@AdbiWrites کہانی پوری نہیں۔ اصل کہانی س سے آگے یوں ہے کہ جنگ چھڑ گئی اوع وہی گھوڑے جن کو آوبھگت کی جتی تھی انھیں جنگ پر بھیجا گی اور واپسی پسی پر صرف چند ہی گھوڑے واپس آئے جو زخمی ہو چکے تھے ۔ تب گدھے کو سمجھ آئی کہ ان کی اتنی اوبھگت کیوں کی جاتی تھی
@UrduVirsa {وَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰي قَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ}[ھود: 69]
ترجمہ:اور البتہ آچکے ہیں ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر ،بولے سلام ،وہ بولا سلام ہے ،پھر دیر نہ کی لے آیا ایک بچھڑا تلا ہوا
@UrduVirsa بہت عرصہ ہوا کوئی ڈائجسٹ نہیں پڑھا کیونکہ دو ہزار بارہ میں دوبارہ کوشش کی لیکن اس کی کہانیاں سب مکرر تھی یا اس میں موبائل کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی سے جذبات کو مجروح کر دیا گیا تھا۔ نوے کے آخر تک کی کہانیاں جذبوں کی ترجمانی کرتیں۔ اب ہر جذبہ کو عمل انگیز کا زنگ لگ گیا ہے
@SadiaAh41261716@amalqa_ ان سے سرزد کرائی جاتی۔ وہ خود کچھ نہیں کرتے۔ایک ولی کے بارے میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ انھوں نے اللہ کے رازوں میں سے ایک راز افشاں کیاجس کی سزا میں نو سال قید،ہزار کوڑے،سر، ہاتھ پاوں قلم،نعش کو بھی آگ لگا دی گئی تھی۔لیکن وہ انکار ہی کرتے رہے کہ انھوں نے اناالحق نہیں عین الحق کہا
@MNasAwan555 ٹی وی باہر پڑا ہوتا تو آن کرنے پر کچھ نظر نہ آتا۔ لہٰذا امی کا دوپٹہ اٹھا کر ٹی وی سکرین اور پھر اپنے سر پر ڈالتے اور پانچ کا کارٹون دیکھتے ۔ جس میں کبھی کبھی چاچا جی ڈنڈی مار جاتے اور کارٹون کے بجائے کچھ اور چل جاتا۔ وہ دن بہت عجیب اور غصے میں گزرتا ۔
@momentmemori ہر وہ گاوں پردیس کے زمرے میں آتا ہے خاتوں کے لیئے جہاں اس کے محرم نہ ہو۔ واقعی ایک دلسوز اور نگاہ وا کرنے والا سانحہ تحریر کیا ہے چا چا جی نے
@soulat_pasha پاشا صاحب نے حنان کے نام سے جو قدغن لگائی یہ تو ادنی درجے کے اعتراضات و اصطلاحات ہیں۔ چند سال قبل ایک محترم سے ملاقات ہوئی اس نے انھیں اعتراضات کی زمین میں جن عنوانات کا ذکر کیا تو رونگٹے کھڑے ہو گئے، جب انکے نظریاتی پس منظر کی جانکاری حاصل کی تو معلوم ہوا کہ محترم قادیانی تھے