@sadee868 believe in Allah and love💖❤ becauz only love can truly save the world.
#pti supporter and @imrankhanpti soldier...........
follow me for follow back
Time for Pakistan to leave the Board of Peace which it should not have joined in the first place, set up and headed by a man who has launched attacks against 7 countries and whose admin is complicit in Israel's genocide in Gaza
ایک سال میں چینی 50 روپے فی کلو مہنگی ہوگئی ہے بہتر ہو گا کہ پاکستان کے عوام صرف دو ماہ کے لیے چینی کا استعمال چھوڑ دیں شکر یا گُڑ استعمال کریں یہ قیمت 100 روپے فی کلو سے بھی نیچے چلی جائے گی میں آج سے
چینی چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں
#StopUsingSugar https://t.co/k1HLWA00nw
“A false flag operation is being orchestrated along the lines of May 9th (2023) against Afghans and people of the tribal areas. Relations with Afghanistan have been deliberately sabotaged since Asim Munir assumed charge, with continuous provocations to push them into war with Pakistan, all to appease the lobby that opposes the current Afghan government and to project himself before the West as the supposed ‘savior’.
First, grave threats were issued to the Afghan government; then, in blatant violation of religious, moral, and international refugee rights, Afghan brothers who had been residing in Pakistan for three generations were forcibly expelled. Then attacks were launched on Afghan soil, and now, operations have been initiated in the tribal areas under the pretext that ‘terrorists have arrived’.
Because of these policies, our own people are being martyred everywhere: police personnel, soldiers, and innocent civilians being martyred are all our own. This approach can never establish peace. Lasting peace only comes through dialogue.
Now, for the establishment of peace in Afghanistan and the tribal regions, three stakeholders must necessarily be brought together. First, the people of Pakistan’s tribal areas; second, the Afghan government; and third, the Afghan people. No operation can succeed without the cooperation of these three stakeholders, nor can any sustainable solution be found.
What is being attempted in Khyber Pakhtunkhwa is merely to discredit the PTI government. A military operation will only fuel further terrorism, and as the police are diverted to counter rising terrorism, governance and law-and-order will collapse. Such policies were also adopted during the tenure of the ANP government.
All MPAs, MNAs, and Senators of Khyber Pakhtunkhwa must sit together with the Chief Minister to urgently resolve the challenges of the province. Special measures must be taken to maintain peace in those areas recently affected by floods.
Our allies, under the leadership of Mahmood Khan Achakzai, should take a peace delegation to Afghanistan and seek solutions through dialogue.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Family Members in Adiala Jail (September 15, 2025)
2/3
ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم۔۔۔
پاکستان'فلسطین'گلوبل صمود فلوٹیلا کا پرچم ہمارے جھاز پر'۔غزہ کی طرف بحیرہ روم میں۔۔۔۔
گلوبل صمود فلوٹیلا برائے غزہ پرامن انسانی امدادی کاروان ہے گلوبل صمود فلوٹیلا کو تحفظ دو۔
غزہ کی ناکہ بندی ختم کرو غزہ کے لیے انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل کرو غزہ میں جینوسائیڈ کو ختم کرو۔
@Pak_PalForum@gbsumudflotilla
