Giving the Prime Minister a few days
Will not give up on his long march
Hafiz Naeem-ur-Rehman's big announcement
4
Bhatta levy Namanzoor
Jamaat e islame
No More Bhatta levy
#بھتہ_لیوی_ختم_کرناپڑے_گا
قادیانی مذہب سب سے بڑا کارنامہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جہاد ختم کر دیا،اب شریعت میں جہاد کا کوئی تصور نہیں ہوگا۔
یہ کس کے لیے کیا تھا؟ یہ اس لئے تھا کہ انگریز کے خلاف آزادی کی جنگ برصغیر کا مسلمان نہ لڑے،مسلمانوں کو اپنی آزادی اور شریعت کی جنگ لڑنے سے روکا جاتا ہے۔
لیکن انگریز خود قادیانی مذہب جس کا خودکاشتہ پودا ہے،جنگ عظیم اول اور دوم میں مغرب کی گولیوں سے کروڑوں لوگ قتل کردئے گئے پورے ملک اور وطن تباہ ہوگئے،قادیان کی جہاد ختم کرنے کا خہی مطلب تھا کہ مسلمانوں کو جہاد سے روکا جائے اور انگریز کو مسلمانوں کے خلاف قتل عام کی راہیں ہموار کی جائیں
افغانستان میں بیس سال تک پورے نیٹو نے جنگ لڑی،عراق لیبیا میں لیبیا اور پھر غزہ میں ستر ہزار سے زیادہ مسلمان، بچوں، بچیوں، خواتین، بوڑھوں کو شہید کیا۔
یہ کیسی انسانیت ہے؟ کیا مسلمان کا خون اتنا سستا ہے؟
اگر فلسطینیوں کا قتلِ عام ہوتا ہے تو امریکہ اسرائیل کا ساتھ دیتا ہے،اسرائیل کو اسلحہ دے کر ایک ناجائز حکومت کو طاقتور بناتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا،پاکستان نے کوشش کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحت ہو،آج پھر یمن سے کچھ قوتیں اٹھ رہی ہیں اور حرمین پر حملہ کرنے کی جرأت کر رہی ہیں۔
میں علی الاعلان سعودی عرب کی قیادت کو پیغام دیتا ہوں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین کی حفاظت کے لیے شانہ بشانہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے میدانِ جہاد میں اترنے کو تیار ہے۔
کہتے ہیں کہ دو خاندانوں سے جان چھڑانے کے لیے نئے صوبے بنا رہے ہیں تو میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھے یہ تو بتلا دو کہ تو پھر دو خاندانوں کو کرسی پر کون بٹھاتا ہے اور کون اتارتا ہے؟عوام نے تو ووٹ نہیں دیا، پھر یہ دو خاندان کرسی پر کیسے آتے جاتے ہیں؟
علامہ راشد محمود سومرو کا اپیٹ آباد میں خطاب
آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔
بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔
اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔
مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔
حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟
وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔
اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔
حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔
ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟
آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔
لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔
پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔
سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔
اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔
قو�� کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔
پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے،عوام کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہے اور نہ کوئی حکومت موجود ہے،جو حکمران ہیں انہوں نے کان اور آنکھیں بند کر رکھی ہیں، ان کو نہ کچھ نظر آرہا ہے اور نہ کچھ سننے کو تیار ہیں۔
آج جو حکمران ہیں کل یہی لوگ ہمارے ساتھ کنٹینروں پر پچھلی حکومت پر تنقید کرتے تھے کہ ملک پر بیرونی قرضوں کا دباؤ ہے،آج وہ دباؤ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔
کوئی آواز بلند کرے تو اس کے خلاف اندھا دھند طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔
جےیوآئی گڈاپ کے امیر کے ادارے پر
قبضہ مافیا کا دھاوا قابل مذمت ہے ۔
شیدی ویلیج میں جےیوآئی گڈاپ ٹاؤن کے امیر مولانا عبدالقیوم صدیقی کے ادارے پر قبضہ مافیا کا دھاوا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
اطلاعات کے مطابق قبضہ مافیا کے کارندوں نے پولیس کی مبینہ سرپرستی میں ادارے میں داخل ہوکر قبضے کی کوشش کی، جبکہ مزاحمت پر جمعیت علماء اسلام گڈاپ ٹاؤن کے امیر مولانا عبدالقیوم صدیقی اور دیگر کارکنان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔
ہم اس بزدلانہ اور شرپسندانہ کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ حکامِ بالا فوری طور پر واقعے کا نوٹس لیں، واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ادارے پر قبضے کی کوشش کو فوری طور پر ناکام بنایا جائے۔
جمعیت علماء اسلام اپنے کارکنان اور دینی اداروں کے خلاف کسی بھی غیرقانونی اقدام کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔
#سمیع_سواتی
#TeamJUISindh
#TeamJUIGadapTown