کیسے سینے سے لگاﺅں کہ کِسی اور کے ہو
میرے ہوتے تو بتاتا کہ محبت کیا ہے،
عشق سے لے کے ہوس تک مَیں تُجھے لے جاتا
کاش تُو پوچھنے آتا کہ محبت کیا ہے
پاگلوں جیسی بنا دیتا میں حالت تیری
پھر تجھے خود سمجھ آتا کہ محبت کیا ہے
🤗🔥✍🏻
#مہرزادی ❤️🌍
کون پرسان حال ہے میرا
زندہ رہنا کمال ہے میرا
تو نہیں تو ترا خیال سہی
کوئی تو ہم خیال ہے میرا
میرے اعصاب دے رہے ہیں جواب
حوصلہ کب نڈھال ہے میرا
چڑھتا سورج بتا رہا ہے مجھے
بس یہیں سے زوال ہے میرا
سب کی نظریں مری نگاہ میں ہیں
کس کو کتنا خیال ہے میرا
#اردو_زبان
میں چاہتا ہوں محبت مجھے فنا کر دے
فنا بھی ایسا کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
میں چاہتا ہوں محبت مرا وہ حال کرے
کہ خواب میں بھی دوبارہ کبھی مجال نہ ہو
میں چاہتا ہوں کہ اتنا ہی ربط رہ جائے
وہ یاد آئے مگر بھولنا محال نہ ہو
#اردو_زبان
اِس سے پہلے کہ دَشتِ اِمکاں میں
وَصلِ جاں کی آرزو نہ رہـے
اِس سے پہلے کہ بارِ غم سے کہیں
تجھ کو پانے کی جُستجُو نہ رہـے
اِس سے پہلے کہ دشتِ خواھش میں
فرشِ اَفسردگی بِچھے
سر راہ لوٹ آؤ، کہ منتظر ہـے نگاہ
اِس سے پہلے کہ لَوحِ قِسمت پر
بابِ اُلفت تمام ھو جائے
لوٹ آؤ
#اردو_زبان
اب کے سال پُونم میں، جب تو آئے گی ملنے
ہم نے سوچ رکھا ہـے، رات یوں گزاریں گے
دھڑکنیں بچھادیں گے، شوخ تیرے قدموں پہ
ہم نگاہوں سے تیری، آرتی اُتاریں گے
تُو کہ آج قاتل ہـے، پھر بھی راحتِ دل ہـے
زہر کی ندی ہـے تُو، پھر بھی قیمتی ہـے تُو
پست حوصلے والے، تیرا ساتھ کیا دیں گے
زندگی ادھر آ جا، ہم تجھے گزاریں گے
آہنی کلیجے کو زخم کی ضرورت ہـے
انگلیوں سے جو ٹپکے، اُس لہو کی حاجت ہـے
آپ زلفِ جاناں کے، خم سنوارئیـے صاحب
زندگی کی زلفوں کو، آپ کیا سنواریں گے
ہم تو وقت ہیں، پل ہیں، تیز گام گھڑیاں ہیں
بـے قرار لمحے ہیں، بـے تھکان صدیاں ہیں
کوئی ساتھ میں اپنے آئے یا نہ آئے
جو ملے گا رستے میں، ہم اُسے پکاریں گے
ظفر گورکھپوری
میں ہاں یا ناں میں الجھی ہوئی
وہ پختہ جیسے عزم سا ہے
میں بھولا بسرا وعدہ کوئی
وہ نبھائی گئی قسم سا ہے
میں نئی طرز کی کوئی وقتی ایجاد
وہ قدیم کسی رسم سا ہے
میں بارہا لکھ کے مٹائی گئ
وہ دلوں، ذہنوں پر رقم سا ہے
میں ہجوم بزم میں تنہا تنہا
وہ تنہا یکتا بزم سا ہے
#اردو_زبان
جو نہ مل بیٹھا ہو پھر اس سے شکایت کیسی
میں اکیلا ہی چلا ہوں تو رفاقت کیسی
خود تو آئیں گےنہیں اور بلائیں گےہمیں
دیکھیےآپ نےڈالی یہ روایت کیسی
میں نےچاہا توبہت ٹوٹ کےچاہا نہ گیا
یوں بھی ٹوٹی ہےکئی بارقیامت کیسی
جب بچھڑنا ہی محبت کاتقاضاٹھہرا
پھرنگاہوں میں میری جاں یہ ندامت کیسی