Nassrawis… what a season. From day one, we knew what we wanted and what it would take to get there. We worked, fought and gave everything in every training and every game. It wasn’t an easy road, but we did it together. Thank you for believing in us and standing by our side every step of the way.
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن، نائب امیر لیاقت بلوچ، سیکرٹری جنرل امیر العظیم اور دیگر قائدین نے ممتاز صحافی و دانشور الطاف حسن قریشی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات صحافت اور فکری دنیا کا بڑا نقصان ہے۔
تعزیتی بیان میں کہا گیا کہ مرحوم نے سچائی، جرأت اور قومی فکر کے فروغ کے لیے پوری زندگی وقف کیے رکھی۔ وہ نظریاتی صحافت کے علمبردار تھے جنہوں نے قومی و ملی معاملات پر ہمیشہ واضح مؤقف اختیار کیا۔
I have known @HafizSaadRiaz for a number of years, not just through @EonHoldings, but through our numerous philosophical discussions. Contrary to the preposterous and laughable allegation against him, he subscribes to a gradualist school of social change, something the corrupt and low-intelligence officials involved in his abduction may not even be able to grasp. There appears to be a growing trend in Pakistan of CTD abducting citizens for ransom.
لاہور میں سی ٹی ڈی نے یوٹیوبر محمد سعد بن ریاض کو مبینہ طور پر القاعدہ کے لیے لوگ بھرتی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے جبکہ اہلِخانہ نے سی ٹی ڈی کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف بعد از گرفتاری بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا۔
تفصیلات: https://t.co/N6JsCD3M2E
The illegal arrest of @hafizsaadriaz is extremely shocking and upsetting news, saad has always been one of the very few properly academic journalistic voices in Pakistan, dedicated to actual serious dialogue with veterans of the field rather than hollow sensationalist drama for views and attention, his abduction based on baseless accusations is an attack against serious muslim academic reporting and journalism in the country.
May Allah make it easy for him and his closed ones, you can't threaten a guy who learned his journalistic spirit from the likes or Anas al-Sharif.
Requesting prayers for him.
https://t.co/Xf6p8gaV35
اطلاع کے مطابق، گزشتہ اتوار کو ایم فل (M.Phil) سکالر اور معروف 'Eon Podcast' سے وابستہ سوشل میڈیا ایکٹویسٹ حافظ محمد سعد بن ریاض کو ان کے گھر کے اندر سے جبرا اٹھایا گیا۔ پھر بعد می ایک ایسی ایف آئی آر (FIR) منظر عام پر آئی ہے، جس کے مندرجات پہلی نظر میں ہی ایک 'بوگس' اور من گھڑت کارروائی معلوم ہوتے ہیں۔
پولیس کی جانب سے لکھی گئی کہانی کے مطابق، لاہور میں پیدا ہونے اور ��ہیں پرورش پانے والا یہ پڑھا لکھا نوجوان، مبینہ طور پر الـقاعدہ کا 'ممبر شپ کارڈ' جیب میں رکھ کر، نہ صرف سرِ عام الـقاعدہ کے اشتہار جیسی کتا��یں لوگوں میں تقسیم کر رہا تھا بلکہ لوگوں کو علی الاعلان اس کالعدم تنظیم میں شمولیت کی دعوت بھی دے رہا تھا۔
ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک 'سورس' نے اسے یہ سب کرتے دیکھا اور پھر پولیس کو آ کر اس کی اطلاع دی، جس کے 20 منٹ بعد پولیس نے اسے 'اکیلا' ہی قابو کر لیا۔ حیرت انگیز طور پر وہ تمام لوگ جن میں کتابیں تقسیم کی جا رہی تھیں یا جنہیں دعوت دی جا رہی تھی، وہ سب کے سب پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی ہوا میں تحلیل ہو گئے اور ان کا کوئی ذکر ایف آئی آر میں موجود تک نہیں۔
اس طرح کی بچکانہ اور 'عمر عیار' کی داستانوں جیسی کہانیاں گھڑنے اور ایک پڑھے لکھے شہری پر دہشت گردی جیسی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے والے اہلکاروں کی "تخلیقی صلاحیتوں" پر تو انہیں 'تمغہ حسنِ کارکردگی' ملنا چاہیے۔ یہ ایک انتہا��ی مکروہ اور شرمناک رجحان ہے کہ کسی صحافی یا سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کے خیالات یا بیانات سے اختلاف کی صورت میں اسے دہشت گرد بنا کر پیش کر دیا جائے، تاکہ انتقامی کارروائی کے طور پر اسے زیادہ سے زیادہ عرصہ سلاخوں کے پیچھے رکھا جا سکے۔
