نواز شریف میرے بچپن کا عشق
نواز شریف کو اپنے سے جدا نہیں کر سکتا
Electrical Engineer by degree.
M.Eng. Information systems Security.
Network Administrator
پختونخواہ سے جتھے پنجاب اور ڈی چوک آ کر جلاؤ گھیراو کریں گے تو ان پر مقدمہ نہیں ہوگا اگر کوئی ان کے خلاف بات کرے گا تو کمیٹی یہاں آ کر سزا سنا دے گی
ہائیکورٹ سپریم کورٹ جج سب ختم کر دیا اصل واردات یہاں ڈالی گئی لیکن راتب خور خاموش ہیں 😂😂
وہ بھی کیا دن تھے جب امت مسیلمہ کے عظیم لیڈر عمران خان ماچھیکے شیخوپورہ کی مشہور و معروف “کشتی “ فرح گوگی کی حمایت میں تلواریں نکال کر میدان میں آگیا تھا
ڈسکلیمر رضا ڈار سے وہی سلوک کیا جائے جو ایک مجرم کے ساتھ ہوتا ہے
مزید ڈسکلیمر یہ کشتی چپو والی نہیں ہے
مسٹر پتلو سارا دن سو کر فریش ہوتا ھے
پھر ساری رات يوتهیوں کو تگنی کا ناچ نچاتا ہے
غلط جگہ پنگا لے لیا یوتھیو
یہ تمھاری ٹکر کے بندہ ھے نہ چھوڑے گا نہ سانس لینے دے گا
اپنی باری ان کا حال یہ تھا کہ ٹرمپ کو قریب سے دیکھ کر آئے تو ایر پورٹ پر کلٹ کے خوشامدی وزرا لائن بنا کر کھڑے تھے. جنہیں دیکھ کر صاحب ترنگ میں آ گئے اور فرمایا : ایسے لگ رہا ہے جیسے میں ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں.
اور اب یہ عالم ہے کہ ٹرمپ اور اس کے نائب صدر کے ساتھ ساتھ دنیا پاکستان کی تعریفیں کر رہی ہے لیکن یہ اپنے وجود کے جہنم میں جل رہے ہیں. پاکستان کے بارے میں اچھی خبر آتی ہے تو انہیں "بواسیر سمیت جملہ امراض چشم" لاحق ہو جاتے ہیں.
امریکہ کے تہلکہ خیز اسٹریمر اور سیاسی مبصر حسن پیکر نے وزیراعظم شہباز شریف کی امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ لیک لوسرن سمٹ کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے بہترین سوٹ اور انکی خوش لباسی پر تبصرہ کیا-
پائیکر نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کے سوٹ کی عمدہ سلائی کو تسلیم کرنے اور تعریف کرنے پر مجبور ہیں- "مجھے خود ایک سوٹ زیب تن کرنے والے آدمی کے طور پر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کے سوٹ بہترین سے بھی اعلیٰ ہیں،" انہوں نے کہا۔ "یہ آدمی کوئی موقع نہیں چھوڑتا، بھائی، وہ نہیں چھوڑتا"-
پائیکر نے نوٹ کیا کہ شہباز شریف اپنی مسلسل مضبوط پرفارمنس کے باوجود اپنے سٹائل کا کافی کریڈٹ نہیں لے پاتے- اس نے مزید کہا "سیاسی طور پر میں اس لڑکے کا بڑا پرستار بھی نہیں، لیکن ایمانداری سے کہتا ہوں، بہت اچھا لگتا ہے،"-
پائیکر نے اس تبصرے کے دوران خود اپنے آپ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ "کوئی شخص اس وقت تک صحیح معنوں میں سوٹ والا آدمی نہیں ہوتا جب تک کہ وہ میچنگ پتلون نہ پہن لے اور شہباز شریف حقیقی طور پر نان اسٹاپ فٹ پہنتے ہیں-
پائیکر نے مردانہ لباس کے تبصرہ نگار ڈیریک گائے کا بھی ذکر کیا، یہ کہتے ہوئے کہ انہیں یقین ہے کہ گائے بھی شہباز شریف کیلئے میری تشخیص سے متفق ہوں گے- اس نے کہا کہ جب مرد عالمی اسٹیج پر نمودار ہوتے ہیں تو اکثر غیر مغربی ممالک کے رہنما ہوتے ہیں جو مغربی طرز کی عمدہ ترین سلائی میں نظر آتے ہیں اور شہباز شریف اس کی ایک بہترین مثال ہیں-