اسرائیلی ڈرون تیونس سے غزہ جانے والے بحری قافلے پر مسلسل پروازیں کر رہے ہیں ایک ڈرون حملے میں دو بحری جہازوں کو نقصان بھی پہنچ چکا ہے لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ہم امدادی سامان کے ساتھ غزہ ضرور جائیں گے حکومت پاکستان غزہ کے لئے ایک ریسکیو اور ریلیف مشن تشکیل دے، مشتاق احمد خان
سائیبر اٹیکس ہوں یا ڈرون اٹیکس'رکیں گے نہیں 'غزہ پہنچیں گے 'ان شاءاللہ۔
گزشتہ چند دنوں سے میرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بشمول وٹس ایپ پر مسلسل سائبر اٹیکس ہو رہے ہیں۔ کچھ ان سے انفرادی سطح کے ہیں اور کچھ انتہائی پیچیدہ ہیں کہ وہ فون کو بعض دفعہ ایسا گلیچ دیتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ فون کسی کی دسترس میں ہے ، یقیناً ان پیچیدہ اٹیکس میں اِزرائیلی قوتیں اور ان کے آلہ کار ملوث ہیں ۔ میں روز اول سے ہی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی حفاظت کے لئے حساس رہا ہوں ، اور آئی ٹی پروفیشنلز بالخصوص سائبر سیکورٹی کے شعبہ سے وابستہ نوجوان تمام حفاظتی چیزوں کو دیکھتے آئے ہیں ۔ اِزرائیلی ریاستی فیکٹر کا تو اس حوالے سے سدباب ایک حد سے آگے نہیں کیا جا سکتا ، پر انفرادی سطح پر ہونے والے اٹیکس کے حوالے سے چند گزارشات عرض ہیں:
اگر میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بشمول وٹس ایپ کمپرومائز ہو جاتے ہیں تو چند چیزوں کا خیال رکھیں ۔
۱: میں نے کبھی بھی فلسطین کاز، ڈاکٹر عافیہ کیس اور دیگر کسی بھی کاز کے لئے ڈونیشنز ، چندے اور عطیات نا مانگے ہیں نا جمع کیے ہیں اور نا وصول کیے ہیں ۔ میں خدمت اور سیاست کا پورا کام عبادت سمجھ کر کرتا آیا ہوں اور اِسے اپنے ذاتی مال سے ، اپنے والد صاحب (اللہ تعالی ان کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھیں ۔ آمین) اپنے خاندان اور اپنے ایک دو انتہائی قریبی رفقاہ کے تعاون سے کرتا آیا ہوں۔ اِس لئے اگر کسی کو میری طرف سے عطیات یا تعاون کے حوالے سے کوئی پیغام یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹس کی صورت میں اپیل آئے تو وہ میری طرف سے نہیں ہو گی ۔ کسی بھی ایسی درخواست کا کوئی رسپانس نا کریں ۔
۲: اگر میرے حوالے سے کوئی حادثاتی ، یا افسوس ناک خبر آ جائے تو اس پر مختلف ذرائع سے مکمل تحقیق کرنے کے بعد ہی اسے نشر اور آگے بھیجیں۔
۳: کچھ بعید نہیں کہ خدا نا خواستہ اکاؤنٹس کمپرومائز کر کے نا مناسب مواد نشر کر دیا جائے۔
۴: میری سیاسی و نظریاتی وابستگی کے حوالے سے من گھڑت و جھوٹی افواہ پھیلائی جا سکتی ہیں ۔
۵: شعائر اسلام، وحدت اُمت اور ملکی و قومی مفاد کے حوالے سے کوئی خبر یا بات میری جانب منسوب کی جا سکتی ہے ۔
۶: میری جدوجہد و نظریات چاہے وہ قومی سطح کے ہوں یا عالمی سطح کے وہ قارئین کے سامنے ہیں ، ان پر میرے کمپرومائز یا “رجوع “ کے حوالے سے جھوٹی خبر نشر کی جا سکتی ہے ۔
۷: کوئی ڈاؤنلوڈ لنک دیا جائے جائے ، جیسے کے کوئی ایپ، ویڈیو یا وہ لنک جو آپ کو ایسے صفحہ پر لے جائے جہاں آپ سے کوئی تفصیلات ذاتی، مالی یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس لوگن وغیرہ کے لئے طلب کی جائے ۔ انہیں قطعا نہیں کھولیں یا مطلوبہ تفصیلات مت انٹر کریں ۔
مشتاق احمد خان
مسافر: گلوبل صمود فلوٹیلا
مقام: آبنائے سیسلی بحیرہ روم۔
(Strait Of Sicily' Mediterranean)
خاموشی'غیر جانبداری جرم میں شراکت ہے'قتل عام میں سہولت کاری ہے'خاموشی 'غیر جانبداری چھوڑئیے' کھل کر ناجائز ریاست ازرائیل کے خلاف اور مظلوم فلس طینیوں کیساتھ کھڑے ہوجائیے۔
آواز اٹھائیے 'قدم۔بڑھائیے 'گلوبل صمود فلوٹیلا برائے غ زہ میں اپنے اپنے مقام سے کردار ادا کیجئے۔
@GlobalSumudF
@gbsumudflotilla@Pak_PalForum
باجوڑ کی بے گھری کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اگلی باری مہمند کی ہے اور آگے بھی یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ جس ملاکنڈ سے ہم نے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا تھا اب وہاں بھی انہیں پھیلایا جارہا ہےاورکچھ ہی ہفتوں میں آپ کو وہاں بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملے گی۔ لوگ کتنی تعداد میں نکلے، ان کا کیا مطالبہ ہے اس سے سروکار اس ریاست کو ہوتا ہے جو ماں ہو ہمارے یاں وہ ڈائن ہے!