میں سعد کو کئی سالوں سے سوشل میڈیا پر فالو کر رہا ہوں۔ میں نے اسے اکثر ڈیجیٹل محاذ پر بھارتی ٹرولز (Trollers) کے خلاف سینہ سپر ہو کر پاکستان کا مقدمہ لڑتے اور ملکی مفاد کا دفاع کرتے ہی دیکھا ہے۔ ایک ایسے نوجوان کو، جو بیرونی پراپیگنڈے کے خلاف پاکستان کی ڈھال بنا رہتا ہو، آج اپنے ہی ملک میں دہشت گردی کے بوگس الزامات کا سامنا ہے۔
ریاستی اداروں ک�� سوچنا چاہیے کہ اختلافِ رائے کو دہشت گردی سے جوڑنے کی یہ پالیسی نہ صرف عدل و انصاف کے منافی ہے بلکہ اس سے نظامِ عدل کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ایم فل سکالر، سوشل میڈیا ایکٹویسٹ، محب وطن پاکستانی صحافی حافظ محمد سعد بن ریاض کو اتوار کی روز ان کے گھر سے CTD نے اٹھایا، کئی گھنٹے نا FIR کاٹی گئی نا منظر عام پر آئے۔ بعدازاں Eon Podcast جہاں @hafizsaadriaz کام کر رہے تھے انہوں نے مختلف روابط کے بعد جب اپروچ سے جاننا چاہا تو پھر ایف آئی آر منظر عام پر آئی۔
یہ تفصیلات EON پوڈ کاسٹ کی جانب سے بتائی گئی ہیں۔
عجیب معاملہ ہے کہ ایک Potential قابل نوجوان جو ہر وقت پاکستان کی اساس اور نظریات کی بات کرتا تھا اس کو یوں غیر قانونی طور پر اٹھانا اور پھر مقدمہ بنانا انتہائی نا انصافی ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان بٹگرام میں جلسے سے خطاب کررہے تھے کہ ایک شخص نے انہیں مخاطب کرکے بتایا کہ پوری تحصیل میں ایک بھی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے جس پرحافظ نعیم الرحمان نے چلاتے ہوئے کہا ،یہ کیسا نظام ہے وزیراعلیٰ صاحب؟ صوبائی اور مرکزی حکومت سے جواب طلبی ضرور کریں مگر پہلے خود احتسابی۔ آپ بچیوں کو پڑھائیں گے نہیں تو لیڈی ڈاکٹر کیا مریخ سے آئیں گی؟ کیا یہ سچ نہیں کہ بٹگرام کے بیشتر علاقوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں؟ باقاعدہ جرگہ ہوتا ہے ،اجتماعی طور پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ خواتین ووٹ کاسٹ نہیں کریں گی؟ PK-28 میں سب امیدواروں نے یہ متفقہ فیصلہ کیا۔ ضلع بٹگرام میں 2013 کے عام انتخابات میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز میں سے صرف چار فیصد نے ووٹ کاسٹ کیا۔اس کا ذمہ دار کون ہے؟ آپ اپنی خواتین کو انسان نہیں سمجھیں گے تو پھر لیڈی ڈاکٹر اور دیگر سہولیات کیسے میسر ہوں گی؟
We were rightly outraged when the Taliban prevented girls from going to school.
Where is Canada’s voice - and action - when Israel prevents Palestinian children from going to school?
گزشتہ 23 برس سے اسرائیلی جیل میں قید فلسطینی تنظیم فتح کے رہنما مروان برغوثی کے سیل میں کتا چھوڑ دیا گیا جس نے انہیں شدید زخمی کردیا۔
مروان برغوثی کے وکیل بین مارمریلی نے ایکس پر کی گئی اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے 12 اپریل کو انے موکل م��وان برغوثی سے ملاقات کی۔ جہاں انہوں نے نہایت اذیت ناک صورتحال کا مشاہدہ کیا۔
بین مارمریلی نے بتایا کہ ’فلسطینی رہنما کو 8 اپریل کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دو گھنٹے سے زائد وقت تک زخمی حالت میں ان کے جسم سے خون بہتا رہا، جبکہ انہیں کوئی طبی امداد بھی نہیں دی گئی۔
مارمریلی نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ برغوثی پر 24 مارچ کو ایک کتے نے حملہ کیا، جسے جیل کے محافظوں نے ان کے سیل میں چھوڑ دیا تھا۔
The people in charge don't want you to know this, but Muslims love Jesus.
Islam reveres Him as a major prophet and messenger of the Lord, believes He performed miracles, and states that He will return to Earth to defeat the Antichrist. That's why Donald Trump's painting depicting himself as the Son of God offended the president of Iran. It was an attack on his religion as well as Christianity.
Today's Morning Note newsletter covers Masoud Pezeshkian's condemnation of Trump's “desecration of Jesus,” the Iran War's gutting effects on America's housing market, Colombia's plan to murder Pablo Escobar's hippopotami, and more. Read below.
https://t.co/KrgZifc2ZM