پاکستان
میں سارے ادارے ریلوے۔سٹیل مل۔
پی۔آئی۔اے سمیت سب فیل ھو چکے ھیں
پاکستان
کے صرف دو اداروں نے خوب ترقی کی
مذہبی اداروں اور فوجی اداروں نے
پاکستان
بھر میں عالیشان مسجدیں۔مدرسے اور عالیشان تبلیغی مراکز بنے ھوئے ھیں تمام بڑے علماء کے پاس کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں ھیں ۔اور کروڑوں روپے کے فنڈز موجود ھیں
پاکستان بھر میں عالیشان چھاؤنیاں بنی ھوئی ھیں جن کے اندر دنیا کی ہر سہولت موجود ھے۔فائیو سٹار ہوٹل کے معیار کے میس بنے ھوئے ھیں
ھمہارے پاس
ایٹم بم۔میزائل۔ٹینک اور اسلحے کے انبار لگے ھوئے ھیں
کبھی کبھی میں سوچتا ھوں
ان دو اداروں کی ترقی باقی اداروں کی تباھی کا باعث تو نہیں بن رھی
آپ بھی غور کیجئے
طاہر مگوں
Naseer Malik, an #Ahmadi cricketer, made history in 1975 when he bowled the first-ever over for #Pakistan in Cricket World Cup history.
But today, no #Ahmadi can even dare to dream of a place in #Pakistan's national cricket team.
@bilalmahmooduk@Shanyousaf6 1/
Heartbreaking video of the Muslim lawyer assaulting small #Christian Girl as she tries to enter the court, pleading for justice after police refused to register the case over her sister’s kidnapping.
There is no Justice for #Christians in #Pakistan.
@FarazPervaiz3@JeremyMcLellan
پاکستانی معاشرے میں اگر آپ مذہبی نہیں ہیں تو آپ کو ایک فرد اور ایک پروفیشنل دونوں کی حیثیت سے سروائیو کرنے کیلئے بہت محنت اور تگ و دو کرنی پڑتی ہے. دوسری جانب اگر آپ کام چور ہوں یا آپ میں قابلیت اور اہلیت کی کمی ہے تو اسے آپ مذہبی بہروپ بھر کر آسانی سے چھپا سکتے ہیں. مثلاً اگر آپ کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی کلاس پڑھانی ہو لیکن آپ کی تیاری نہ ہو یا آپ کو ٹاپک پر عبور نہ ہو تو آپ اسلامیات کی کتاب میں سے کوئی موضوع پڑھا لیں. اسی طرح آفس میں کام کے بجائے آرام کا موڈ ہو تو یوٹیوب پر کسی مولانا کی تقریر کی ویڈیو چلا دیں. لوگ آپ کی کام چوری اور نا اہلی پر تنقید کرنے کے بجائے آپ کی تعریف کریں گے کہ "انتہائی نیک بندہ ہے". منقول
Hatred against Ahmadis in Pakistan has grown so deep that now even Rabwah is under attack. This is not just a failure of security,it is a failure of humanity. The government’s shameful silence makes them complicit. Enough is enough. #StopAhmadiPersecution
“ہم یہ ویڈیو اس لیے بنا رہے ہیں کیونکہ ہم کسی بھی لمحے مر سکتے ہیں۔ ہمارے 70–80٪ مریض بچے اور حاملہ خواتین ہیں۔ میں نے ایک ایسی خاتون کا بچہ ڈیلیور کیا جو 9 ماہ کی حاملہ تھی اور جس کا سر کٹ چکا تھا۔ براہِ کرم اس دہشت اور ہولناکی کو روکیں “
آسٹریلوی خواتین ڈاکٹرز کا غزہ سے بیان
Hazrat Mirza Masroor Ahmad (aba) awards the Ahmadiyya Muslim Prize for the Advancement of Peace 2025 to Mr Gregoire Ahongbonon, Founder of St Camille Association.
“I’m without words. I don’t know what to say. My joy is so great.”
13 years.
Junaid Hafeez, a promising young lecturer, remains in solitary confinement on death row for alleged blasphemy. No fair trial. His lawyer was murdered. His health is failing.
How many more lives must rot in silence before Pakistan confronts its blasphemy laws?