صوبائی حکومت نے پہلے فریقین کے مابین جرگوں کے زریعے معاملات سنبھالنے کی کوشش کی (اگرچہ میری پہلے ہی ان سے یہی گزارش تھی کہ ان کے حوالے سے کوئی خوش فہمی پالنے سے گریز کریں اور جرگے سڑکوں پر ہوں) میری توقع کے عین مطابق فوج ملکی مفاد کو ذاتی مفادات پر قربان کرنے کی اپنی دیرینا روایت سے پہلو تہی کرنے پہ نہ دو سال قبل راضی تھی نہ آج راضی ہوئی۔
نتیجہ وہی ہے جس کا خدشہ تھا۔
اگست ۲۰۲۲ میں اسلام آباد میریٹ ہوٹل میں دہشت گردی پر کانفرنس میں یہ سارا پلان بیان کیا تھا۔ اگست ۲۰۲۵ اور حرف با حرف وہی سب ہورہا ہے۔ ہمارے وہ لوگ جو امن کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں انہیں اور ان کے عیال کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ان کے گھروں پر گرنیڈ پھینکے جاتے ہیں، سروں پر ڈرون اڑائے جاتے ہیں۔ انہیں دہشت زدہ کرکے ان کی آوازیں دبائی جارہی ہیں۔ خیبر پختونخواہ کے علاوہ باقی ملک میں اس وقت امن آشتی کا دور دورا ہے، اگلے چند روز میں آپ سڑکوں پر ہری جھنڈیوں کی بہار دیکھیں گے اور نادیدہ ترقی کے شادیانے بجیں گے مگر پردے کے پیچھے سب اچھا نہیں ہے! اور جب تک باقی ملک کو اس بات کا ادراک ہوگا تب تک آگ آپ کی دہلیزوں تک بھی پہنچ چکی ہوگی۔ پہلے بھی یہی وارننگز دےچکا ہوں تب بھی میں فسادی تھا اور فوکس تحریک انصاف کو کچلنا تھا۔ آج بھی میں غدار ہوں اور پرائرٹی سیاسی کارکنان کو دس دس سال سزائیں سنا کر اور عمران خان کی بہنوں اور کارکنان کو قید میں ڈال کر اپنی اناؤں کی تسکین ہے۔ مگر جب آگ پھیلے گی تو پھر نا وہ بال بچہ محفوظ رہیگا جن کی خاطر دوسروں کی اولادوں کو موت کے مونہہ میں دھکیل رہے ہیں اور نہ وہ مال دولت کام آئیگا جس کے عوض وطن بیچ کر اپنے لوگوں کو دربدر کررہے ہیں۔ اور وہ جو خاموش ہیں۔۔ جو سب دیکھتے جانتے بوجھتے انجان ہیں۔۔ یقین مانیں آپ جیسوں سے بھی قبرستان بھرے پڑے ہیں۔
رہی ہماری بات کہ ہم کیا کررہے ہیں؟
۲۰۲۲ سے جب ان کی آبادکاری کی جارہی تھی تب سے آج تک ہم ہی رکاوٹ ہیں۔ ۲۰۲۲ میں بھی دو مرتبہ ہم نے ہی انہیں واپس دھکیلا تھا۔ ابھی بھی ایک سال سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو موبلائیز کرکے امن کا جھنڈا لہرا کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہمارے امن کے جھنڈے کو ہمارے خون سے رنگا جارہا ہے لیکن ہمارے پاس خاموشی کا آپشن نہیں ہے چاہے ہمارے سروں کی قیمتیں لگیں، گھروں پر گولے گریں، یا ہم پر ہماری گلیوں میں ہمارے ٹیکس کے پیسوں کی گولیاں برسائی جائیں،ہمیں اپنا انجام معلوم ہے۔
ہمارے آپسی جرگے میں پانچ نکاتی لائحہ عمل پر اتفاق ہوا ہے۔ جس پر کل سے عملدرآمد شروع ہوجائیگا۔ گروانڈ پر موجود اپنے ساتھیوں کے تحفظ کی خاطر اس وقت یہاں ان نکات کی تفصیل بیان کرنا مناسب نہیں ہوگا مگر اپنے لوگوں کو یہ باور کرادوں کہ عمران خان کے نظریے اور سوچ کے مطابق ہم کسی کو بھی اپنے لوگوں کو کسی اور کےمفادات کی آگ میں جھونکنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
@iqrarulhassan With the peace deal yes its an open book I don’t see anything bigger like the ones your papa is doing right now in American interest like mineral deals oil deals operations in kpk and much more