈی ایم سرکار بنی تو مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیٹے کے لیے جو وزارت مانگی وہ بھلا کونسی وزارت تھی؟ جی ہاں یہی مواصلات کی وزارت۔ کیوں؟ وجہ سب جانتے ہیں۔
عاصم منیر آرمی چیف بنا تو سکول ٹیچر بھائی کو ڈائریکٹر لگادیا۔ بیٹیوں کو ناجائز سفارتی پاسپورٹ تھما دیے۔ داماد بھتیجے کو سول سروس میں لے آیا۔ اسسٹنٹ مینجر کزن کو ادارے کا سربراہ لگا دیا۔
ان لٹیروں کی مراد سعید سے نفرت کرنا ہی بنتی ہے !
آذربائیجان کی لڑکی کا ریپ کرنے والے لونڈوں کا انکاؤنٹر سی سی ڈی کیوں نہیں کرتی؟
اسحاق ڈار کے پوتے رضا ڈار کا انکاؤنٹر سی سی ڈی کیوں نہیں کرتی؟
نو سالہ بچی ہانیہ احمد کو گولیوں سے چھلنی کر کے قتل کرنے والے اہلکاروں کا انکاؤنٹر سی سی ڈی کیوں نہیں کرتی؟
جس نے ایک طالبہ سے فراڈ کیا اسے پولیس مقابلے میں مار دیا۔ جس نے پوری قوم سے ، الیکشن سے ، جمہوریت سے ، عدالتوں سے فراڈ کیا اسے بعد از ریٹائرمنٹ آرمی چیف بنا کر تاحیات استثنی دے کر فیلڈ مارشل بنا دیا۔
In these challenging times for our nation, my prayers go out to Imran Khan for his health and safety. Pakistan needs unity and stability above all else right now. I have immense faith in our institutions and the Pakistan Army to guide our homeland toward a peaceful, strong, and united future. 🇵🇰 Always praying for progress.
یہ بھائی تحقیقاتی صحافی ہے زرا اندازہ کریں میجر جرنل محسن رضائی کو بابا کہہ رہا ہے 72سال کا جو سپریم نینشل کونسل کا ہیڈ ہے۔ جو اس وجہ سے لگا کہ پیچھے کوئی تھا ہی نہیں لیکن فوج کو قومی سلامتی کو خطرہ نہیں ہونے دیا۔
22 جرنیل ، کورکمانڈر، سپریم لیڈر، چیف آف آرمی سٹاف، ڈیفینس منسٹر، نیول ہیڈ، ائیر ہیڈ ، انٹیلی جنس ہیڈ، پاسداران انقلاب چیف، دفاعی کونسل سیکڑری، قومی سلامتی مشیر، بسیج فوج کے سربرارہ، پولیس سربراہ سمیت سب شہید ہوگیے انہیں کہہ رہاہے اور سامنے کون ہے جس کی فوج کا کبھی کوئی جرنیل میدان جنگ میں نہیں شہید ہوا۔
تمام کے تمام مدت ملازمت، دو، 3بار باریاں لے کر مارشل لا لگاتے رہیں ہیں تاحیات استنثیٰ لیا ہوا اور 3دن کی جنگ میں فیلڈ مارشل بن چکے ہیں۔
ثمر بلور جھوٹے کرپشن کے الزامات لگا رہی ہے۔ سہیل آفریدی تو موجود نہیں- مینا خان شفیع جان کسی اور کام میں مصروف ہیں۔ ۔ یہ ہمارے اکنامک گرو جو کراچی میں خیر خریت سے گھر پر موجود ہیں۔ انکو کیا اتنی توفیق نہیں کہ یہ جواب ہی دے دیں ٹوئیٹ کر کے۔