إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ...
اللہ الحق ہے
"اگر اللہ تمہارے ساتھ ہے تو کوئی تم پر غالب نہیں ہو سکتا، اور اگر وہ تمہارے ساتھ نہیں ہے تو کون ہے جو تمہاری مدد کر سکتا ہے؟ اور مومنوں کو چاہئے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں۔"
سورہ آل عمران
کوئی گورنر بن رہا ہے، کوئی وزیراعلی بن رہا ہے، کوئی وزیراعظم بن رہا ہے، فیصلہ لوگ کوئی کرتے ہیں، نتیجہ کسی اور کے حق میں نکل رہا ہے، خواجہ سعد رفیق کھل کر بول پڑے۔
ڈیڈلاک 3 چیزوں پر ہوا
1: خان سے ملاقات
2: علاج میں ذاتی معالج کی شمولیت
3: 72 گھنٹوں میں KPK کے پانچ اضلاع میں ملٹری آپریشن کی مکمل غیر مشروط حمایت
اپوزیشن نے پہلے عمران خان سے ایک وفد پھر تین افراد (علامہ ناصر، اچکزئی، گوہر/سلمان راجہ) پھر 2 افراد اور آخر میں صرف علامہ راجہ ناصر عباس کو ملوانے تک لچک دکھائی مگر حکومت نے انکار کر دیا۔
اپوزیشن کو جھٹکہ اس وقت لگا جب حکومت نے ذاتی معالج، کسی اور نامزد ڈاکٹر کی شمولیت سے صاف انکار کردیا۔ عمران خان کی میڈیکل رپورٹس شیئر کرنے سے بھی انکار
تحریک انصاف بند کمروں میں آپریشن کے فیصلے کےخلاف ڈٹ گئی۔ دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کی روشنی میں تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جائیں۔
میں پاکستان کا شہری پاکستان کا مالک ہوں
میں عہد کرتا ہوں کہ میں ہر اس شخص یا ادارہ خواہ اندرونی یا بیرونی جو اس ملک کے خلاف کام کرے گا یا اس کے قانون کو توڑے گا،اس کے خلاف۔۔۔اپنی پوری قوت استعمال کرونگا- ---کیونکہ میں پاکستان کا شہری اس کا مالک اس کی بقا کا حتمی ضامن ہوں
۱۹۴۸ سے لے کر آج دن تک پاکستان کے دفاع کے لیے بنا وردی بنا کسی تمغے کی تمنا کے سربکف رہے ہیں ہم۔
کشمیر آزاد کرانا تھا تو اپنی منشاء سے آپ سے آگے چلے ہم۔
افغانستان کو غاصب روسیوں سے نجات دلانی تھی تو آپ کا تھمایا اسلام کا علم سینے سے لگایا ہم نے۔
امریکہ کی خوشنودی آپ کو مطلوب تھی، سلامیاں ہماری ماؤں کو ملیں۔ ہم نے قبول کیں۔ ایک بھرم تھا جانے کم فہمی تھی یا خوش فہمی۔ جو اس حقیقت سے آنکھیں موڑے بیٹھے رہے ہم کہ تم مرو تو شہید۔ ہم مریں تو کولیٹرل ڈیمج۔
ہمارے لیے بے گھری۔ تمہاری لیے پلاٹ۔
تم ملک بیچ کھاؤ تو بھی سینے پہ تمغے سجاؤ۔
ہم سر بھی واریں اور اپنے گلے میں لٹکیں بغاوت کی دفعیں بھی گنیں۔
ہم بے موت مرنے سے انکار کریں تو دہشت گرد ہیں۔
امن کا سوال کریں تو غدار ہیں۔
تو پھر وفادار کون ہے؟ تم؟
یا تمہارے قدم بوس یہ زباں دراز؟
ملٹری اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر تحریک انصاف اپنی حکومت سمیت آنکھیں بند کرکے ان کو سپورٹ کرے مگر تحریک انصاف بند کمروں کی بجائے عمران خان، عوامی نمائندوں اور گرینڈ جرگے کے فیصلوں پر عملدرآمد چاہتی ہے۔
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
حکومتی وفد نے کہا آپکی اور محمود خان اچکزئی کی ابھی خان صاحب سے ملاقات کروانا ہمارے بس میں نہیں ہے، اور نہ ہی علاج کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کروا سکتے ہیں، لہذا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا ۔۔ علامہ راجہ ناصر عباس
چند دن پہلے شفیع جان میرے شو پر کہہ رہے تھے سہیل آفریدی unpredictable ہیں۔ لگتا ہے ٹھیک ہی کہہ رہے تھے۔ ساری دنیا کچھ بات کر رہی ہے اور وزیر اعلی نے لانگ مارچ کے آغاز کا ٹویٹ داغ دیا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں “آیا جے غوری”
حکومت الزام لگاتی ہے کہ اپوزیشن PTI کی مذاکراتی ٹیم بااختیار نہیں جبکہ دراصل حکومتی ٹیم بے اختیار لاچار اور بے بس ہے اور مذاکرات کے دوران بھی وہ آزاد نہیں ہیں
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار۔۔
محمود اچکزئی کا مؤقف ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی، لانگ مارچ مؤخر نہیں کیا جائے گا۔ عمران خان سے ملاقات کے لیے جانے والے وفد میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ۔ذرائع