بھارت نواز ایکشن کمیٹی کے چند شرپسند عناصر کو چھوڑ کر، وادی کے ہر محبِ وطن کشمیری کے دل و زبان پر آج بھی ایک ہی صدا ہے
ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔
آزاد کشمیر انتخابات 2026ء کی انتخابی مہم کے دوران وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجہ ثاقب مجید کی قیادت میں کوہالہ سے راڑہ مظفرآباد تک نکالی جانے والی تاریخی پاکستان ہمیشہ زندہ باد ریلی نے عوامی جوش و جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔ کوہالہ سے شروع ہونے والا عوام کا یہ قافلہ راڑہ مظفرآباد پہنچ کر ایک عظیم الشان جلسے کی صورت اختیار کر گیا۔شرکاء کی بڑی تعداد، والہانہ استقبال اور فلک شگاف نعروں نے یہ واضح کر دیا کہ کشمیر کے عوام اپنی سیاسی رائے کا بھرپور اظہار کر رہے ہیں۔ ریلی میں شریک افراد نے پاکستان سے اپنی وابستگی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔
پاکستان اور کشمیر کے تعلقات کے بارے میں مختلف سیاسی حلقوں کے اپنے اپنے مؤقف ہیں، تاہم اس ریلی میں شریک افراد نے اپنے نعروں اور شرکت کے ذریعے اپنے جذبات اور سیاسی وابستگی کا اظہار کیا۔
فرض کریں اگر یہ ٹرک آزاد کشمیر کے کسی شہر پہنچ بھی جائیں، تو ایکشن کمیٹی کے اس زبردستی کے شٹ ڈاؤن میں یہ مال کہاں اتارا جائے گا؟ اگر شرپسندوں نے ان ٹرکوں کو لوٹا یا جلایا تو ذمہ داری کون لے گا؟
کیا آپ اس بات کی گارنٹی دے سکتے ہو کہ ایکشن کمیٹی والے ان ٹرکوں کو نہیں لوٹیں گے؟ جب بقول ان کے پورا کشمیر بند ہے، تو یہ مال کس کے پاس جائے گا؟ کیا یہ سامان ٹرک والے دھرنے میں لے جا کر ان شرپسندوں میں بانٹ دیں؟ کشمیر میں صورتحال یہ ہے کہ جو دکان کھولتا ہے، اس پر غنڈہ گردی کے زور پر حملے کیے جاتے ہیں۔ آگے راستے ان عناصر نے مسدود کر رکھے ہیں جن کی پشت پناہی آپ جیسے دانشور کر رہے ہیں۔
اعزاز سید صاحب! سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان سے آپ کا کیا بیر ہے؟ ملک کا جو بھی مخالف ہو، آپ اس کے ترجمان بن جاتے ہیں۔ پی ٹی ایم (PTM) جو پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے خلاف 'لر او بر' کی مہم چلاتی ہے، آپ ان کے وکیل بنتے ہیں۔ بی وائی سی (BYC) جو بلوچستان میں مجید بریگیڈ اور بی ایل اے (BLA) کی پراکسی بنی ہوئی ہے، آپ اس کے سب سے بڑے مددگار بنتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان دشمنی پر مبنی ہر بیانیے کے پیچھے آپ کا قلم اور مہم کھڑی نظر آتی ہے۔
ان صاحب کا نام منظور حسین گیلانی ہے جو مہاجرین کشمیر مقیم پاکستان کے کوٹے پر پہلے ہائیکورٹ آزاد کشمیر اور پھر سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے چیف جسٹس رہے ہیں جبکہ اسوقت پوری شد و مد کیساتھ مہاجرین کشمیر مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کے پیچھے پڑے ہیں۔
ان سے یہ تو نہیں پوچھیں گے کہ انہوں نے آزاد کشمیر کی بجائے مہاجرین کشمیر مقیم پاکستان کے کوٹے پر جج بننا کیوں پسند کیا لیکن اتنا ضرور پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا یہ بطور ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج حاصل شدہ لمبی چوڑی مراعات بھی واپس کریں گے یا وہ اپنے پاس رکھیں گے؟
@araghchi Why don’t you speak for Gaza?
Pakistan should have talked about Gaza if you have sectarian problem with Hamas.
Iran gained $300b, Pak gained photoshoot.
Be prepared you both in the hereafter.
And war is coming…
🚨 پاکستانی انٹیلیجنس کا موساد کو تاریخی چکما: امریکہ ایران معاہدہ بچانے کے لیے انٹرنیٹ اور فون کا بائیکاٹ، ہاتھ سے لکھے خطوط اور انسانی قاصدوں کے ذریعے صدی کی سب سے بڑی ڈیل مکمل، خلیجی اخبار کا سنسنی خیز انکشاف.
امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی "اسلام آباد معاہدے" کو اسرائیلی اثر و رسوخ اور سبوتاژ سے بچانے کے لیے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی ایسی حیرت انگیز حکمتِ عملی سامنے آئی ہے جس نے دنیا کے بڑے بڑے تھنک ٹینکس کو حیران کر دیا ہے۔
ڈیجیٹل بلیک آؤٹ: اسرائیلی جاسوسوں کو کانوں کان خبر نہ ہونے دینے کے لیے کسی بھی جدید ایپ، فون یا کمپیوٹر کا استعمال نہیں کیا گیا۔ تمام حساس پیغامات ہاتھ سے لکھے گئے خطوط کے ذریعے خصوصی قاصد لے کر تہران اور واشنگٹن جاتے اور اسی انداز میں جواب آتا تھا۔
خفیہ ترین مقامات پر مذاکرات: اسرائیل کے ہیکرز اور سیٹلائٹ سے بچنے کے لیے یہ خفیہ ملاقاتیں پاکستان، قطر، عمان، آذربائیجان اور سمندر کے بیچوں بیچ امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر منعقد کی جاتی رہیں۔
پاکستان الائنس کا ماسٹر پلان: پاکستان کی قیادت میں مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالثوں نے بھی ڈیجیٹل رابطوں سے مکمل اجتناب کیا۔ اسرائیل کو الجھانے کے لیے جان بوجھ کر فیک میڈیا ٹرینڈز اور گمراہ کن معلومات پھیلائی گئیں تاکہ اصل مذاکرات کو خفیہ رکھا جا سکے
کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلحہ کارندوں نے ایک پولیس اہلکار کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور اس کی ٹانگیں توڑ دی ہیں ۔
تھانہ نون پولیس کا اے ایس آئی جاوید اپنی والدہ کے انتقال کا سن کر واپس جارہا تھا۔ راولاکوٹ میں ایکشن کمیٹی کے مسلحہ کارندوں نے پولیس اہلکار کو روکا اور تلاشی لی تو جیب سے پولیس کارڈ نکلا۔
جدید ہتھیاروں سے لیس ایکشن کمیٹی کے کارندوں نے اے ایس آئی جاوید پر بدترین تشددکیا اور اس کی دونوں ٹانگیں توڑ دیں۔
اے ایس آئی جاوید کو زخمی حالت میں سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا ہے۔
جدید ہتھیاروں سے لیس ایکشن کمیٹی کے کارندے اپنے مخالفین اور سیکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنارہے ہیں ۔
ان کا مقصد واضح ہے کہ آزاد کشمیر میں کسی بھی طرح لاشیں گرائی جائیں تاکہ ان کو اپنی سیاست چمکانے اور مذموم مقاصد پورا کرنے کا موقع مل سکے ۔
جنریشن زی عقل اور فہم سے بالکل فارغ ہے۔
دشمن طاقتیں اس پاگل جنریشن کو استعمال کرتے ہیں ملک میں انتشار اور فساد برپا کرنے کے لیے۔۔
اخر میں حکومت جنریشن زی کے ہاتھ میں نہیں اتی۔۔
دوسری طاقتیں ان کے انقلاب کو ہائی جیک کر لیتی ہیں۔ یہ پھر اپنی جگہ کھڑے رہتے ہیں جہاں پہلے کھڑے تھے۔
ملک میں نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور دوسری طاقتیں ا کر اقتدار حاصل کر لیتی ہیں۔
بنگلہ دیش میں اتنا بڑا انقلاب لانے کی کوشش کی جنریشن زی نے۔ اخر میں کیا ہوا؟
حکومت دوبارہ بھارتی ایجنٹ کے پاس چلی گئی۔ جنزی کے ہاتھ کیا ایا؟ خالی ڈھول۔
جنریشن زی انارکسٹ ہے ریفارمسٹ نہیں۔
تنگ آمد بجنگ آمد، آزاد کشمیر کی عوام کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف خودہی میدان میں آ گئ
آزاد کشمیر کی عوام کے کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف مساجد میں اعلانات
کنکترو کی منافقت چیک کرو مقبوضہ کشمیر سے آنے والے دریا ہمارے ہیں،
ان کا پانی ہمارا ہے، وہاں پیدا ہونے والی بجلی بھی ہماری ہے،
مقبوضہ کشمیر کے وسائل بھی ہمارے ہیں
لیکن مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے آنے والے کشمیری آزاد کشمیر کےحقیقی وارث مہاجر ہمارے نہیں ہے؟ یہ کیسا نظریہ ہے؟
طلبہ اور اساتذہ بھارتی ایکشن کمیٹی کے انتشار سے تنگ آگئے ہیں
آزاد کشمیر کے طلبہ اور اساتذہ بھارتی ایکشن کمیٹی کے روزانہ احتجاجوں سے تنگ آ چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ہڑتالیں اور دھرنے ان کی تعلیم برباد کر رہے ہیں
