میں کلمہ پڑھ کر کہتا ہوں، میں عمران خان کو صرف پاکستان کی بہتری کے لئے سپورٹ کر رہا ہوں۔ نا کوئی ذاتی فائدہ ہے اور نا پارٹی سے کوئی تعلق ہے۔
آپ خان صاحب کو کیوں سپورٹ کر رہے ہیں؟
جواب ضرور دے
#May9th_FalseFlag
پنجاب پر مسلط کی گئی ناجائز حکومت اور ان کے ہینڈلرز کی جانب سے تحریک انصاف کے کارکنان پر ایسا ظلم کیاا جا رہا ہے جو سن کر ہر مسلمان شرمسار ہو رہا ہے- لاہور میں عید میلاد النبی ﷺ کی تیاری کرتے ہوئے تحریک انصاف کے ورکرز کے خلاف غیرقانونی چھاپے اور پکڑ دھکڑ کے دوران ہمارے سینئیر کارکن اشتیاق احمد کو گرم تیل کے کڑاھے میں گرایا گیا اور وہ جسم جھلسنے کی وجہ سے آج شہید ہو گئے- انا للہ وانا الیہ راجعون
میں کل لاہور میں اشتیاق شہید کے گھر جاؤں گا اور اس کے بعد لاہور میں ہی پنجاب سٹریٹ موومنٹ کا لائحہ عمل دوں گا !!
IMRAN KHAN’S LIFE IS NOW CLEARLY IN DANGER!
Imran Khan has repeatedly warned: “They will kill me as they killed Morsi in Egypt.”
Imran Khan was fit and healthy before being placed in complete isolation in October 2025. By the end of December, he began losing sight in one eye. Despite repeatedly informing the jail superintendent he cannot see, he was denied medical attention for nearly two weeks. When a doctor was finally allowed to examine him, Imran Khan was told that the delay had caused permanent damage to his eye. There are at least a dozen CCTV cameras around his cell. The agencies monitoring him knew he could not see in one eye. The treatment was delayed with criminal intention.
Since then, while almost no genuine information is allowed out of Adiala Jail, medical reports and supposed “inside information” about his health have intentionally leaked. By the end of July, social media was suddenly flooded with claims that his health was deteriorating, his hands and lips were trembling, his blood pressure was unstable, and that prolonged isolation was affecting him mentally. These reports were accompanied by fake and AI-generated images portraying him in wheelchairs and hospital beds.
Why is this narrative being created?
Because his captors believed he would not be able to withstand the extremely harsh conditions he was being kept in. They believed he would break, that eventually he would give up on the people of Pakistan and try to save himself.
He did not.
When he refused to give in they subjected him to extreme torture through complete isolation from human contact. Except for irregular weekly visits with his wife who is also in the same jail.
Yet he still stands defiant and because they could not break him, they have now begun creating a fake narrative and fake optics around Imran Khan’s physical and mental health.
On 18 August 2026, the Supreme Court ordered that Imran Khan be shifted to Shifa International Hospital for an independent medical examination and treatment, in the presence of Dr. Uzma Khan and his personal doctor, Dr. Faisal Sultan. The order carried a two-day deadline. He should have been shifted by 20 August. The order has still not been implemented.
What is the government hiding that it is willing to defy the Supreme Court rather than allow an independent medical examination?
We are left with no option but to come out on the streets peacefully with two clear demands:
1. Immediately shift Imran Khan to Shifa International Hospital for a complete independent medical examination and treatment, in compliance with the Supreme Court orders of August 18, 2026.
2. Chief Justice Sarfraz Dogar who has failed to take up Bushra Bibi and Imran Khan’s bail applications for over 22 months in the Al-Qadir case and 9 months in the Toshakhana case should either dispense justice or step aside.
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
@fawadchaudhry@AliBinger Tum rehny do history bahadaro ka kaam hai… u stabbed IK and submitted stamp paper to mil estb… u r only trying to present CV to PMLN and PPP….
