سجدے کی حالت میں دماغ کا جائزہ لیا تو فائدوں نے سائنسدانوں کی آنکھیں کھول دیں
جب نمازی سجدے میں جاتا ہے تو اسکا سر نیچے زمین کو چھو رہا ہوتا ہے اور دھڑ ذرا اونچا ہوتا ہے۔ ہمارے تو ایمان کا حصہ ہے کہ اس حالت میں انسان اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ مگر کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ سجدے میں جانے کے صرف روحانی ہی نہیں بلکہ جسمانی فائدے بھی ہیں۔ جب انسان اس حالت میں ہوتا ہے تو اسکا دماغ کچھ حیرت انگیز کام کرتا ہے۔ عام طور پر جب ہم کھڑے ہوتے ہیں تو دل کو دماغ کی طرف خون پہنچانے کےلئے اضافی زور لگانا پڑتا ہے۔ لیکن جب سجدے کی حالت میں سر نیچے کو ہوتا ہے تو کشش ثقل کی وجہ سے دماغ اور سرکی طرف خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے۔ جس سے دماغ کے سامنے والے حصے کو تازہ آکسیجن سے بھرپور خون پہنچتا ہے۔ یہی وہ حصہ ہے جو انسان کی نہ صرف شخصیت بناتا ہے بلکہ اسے فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے ساتھ ہی ساتھ دباؤ اور تناؤ بھی کم کرتا ہے۔ یوں نماز میں رب کے سامنے اپنا سر جھکانے سے آپ اعصابی نظام کو ری فریش کرتے ہو اور دماغ کو صحت مند بناتے ہو۔ شائد اسی لئے ہم سجدے میں تسبیح کرتے ہیں کہ *"پاک ہے میرا رب جو سب سے اعلیٰ ہے"*
NORWAY IS IN FLAMES 🇳🇴🇮🇱
A wildfire tore through townhouses, destroying hundreds of homes and forcing evacuations.
It happened two days after Norway voted to ban all goods and investments linked to illegal Israeli settlements in the West Bank.
Just a coincidence?
New York Mayor Zohran Mamdani says Israeli PM Netanyahu is "a war criminal" charged by the International Criminal Court. He says he's consulting the Law Department on whether NY police could arrest Netanyahu during his September visit.
🔴 Live updates: https://t.co/Xz5afxkvl8
باپ کو 70 فیصد جگر دینے والا نوجوان:اپنے والد کی زندگی بچانے کے لیے اس نوجوان نے اپنے جگر کا 70 فیصد حصہ عطیہ کر دیا۔ والد کو جگر کا کینسر تھا، جس کے بعد کامیاب آپریشن کیا گیا۔ آپریشن کو اب تقریباً دو ماہ گزر چکے ہیں۔ نوجوان کے مطابق اس وقت معمولی کمزوری کے علاوہ کوئی خاص سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق جگر کو مکمل طور پر ریکور ہونے میں مزید تقریباً 4 ماہ جبکہ جسم کو پہلے جیسی صحت اور حالت میں آنے میں تقریباً 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔ سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ الحمدللہ آپریشن کے بعد والد کی صحت بھی بہتر ہے اور وہ خیریت سے ہیں۔
اس نوجوان کا پیغام ہے کہ اگر کسی ضرورت مند کی جان جگر عطیہ کرنے سے بچ سکتی ہو، اور ڈاکٹرز آپ کو اس کے لیے موزوں قرار دیں، تو ضرور اس پر غور کریں۔ اس کے مطابق اس عمل سے ایک انسان کی زندگی بچ سکتی ہے، جبکہ عطیہ کرنے والے کا جگر وقت کے ساتھ دوبارہ اپنی صلاحیت بحال کر لیتا ہے۔
اس ہیرو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہماری نسل کو ایسے حقیقی رول ماڈلز کے بارے میں معلوم ہو، اور زیادہ سے زیادہ لوگ ضرورت مند مریضوں کے لیے جگر عطیہ کرنے جیسے عظیم انسانی جذبے کی طرف ترغیب حاصل کریں۔
مصر کے ابھرتے ہوئے اسٹار فٹ بالر مصطفیٰ زیکو نے اپنے ماضی کے کٹھن حالات اور سڑکوں پر راتیں گزارنے کی دل دہلا دینے والی داستان شیئر کر کے دنیا بھر کے مداحوں کو آبدیدہ کر دیا ہے۔
ایک حالیہ جذباتی انٹرویو میں اپنے ماضی کی کسمپرسی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ والد کے انتقال کے بعد ان کا خاندان اس حد تک معاشی بحران کا شکار ہوا کہ کھانے کے لیے کپڑے تک بیچنے پڑے جبکہ فٹ بال کا خواب پورا کرنے کے لیے ان کے پاس رہنے کا ٹھکانہ تک نہیں تھا۔
زیکو کا کہنا تھا کہ وہ رات کو سڑک پر سوتے تھے اور صبح اٹھ کر مسجد کے غسل خانے میں نہا کر ٹریننگ کے لیے نکل جاتے تھے۔ سڑکوں پر جوتے بیچنے اور سخت ترین حالات کا مقابلہ کرنے والا یہ مجبور نوجوان آج اپنی بے پناہ محنت اور پختہ عزم کی بدولت مصر کی قومی فٹ بال ٹیم کا ایک چمکتا ہوا ستارہ بن چکا ہے۔