یہ پہلا موقع نہیں جب شہباز شریف کی سلائی نے بین الاقوامی سطح پر توجہ مبذول کروائی ہو- اپریل میں، فیشن میگزین پوٹ دی آن کے ایڈیٹر ڈیرک گائے نے بالکل اسی کے لیے وزیر اعظم کو X پر فلیگ لگایا تھا- انہوں نے جاپانی شہنشاہ ناروہیٹو اور نائیجیریا کے ماہر معاشیات اکینوومی اڈیسینا کے ساتھ شہباز شریف کی تصاویر پوسٹ کیں اور لکھا کہ "خوبصورت مغربی طرز کی ٹیلرنگ اکثر غیر مغربی ممالک کے مرد پہنتے ہیں"- گائے نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شہباز شریف کے لباس کی طرف اشارہ کیا تھا، جہاں انہوں نے خاکستری رنگ کا ڈبل بریسٹڈ کوٹ پہنا تھا جس میں میچنگ ٹراؤزر، ہلکی بھوری رنگ کی قمیض اور گہرے بھورے آکسفورڈز تھے-
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اس معاہدے میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تو پھر کردار کس کا ہے ؟؟؟
اس معاہدے کے تین ہی تو فریق ہیں اور تینوں کے سائن ہوئے اس پر
امریکی صدر نے جی سیون کے اجلاس (فرانس)میں سائن کیئے
ایرانی صدر نے تہران میں سائن کیئے
اور تیسرے فریق پاکستان ( ثالث) نے اسلام آباد میں سائن کیئے تینوں سائن آن لائن ہوئے یہ ساری دنیا نے دیکھا اور سنا
تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں گے تو پاکستان کا کردار ضرور نظر آنے لگے گا
JD Vance:
I have joked that I have two very, very important people in my life.
An Indian and a Pakistani.
The Indian is my wife, and the Pakistani is Field Marshal Munir.
آپ سب نے ایک کام کرنا ہے!
یہ کلپ ڈاونلوڈ کرکے اپنے قرب و جوار میں موجود یوتھی بھائیوں کے ساتھ شئیر کردینا ہے۔
ساتھ آواز اونچی کردینی ہے۔
تاکہ یوتھی بھائیوں کو پتہ چل جائے کہ پاکستان بھی سوئٹزرلینڈ گیا ہے۔
انکو اب تک یقین نہیں آ رہا کہ پاکستان کو بلایا گیا تھا۔
1968ء میں منگلا ڈیم کی تعمیر کے بعد معاوضے لے کر برطانیہ ہجرت کرنے والی پہلی نسل نے کشمیر پر ڈوگرا راج کا ظلم دیکھا تھا۔ ان کے لیے پاکستان ان کی شہ رگ اور جان سے پیارا تھا۔ ان کی اگلی اولادوں نے بھی پاکستان سے بے پناہ محبت کی۔ لیکن آج تیسری نسل (Gen-Z) سامنے ہے، جو یا تو کبھی پاکستان آئی نہیں یا صرف چند دنوں کے لیے سیر سپاٹے پر آتی ہے۔ ان کے دلوں میں نہ پاکستان کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی کشمیر کاز کی۔برطانیہ میں مقیم اس نئی نسل کا ایک بڑا حصہ وہاں کے سوشل ویلفیئر کے ٹکڑوں پر پل رہا ہے۔ را (RAW) نے ان بیروزگار اور فکری طور پر خالی نوجوانوں کو ہائر کیا، انہیں فنڈز دیے اور اب یہی زہریلا انڈین ایجنڈے کا پیسہ آزاد کشمیر بھیجا جا رہا ہے۔ یہاں کی عام، ان پڑھ تاجروں پر مشتمل ایکشن کمیٹی نے جزباتی نعروں سے اس نئی نسل کو گمراہ کر دیا ہے۔ ان بچوں کو معلوم ہی نہیں کہ انہیں کس بھیانک مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔پشتو کی ایک مشہور مثل ہے
سل دې مړه شي، مشر دې نه مړه کیږي
یعنی سو مر جائیں لیکن قوم کا بڑا سردار سلامت رہے، کیونکہ اسی سے نظم و ضبط قائم رہتا ہےمگر افسوس! یہ گمراہ بچے آج اپنے بزرگوں کی بات ماننے کو تیار نہیں، یہ انڈین فنڈڈ سوشل میڈیا کے زہریلے نعروں کے پیچھے لگ کر اپنے ہی معزز اور بزرگ سیاستدانوں کی تذلیل کر رہے ہیں۔ایک دور تھا جب برطانیہ (ولایت) سے آنے والے شخص کو سلجھے ہوئے، مہذب اور عقل و شعور والے انسان کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ لیکن کچھ عرصے سے پہلے ہم نے یوتھیا مخلوق کی بدتمیزی دیکھی، اور اب برطانوی کشمیری ایکشن کمیٹی کے ان اراکین کو دیکھ رہے ہیں۔ خود اندازہ کریں، کیا یہ کسی مہذب ملک کے شہری لگتے ہیں؟ یہ بدزبان، بدکلام اور بداخلاق ٹولہ سوشل میڈیا پر ماں بہن کی غلیظ گالیاں دیتا ہے اور انتہا پسندی کی حد پار کرتے ہوئے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے سروں کی قیمتیں مقرر کر رہا ہے،سوشل سیکیورٹی کے خیرات خوروں کو یہ اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی کہ وہ ولایت میں بیٹھ کر پاکستان کی سلامتی اور کشمیر کاز پر شب خون ماریں۔ ان کی فنڈنگ لائنز کو فوری بلاک کیا جائے اور ان کے خلاف برطانوی حکومت اور انٹرپول کے ذریعے سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے!
#NationalSecurity #KashmirCause #RawNetworkExposed #PakistanFirst #ZeroTolerance
لیکن جہاں تک تاریخ بتاتی ہے انگریز جرنل سنڈیمن کی رتھ کو بلوچوں نے گھوڑوں کی بجائے صرف خوشامد کے لیے خود کھینچا تھا اور ان میں آپ کا کوئی بزرگ ایک بگٹی سردار بھی شامل تھا ۔۔۔ یہاں نواب اکبر بگٹی نے ہاتھ کھڑے کردیے اور کہا سہیل وڑائچ واقعی آپ جیت گئے ۔۔۔۔
Cpd
بھارتی مسخرہ اور جاھل یوتھئے۔
بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کے موازنے میں جذبات نہیں، حقائق دیکھنے چاہئیں۔ آبادی، قرض، بجٹ اور زمینی حقائق کو نظرانداز کر کے مفت بجلی جیسے نعروں پر واہ واہ کرنا آسان ہے، مگر اصل کامیابی پائیدار معیشت اور عوامی فلاح کے متوازن فیصلوں میں ہوتی ہے۔
Following my resolve for a Digital and Safe Punjab, we are introducing the QR Panic Button across public transport, including buses, rickshaws and taxis.
The safety of women, girls, children, senior citizens and every commuter remains my top priority. With a simple scan, passengers can instantly verify vehicle and driver details, share their live location with family members, and connect with Emergency-15 through voice call, video call or live chat in any emergency.
The system automatically shares the passenger’s live location and vehicle information with the Safe City Control Room, enabling real-time monitoring and rapid police response through the Safe Cities network.
Vehicle owners and drivers can obtain the QR Panic Button free of cost through the PSCA website & App.
Developed through @PSCAsafecities indigenous innovation and integrated with Punjab’s Safe Cities and Emergency 15 systems, this initiative transforms every public transport vehicle into a connected safety point, making help just one scan away.
#DigitalPunjab #SafePunjab
ہم سندھ والوں نے پی پی حکومت میں بنگلے بنائے بچے انجینئر ہوگئے اب گلگت والوں کی باری ہی انہوں نے پی پی سے یاری کی ہے گلگت کے تین چار پہاڑ تو پی پی نے سر پہ ہاتھ پھیر کر غائب کر دینے ہیں۔
یار کمال کا طنز و مزاح ہے !
ابصار عالم شدید غصے میں۔
سرکاری نوکری اگر میں نے جمہوری دور میں کی ہے تو ایک ڈکٹیٹر مشرف کے ہیلی کاپٹر سے لٹک کر سرکاری نوکری کی۔ جانور بھی اگر کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھا لے تو لحاظ رکھتا ہے۔
تکبر اور میں نکالنے کا مشورہ۔