🔴 شامی عالم ابو بلال نے بشار الاسد کی حکومت کے دوران ملک چھوڑتے وقت اپنی قیمتی کتابیں گھر کی ایک دیوار کے پیچھے چھپا دی تھیں۔
تقریباً 15 سال بعد وہ اپنے گھر واپس لوٹے، دیوار توڑی اور اپنی محفوظ لائبریری دوبارہ حاصل کرلی۔ دیوار کے پیچھے سینکڑوں دینی و علمی کتابیں، قرآنِ کریم کی قراءت سے متعلق اجازت نامے اور دیگر اہم دستاویزات موجود تھیں، جو برسوں بعد بھی محفوظ رہیں۔
اس ویڈیو کو غور سے دیکھیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا حوثی کون ہیں،یہ سعودی عرب پر حملے کیوں کررہے؟انکا ایجنڈا کیا ہے؟انکے اعزائم سے فائدہ کس کو ہورہا اور ہوگا۔
1960 میں ترکی کے ایک شہر میں عین اسی وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب پاگل خانے کا مرکزی دروازہ غلطی سے کھلا رہ گیا اور 400 پاگل فرار ہو گئے۔ سڑکوں پر بھگدڑ مچ گئی، انتظامیہ کے ہاتھ پیر پھول گئے اور پولیس مکمل طور پر بے بس ہو گئی۔ ایمرجنسی میں ایک مایہ ناز ماہرِ نفسیات کو بلایا گیا۔
سب کو لگا اب کوئی بڑا آپریشن ہوگا، مگر ڈاکٹر نے نہ فورس مانگی نہ ڈنڈے، بس جیب سے ایک سیٹی نکالی۔ اس نے چند لوگوں کو اپنے پیچھے کھڑا کیا اور مین سڑک پر بچوں کی ریل گاڑی کی طرح "چھک چھک" کرتا نکل پڑا۔
یہ پاگل پن حیرت انگیز طور پر کام کر گیا۔ آوارہ گھومتے پاگلوں کو یہ کھیل اتنا دلچسپ لگا کہ جو جہاں تھا، دوڑ کر اس انسانی ٹرین کا ڈبہ بنتا چلا گیا۔ شام تک ڈاکٹر اپنی اس طویل ٹرین کو کامیابی سے چلا کر واپس پاگل خانے کے گیٹ تک لے آیا۔ انتظامیہ نے سکھ کا سانس لیا اور فوراً بھاری دروازے بند کر دیے۔
سارا شہر پرسکون ہو گیا، لیکن اصل جھٹکا تب لگا جب اندر گنتی شروع ہوئی۔ سپرنٹنڈنٹ کے تو ہوش ہی اڑ گئے...
فرار ہونے والے پاگلوں کی تعداد 400 تھی، مگر واپس 600 تھے! 😆
بچیوں کو ٹائٹس، باریک لباس پہنانا بے غیرتی ہے۔ زنا کی دعوت ہے!!!
جی بچی ہے ! تو حلال ہوگیا اس کے لئے ؟!
رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:
اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے بےحیائی کی چیزیں حرام کر دی ہیں چاہے وہ کھلے طور پر ہوں یا پوشیدہ طور پر۔
(ترمذی،۳۵۳۰)
*تـــوکـل*
پرانا واقعہ ہے ایک نوجوان مجھ سے ایک مسلئہ پوچھنے آیا اور کہنے لگا مفتی صاحب مجھے آپ سے ایک مشورہ کرنا ہے اگر اجازت دیں تو؟
چنانچہ میرے اجازت دینے پر وہ شخص کہنے لگا میری بیوی حمل سے ہے لیکن ڈاکٹرز کا کہنا ہیکہ آپکی بیٹی پیدا ہوگی لیکن وہ ٹانگوں سے معذور ہے۔بس مفتی صاحب آپ بتا دیں کیا میں حمل گرا سکتا ہوں؟
چنانچہ میں نے حمل کی مدت پوچھی تو بتایا کہ چار ماہ سے اوپر ہوچکے ہیں
میں نے جوابا کہا کہ چار ماہ میں تو حمل میں روح ڈال دی جاتی ہے لہذا اب حمل گرانا قتل کے حکم میں ہوگا
بس میرا یہ کہنا تھا کہ وہ نوجوان چھلانگ لگا کر اٹھا کہمفتی صاحب اگر اللّٰہ حکم ہے تو اب ہرگز میں یہ حمل نہیں گراؤں گا اور اللّٰہ کے ہر فیصلہ پر راضی رہوں گا۔
میں سارا سارا دن اس شخص کی جگہ خود کو رکھتا اور اپنا اللّٰہ پر توکل ٹٹولتا رہا کہ کیا اگر یہ آزمائش مجھ پر آتی تو نہ جانے کیا میں اس حکم پر عمل کر سکتا تھا !!!خیرزندگی کے ایام اپنی روانی سے گزرتے رہے یہاں تک کہ چھ سال گزرگئے چنانچہ اک دن میں معمول کے مطابق آفس کے کاموں میں مصروف تھا کہ وہ نوجوان ایک پیاری سی گڑیا جس نے پانی کی بوتل گلے میں ڈال رکھی تھی اور پیچھے اسکول بیگ پہنا ہوا تھا لےکرمیرے آفس میں آیا کہنے لگا مفتی صاحب ایک مرتبہآپ سے حمل گرانے سے متعلق شرعی مسئلہ پوچھا تھالیکن آپ نے عدم جواز بتایا تھا چنانچہ میں اللّٰہ پر بھروسا کر کے حکم الہی پر عمل کیاجس کا اللّٰہ نے مجھے یہ انعام دیا کہ میری بیوی کی ساری رپورٹس غلط نکلی اور میرے اللّٰہ نے مجھےصحیح سلامت بیٹی سے نوازا جو آپکے سامنے ہے
*بس اک دم میری آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے*
اور یہ آیت میرے دماغ میں گردش کرنے لگی کہ جو اللّٰہ پر بھروسا کرتا ہے تو اللّٰہ اسکے لیے کافی ہوجاتا ہے۔
Copied..
بچے نالائق ہی اچھے !!!
میں لاہور میں ایک صاحب کے گھر گیا، ان کا بیٹا بہت اچھی طرح ان کی خدمت کر رہا تھا، میں نے بیٹے کی تعریف کی تو وہ صاحب ہنس پڑے۔میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا۔
میرے پانچ بیٹے ہیں، چار لائق، اور یہ ایک نالائقآج سارے لائق ملک سے باہر بیٹھے ہیں جبکہ
یہ ایک نالائق دن رات میری خدمت کرتا ہے،
میں اسے دیکھتا ہوں اور دل ہی دل میں
کہتا ہوں بچے نالائق ہی اچھے۔ 👀
@Muhamma12762724 اور کیا وزیر داخلہ ہمیشہ سچ ہی بولتا ہے؟وہ سیاسی بیان نہیں دے سکتا؟ اگر اس میں کچھ رائی برابر بھی سچائی ہوتی تو موجودہ صحافیوں نے ہی کوؤں کی طرح جان نہیں چھوڑنی تھی۔۔۔۔
@Muhamma12762724 نہ بے نظیربھٹو شھید زندہ ہیں، نہ جنرل نصیر اللّٰه بابر صاحب۔اور یہ بھی معلوم نہیں کہ جنرل صاحب نے کس کو انٹرویو دیاتھا؟کس اخبار میں چھپا تھا؟