طلبہ پڑھنا چاہتے ہیں ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں سیاست کے نام پر یونیورسٹیاں بند کرنا نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنا ہے
کشمیر کے طلبہ کا مطالبہ تعلیم بچاؤ انتشاری مٹاؤ
#Indian_Action_Committee
آزاد کشمیر کا بیشتر حصہ اشیائے خوردونوش کے لیے بیرونی سپلائی پر انحصار کرتا ہے۔
"کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر کی جانب سے ٹرانسپورٹ بند کروانے کے لیے گاڑیوں پر حملوں کے باعث راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر شہروں سے آزاد کشمیر مال لانے والے بڑے ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیاں آزاد کشمیر لے جانے سے انکار کر دیا ہے
ٹرکوں کی آمد بند ہونے سے منڈیوں میں تازہ سبزیوں، پھلوں مرغی، آٹے کی سپلائی صفر ہو گئی، جس سے قیمتوں میں بھی خودساختہ اضافہ ہوا
دوسری جانب کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے غنڈوں کی جانب سے دکانیں زبردستی بند کروانے، توڑ پھوڑ اور پیٹرول پمپس کو نشانہ بنائے جانے کی رپورٹس کے بعد تاجروں نے اپنی دکانیں اور گودام بند کر دیے
جب پمپس پر حملوں اور لوٹ مار کے واقعات سامنے آئے، تو مالکان نے ایندھن کی سپلائی روک دی۔ اس سے نہ صرف گاڑیوں بلکہ ہسپتالوں کے جنریٹرز اور دیگر ہنگامی سروسز کے لیے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قلت پیدا ہو گئی۔
پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ ایل پی جی (LPG) سلنڈرز کی مانگ میں یکدم اضافہ ہوا کیونکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی دھمکیوں سے شہریوں کو خدشہ تھا کہ سپلائی لائنز طویل عرصے کے لیے کٹ سکتی ہیں۔
ہڑتالوں، شٹر ڈاؤن مسلح جتھوں کی سوشل میڈیا پر خبروں کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ جس کے پاس پیسہ تھا اس نے آٹا، گھی، چینی اور دالیں ضرورت سے زیادہ خرید کر گھروں میں جمع کرنا شروع کر دیں، جس سے مارکیٹ کا توازن اچانک بگڑ گیا۔ جو روزانہ کی بنیاد پر کماتے تھے وہ دیہاڑی دار غریب اور مڈل طبقہ اس بحران کا شکار ہوگیا اور ٹھنڈے چولہوں اور بھوکے بچوں کے ساتھ گھروں میں مقید ہوگیا
یہ تھے وہ حقوق جو بیرونی فنڈنگ پر کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے شہریوں کو دینے چلی تھی؟؟
کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد انتشار نے عام شہریوں کے بنیادی حقوق اور معمولاتِ زندگی کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے، کچھ بعید نہیں کہ یہ انتشار آزاد کشمیر میں بڑے معاشی بحران کی شکل اختیار کر لے
یہ کوئی عام آدمی نہیں!
اس ویڈیو میں موجود شخص عبدالحمید لون ہیں، جو سرینگر میں رہتے تھے، جب قابض بھارتی افواج نے انکے خاندان پر ظلم کیا، وہ 14 سال لڑتے رہے اور 2004 میں پاکستان ہجرت کر کے آئے۔
یہ اصلی اور نسلی کشمیری ہیں۔
کن کترے کو کشمیری مت سمجھیں۔ کن کترے الگ چیز ہیں
نقاب اتر چکا ہے اور اب رعایت کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔
جے اے اے سی کے امان نے اپنے اصل عزائم اور حقیقی چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
38 نکاتی چارٹر محض ایک پردہ تھا۔ اصل ایجنڈا علیحدگی ہے۔
چونکہ ایک الگ کشمیر ایک دن بھی خود مختار طور پر قائم نہیں رہ سکتا، اس لیے اصل منصوبہ بھارت کو پورے کشمیر پر قبضہ کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
کیا ریاست کو ان مطالبات کے سامنے جھک جانا چاہیے، یا ان کے اصل عزائم کو بے نقاب کرکے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے؟
پاکستان کے میڈیا پر کن کتروں کا بیانیہ تو دہرایا جا رہا ہے!