ہماری زمین پر پرائی جنگ لے آو پھر ہمارے بے گناہ لوگ شہید کریں ہماری وسائل پر قبضہ بھی کریں اور آخر میں ہم کو ہی الزام دیں۔۔۔
ویسے پنجاب کی کون سی حقوق ہیں جو ابھی تک نہیں ملے آپ کو۔۔۔
@fawadchaudhry
موجودہ حالات کے پیش نظر سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کا مضافاتی پولیس چوکیات کا دورہ۔
فرنٹیئر روڈ، سیال خوڑ، نرگس اور باڑہ شیخان چوکیات میں سکیورٹی انتظامات، نفری اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا۔ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی فرض شناسی کو سراہتے ہوئے نقد انعامات دیے
مریم صفدر کا دہشت گردی جیسے سنگین قومی معاملے پر غیر ذمہ دارانہ بیان انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر سیاست چمکانا مسلم لیگ ن کا پرانا وطیرہ ہے۔
مینڈیٹ چور وزیراعلی کا بیان صوبوں کے مابین نفرت اور بد اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش ہے،خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کا کردار ادا کیا ہے،خیبرپختونخوا کی پولیس اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
مریم صفدر کو معلوم ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک صوبے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، دہشت گردی پر قومی یکجہتی کی ضرورت کے وقت مریم صفدر دہشت گردی جیسے حساس مسئلے کو صوبائیت کی بھینٹ چڑھا رہی ہیں،جنہوں نے کبھی یونین کونسل کا الیکشن نہیں لڑا، آج وہ دہشت گردی جیسے سنگین قومی معاملے پر بھاشن دے رہی ہیں۔
خیبرپختونخوا اور دیگر صوبوں پر انگلی اٹھانے والی مریم صفدر سجن جندال کے ملک کے خلاف بات کرنے سے کیوں کتراتی ہیں؟
مریم صفدر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے دہشت گردی کے خلاف دیگر صوبوں کی قربانیوں کا اعتراف کریں۔
دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دینے والے صوبوں کو ہی خطرہ قرار دینا انتہائی افسوسناک سوچ ہے،فارم 47 کی جعلی وزیراعلیٰ کو غیر ذمہ دارانہ بیان پر عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔
شریف خاندان کے دلوں سے ہمیشہ بھارت کے لیے پیار ابھر کر نکلتا ہے اور اپنے ہی چھوٹے صوبوں کے لیے نفرت۔ پنجاب کی جعلی وزیراعلی آج کھل کر اس بات کا اظہار کررہی ہے کہ اس کو انڈیا سے نہیں اپنے پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے ۔ ان کی نیت ایک بار پھر پاکستان کو توڑنے کی ہے۔
پاکستان کا اصل دشمن کون ہے، اس کا فیصلہ اب ان اقتدار بھوکوں کی پسند و ناپسند پر ہونے لگا ہے۔ پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کا اپنے ہی ملک کے پڑوسی صوبوں سے خطرہ محسوس کرنا اور ان کے خلاف سخت زبان استعمال کرنا انتہائی افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ جب ایک صوبائی سربراہ اپنے ہی ہم وطنوں کے ساتھ اتحاد اور یکجہتی قائم کرنے کے بجائے ان کے خلاف نفرت اور تفریق کو ہوا دے، تو اس سے وفاق کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ شریف خاندان کا یہ رویہ نیا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی نریندر مودی جیسے متعصب بھارتی رہنما کے ساتھ ذاتی مراسلت، بغیر ویزا جاتی امرا میں ان کی میزبانی اور بھارتی جارحیت پر مسلسل پراسرار خاموشی نے ہمیشہ شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف روایتی دشمن سے لچکدار رویہ اور پینگیں بڑھانے کی کوششیں کی جاتی ہیں، تو دوسری طرف اپنے ہی چھوٹے صوبوں اور ہم وطنوں کو خطرہ قرار دے کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہ طرز عمل ثابت کرتا ہے کہ اقتدار کی بقا کے لیے ملکی سالمیت اور صوبائی ہم آہنگی کو داؤ پر لگانا ان کا پرانا طریقہ کار ہے۔ اگر اپنے ہی ملک کی اکائیاں اور اپنے ہی لوگ آپ کو دشمن اور خطرہ نظر آنے لگیں، تو مسئلہ پڑوسی صوبوں میں نہیں بلکہ آپ کی اپنی سوچ اور ترجیحات میں ہے۔