آپ نے 2022کے انڈیپنڈنٹ کا حوالہ دے کر اپنے آپ کو ثبوت سے بری سمجھ لیا۔۔۔۔۔یہ صحافتی اخلاقیات کے خلاف ہے۔۔۔۔۔
یہ نوجوان مجذوب ہے۔
آج سے ڈھائی تین سال قبل خیبرپختونخواہ کے ضلع ہنگو آیا تھا۔
جس وقت آیا تھا پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا اور صحت بھی اچھی تھی۔ زبان ذرا توتلی ہے ۔ اپنا نام عمران بتاتا ہے۔
ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پنجابی زبان بولتا ہو اور کبھی کبھی میاں والی کا ذکر بھی کرتا ہے کہ میں میانوالی کا ہوں۔
ہنگو کی سڑکوں پر گھومتا ہے۔ٹریفک پولیس کے ساتھ خود کو مصروف رکھتا ہے۔ مقامی لوگ بہت پیار کرتے ہیں۔ لیکن اپنا گھر اپنا ہوتا ہے۔
گھر میں ماں باپ بہن بھائی بے چینی سے اسکا منتظر ہونگے اور دن رات اسکو یاد کررہے ہونگے۔ ایسے بچوں سے محبت بھی زیادہ ہوتی ہے،گھر کی رونق ہوتے ہیں۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ اس اللہ والے کو آپکی وجہ سے اپنا گھر مل جائے تو ان شاءاللہ اسکی دعا لے سکیں گے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
25 Aug 2026
#waliullahmaroof
عباسی خلیفہ مأمون کو زمانہ طالب علمی میں استاد نے بغیر کسی وجہ کے لاٹھی سے مارا
مأمون شاہی بچہ تھا استاد سے پوچھا کہ مجھے کیوں مارا؟
استاد نے جواب دیا 'خاموش'
اگلے کئی دن بھی مأمون وجہ پوچھتا رہا لیکن استاد ایک ہی جواب دیتا تھا 'خاموش'
بیس سال بعد مأمون خلیفہ بن چکا تھا ایک دناستاد کی دعوت فرمائی اور پوچھا کہ مجھے کیوں مارا تھا؟ استاد نے فرمایا آپ ابھی تک نہیں بھولے ہیں؟
خلیفہ مأمون نے جواب دیا اللہ کی قسم میں نہیں بھولا ہوں
استاد نے مسکرا کر جواب دیا مجھے معلوم تھا کہ ایک دن تو خلیفہ بنے گا اور میں نے جان بوجھ کر بغیر کسی سبب کے تجھے مارا تھا تاکہتو جان لے کہ
'مظلوم کبھی نہیں بھولتا '
پھر استاد نے مأمون کو نصیحت فرمائی کسی پر ظلم مت کرنا کیوں کہ مظلوم کے دل کی آگ کبھی نہیں بجھتی ہے خواہ کتنے ہی سال گزر جائے۔
حضرت قمر جلالوی کی یہ نعت بڑے بڑے نعت خوانوں نے پڑھی ہے لیکن اس نابینا بچے کو سن کر محسوس ہوتا ہے جیسے کہ آواز میری ہی روح سے نکل رہی ہو۔ ایک بار ضرور سنیں....
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
سکون پایا ہے بیکسی نے، حدودِ غم سے نکل گیا ہوں
خیالِ حضرتﷺ جب آ گیا ہے، تو گرتے گرتے سنبھل گیا ہوں
کبھی میں صبحِ ازل گیا ہوں، کبھی میں شامِ ابد گیا ہوں
تلاشِ جاناںﷺ میں کتنی منزل، خدا ہی جانے نکل گیا ہوں
حرم کی تپتی ہوئی زمیں پر، جگر بچھانے کی آرزو تھی
بہارِ خلدِ بریں ملی تو ، بچا کے دامن نکل گیا ہوں
مرے جنازے پہ رونے والو، فریب میں ہو بغور دیکھو
مرا نہیں ہوں غمِ نبیﷺ میں، لباسِ ہستی بدل گیا ہوں
یہ شان میری یہ میری قسمت، خوشا مَحَبّت زہے عقیدت
زباں پہ آتے ہی نامِ نامیﷺ، ادب کے سانچے میں ڈھل گیا ہوں
بفیضِ حسّان ابنِ ثابت ، برنگِ نعتِ نبیِ اکرمﷺ
قمر ؔ میں شعر و سخن کی لے میں،ادب کے موتی اگل گیا ہوں
قمر ؔجلالوی