لیکن کشمیر کے اصلی وارثین کو نہیں دکھایا جا رہا۔
یہ غلام محمد صفی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے 60 سال کشمیر تحریک کیلئے صرف کئے۔
ان کی آوازیں ہم نے شئیر کرنا ہیں، جن کو دبایا جا رہا ہے۔
یہ حرام کا کس کے خلاف اعلان جنگ کر رہا ہے؟
کس سے کہہ رہا ہے کہ ہتھیار ڈالو؟
کون سا وطن لے گا یہ اور کس کے خلاف لڑ کر لے گا؟
یہ نجس اور ناپاک بدذات بھارتی فوج کے خلاف یہ زبان کیوں نہیں استعمال کرتا؟
اس کا غصہ اس وقت کدھر تھا جب بھارت نے کشمیر کو ضم کر لیا اور روز ظلم کرتا ہے وہاں پر۔۔۔ اس وقت اس کی کشمیریت کہاں گئی تھی؟
نریندر مودی کی ناجائز اولاد یہ مشرکوں کا پالا ہوا پالتو نجس بدذات۔۔ شریعت کے تحت واجب القتل ہیں یہ کہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور فتنہ قتل سے زیادہ برا ہے۔
🚨🚨Markhor Breaking❗️❗️
In a further escalation of the government’s response, authorities have announced a reward of PKR 50 million for information leading to the arrest of two senior leaders of the Joint Awami Action Committee (JAAC).these the individuals played a central role in mobilizing and inciting people against the state, and created instability in the region.
The government has appealed to citizens to cooperate with law enforcement agencies by providing credible information regarding their whereabouts, assuring that any information leading to their apprehension will be rewarded in accordance with the announced bounty.
بدذات کشمیری
اج کا جمعہ کا خطبہ ان بدذات کشمیریوں کے خلاف ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے غدار اور پاک سرزمین کے دشمن ہیں۔
پوری پاکستانی قوم اور خاص طور پر کشمیر کے مسلمانوں کے لیے تنبیہ اور نصیحت۔
FASAAD
UNDER THE BANNER OF RIGHTS
Syed Zaid Zaman Hamid
[email protected]
Every nation has its breaking point, and Pakistan is currently being pushed toward ours.
As the heat of the upcoming AJK elections intensifies, so does a much darker, more calculated fire. Beneath the lofty rhetoric of "rights" and "autonomy" lies a terrifying blueprint for the dismemberment of our homeland.
At the epicenter of this modern-day sedition is the so called Joint Awami Action Committee (JAAC). To the untrained eye, they present themselves as local grievance-redressers.
But let us strip away the propaganda: the JAAC is nothing more than a dangerous, separatist entity mirroring the treacherous footprints of Manzoor Pashteen and Mahrang Lango.
They are cut from the exact same cloth, specialists in manufacturing grievance, weaponizing public emotion, and systematically eroding the authority of the state. Their ultimate goal is not reform; it is the tearing apart of Pakistan, piece by piece.
What makes the JAAC's agenda truly catastrophic is its absolute, staggering lack of foresight.
They scream for separation, blind to the geopolitical sharks circling the waters.
Let us look at reality without the romanticized haze of rebellion.
If these separatists succeed in severing Kashmir from the protective embrace of Pakistan, what happens next?
Do they genuinely believe they will survive as a sovereign, peaceful utopia?
Have the leaders of the JAAC looked across the Line of Control lately?
Have they forgotten the decades of slaughter, the midnight raids, the communication blackouts, and the systematic erasure of Muslim identity in Indian-occupied Kashmir?
If they hand over AJK to India on a silver platter through their reckless separatism, New Delhi will show them no mercy.
They too will be crushed under the heel of an occupation that makes their current grievances look like a luxury.
The JAAC is trading a mother's stern discipline for an executioner's axe.
This is not a distant threat; the fuse is lit for the upcoming days.
Reliable intelligence and murmurs on the ground indicate that the JAAC is not preparing for a democratic exercise they are preparing for fasaad, very much like the previous time.
They plan to use the upcoming election cycle as a staging ground for mass agitation, aiming to paralyze the administration, provoke state institutions, and capture the headlines of a predatory international media eager to see Pakistan bleed from within.
They want a clash.
They need bodies.
They feed on chaos.
The state can no longer afford the luxury of appeasement.
We have seen this script play out before with Pashteen and Lango, where soft handling was mistaken for weakness, allowing anti-state narratives to fester like a cancer. The state must deploy its full constitutional and security apparatus to dismantle the JAAC's disruptive networks before they take to the streets.
The ringleaders planning to destabilize the elections must be neutralized through strict legal mechanisms.
The public must wake up to the deception.
Pakistan is a fortress built on the sacrifices of millions.
We cannot, and we will not, allow a group of short-sighted, emotionally manipulative separatists to hand our strategic crown jewel to an enemy that seeks our total destruction.
The state must strike against this subversion with iron resolve.