Imran Khan Zindabad! 🇵🇰
Pakistani diplomacy is truly zabardast!
Pakistan Paindabad!
War brings no real fruit — let's choose business instead.
Together, we must organise ourselves in the best possible way.
یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جو کچھ یہ ظالم کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل ہے۔
وہ تو ان لوگوں کو اس دن تک کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔
(ابرہیم : 42
Hindu Pandit on Yasin Malik:
“In our hardest hour Modi didn’t show up. Not even a matchbox. Yasin Malik gave us food and medicine.”
Remember that when Godi media paints him as a villain. For millions of Kashmiris, he is still the face of a secular Kashmir.
#ReleaseYasinMalik
Before sentencing Omar al-Mukhtar to death, the Italian judge asked him:
— Did you fight against the Italian state?
Omar al-Mukhtar: Yes.
— Did you encourage people to fight against the Italian state?
Omar al-Mukhtar: Yes.
— How many years did you fight against Italy?
Omar al-Mukhtar: About 20 years.
— Do you regret what you did?
Omar al-Mukhtar: No.
— Do you know that you will be executed?
Omar al-Mukhtar: Yes.
Surprised, the judge said:
— It is very sad for a man like you to meet such an end…
Omar al-Mukhtar replied:
— On the contrary! This is the most beautiful way for my life to end.
The judge then offered to acquit him and send him into exile if he wrote a declaration ordering the resistance fighters to end their struggle. Omar al-Mukhtar responded with his famous words:
“These fingers, which testify in every prayer that there is no god but Allah and that Muhammad (peace be upon him) is His Messenger, can never write anything false! We do not surrender: we either win or die. Even if we die, we win, while you lose. The bitter truth is that you will understand this only when you die—and by then, it will be of no use to you!”
کس کس ظلم کو روئیں ، شئیر کر کے سرکاری اداروں کو جھنجوڑنے میں کردار ادا کریں۔
یہ جو بزرگ نابینا عورت نظر آرہی ہے کل اپنی بیٹی سے ملنے گئیں جب یہ بیچاری اپنے فلیٹ میں واپس لوٹیں تو وہاں پہ ایک اور فیملی موجود تھی
پہلے ان کو لگا کہ کہ یہ غلط ایڈریس پہ آگئیں ہیں کیونکہ نابینا جو تھیں نظر نہیں آتا تھا
لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بالکل درست ایڈریس پہ آئی ہوئی ہیں
لیکن ان کے فلیٹ پہ با اثر بلڈرز نے قبضہ کرلیا ہے
یہ بیچاری لیاقت آباد کراچی سپر مارکیٹ کی حدود میں موجود تھانہ میں گئیں وہاں فلیٹ پہ بااثر نعمان نامی شخص نے قبضہ کروایا ہوا تھا ۔
انہوں نے تمام کاغذات پولیس کو دیکھائے لیکن پولیس وہی بک چکی تھی انہوں نے کاروائی سے انکار کردیا
اس بیچاری بیوہ کا آخری بڑھاپے کا سہارا فلیٹ ہی ہے اور اب تک ان کا سامان اندر محصور ہے
اس بیچاری بیوہ کے لیئے آواز اٹھائیں ویڈیوبھی سوشل میڈیا پر چل رہی ہے۔
ہے کیا کوئی اس بیچاری کی مدد کرے گا ؟؟؟؟
😥😪😥
پاکستان میں ایجاد بھی جرم بن گئی ہے
عوام کو 20 روپے میں سفر کروانے والے عارف انقلابی
پر تشدد اور سولر گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا
کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں شاید "ایجاد مصیبت کی ماں" ہے۔ جس شخص نے بھی پاکستان میں کوئی چیز ایجاد کی اسے گمنام کر دیا گیا۔ مانسہرہ کے ایک غریب پرور اور ذہین شہری عارف انقلابی نے جب مہنگائی کے مارے عوام کی تکلیف دیکھی، تو انہوں نے کسی حکومت یا این جی او کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی مدد کے تحت خود ہی ایک سولر شٹل نما گاڑی تیار کر لی۔ ان کامقصد صرف ایک تھا کہ عوام کو سستی اور باوقار سواری فراہم کرنا۔
جہاں روایتی سوزوکی والے ایک مختصر سے سفر کے 50 روپے وصول کر رہے تھے، وہاں عارف انقلابی نے اسی سفر کے صرف 20 روپے لینا شروع کیے تاکہ دیہاڑی دار، طالب علم اور سفید پوش طبقہ کچھ سکون و سکھ کا سانس لے سکے۔
پاکستان میں جب کوئی غریب کا بھلا کرنے نکلتا ہے، تو مافیا کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔ عارف انقلابی کی یہ سستی اور ماحول دوست سواری جیسے ہی سڑکوں پر روانہ ہوئی، سوزوکی یونین اور مقامی ٹرانسپورٹ مافیا کو اپنی من مانی دکانیں بند ہوتی نظر آئیں۔
پھر وہی ہوا جو اس ملک میں ہر اچھے اقدام کے ساتھ ہوتا ہے۔ سوزوکی ڈرائیوروں نے متفقہ طور پر عارف کو گھیر لیا اور سستی سہولت فراہم کرنے کے "جرم" میں ان پر بے دردی سے تشدد کیا گیا۔
ان کی گاڑی، محنت اور عوام سے ہمدردی کی تذلیل کی گئی لیکن مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ، پولیس نے بھی ان بلوائیوں کو گرفتار نہیں کیا۔ جس کا شاخسانہ آج کیری ڈبے میں آئے دہشت گردوں نے عارف انقلابی کی شٹل بس کو توڑ پھوڑ کر کے نقصان پہنچایا۔
حکام بالا سے گزارش ہے کہ نہ صرف اس تشدد اور گاڑی کی توڑ پھوڑ کا فوری نوٹس لیا جائے بلکہ عارف انقلابی کو باقاعدہ تحفظ اور ان کی اس ایجاد کو قانونی سرپرستی فراہم کی جائے۔
#ArifInqilabi #JusticeForArifInqilabi #Mansehra #ElectricVehicle #SupportLocalInnovators #TransportMafia #PakistanInnovation #PakistaniJugaad #StandWithArif #UrduNews #ViralPakistan
سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم، صحافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمان کا جواب:
میرا خیال ہے کہ بہت دیر کر دی انہوں نے۔ یہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ جس وقت مریض کو صحت کے حوالے سے کوئی شکایت ہو جائے تو اس پر فوری کارروائی ہونی چاہیے تھی۔ اتنا لمبا عرصہ بلاوجہ ملک کے اندر ایک ایشو پیدا کرنا، اس پر ایک بے قراری سامنے آ جاتی ہے۔ ان سے وابستہ جو حلقے ہیں، ورکرز اور لوگ، وہ بلاوجہ ایک کرب سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ تو یہ فیصلہ اگر آنا تھا تو بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا۔ اب بھی اگر آیا ہے، دیر آید، درست آید۔مولانا فضل الرحمن
سندھ کے شہر سانگھڑ کھپرو کے رہائشی عرفان یوسف زئی ہے کارخانے میں کام کرنے والے مزدور نوجوان کی وطن سے محبت برف کا پاکستانی پرچم بنا کر وطن سے عقیدت کا اظہار
ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں ایک جوتے پالش کرنے والا بچہ ایک کار کے پاس ا کر رک گیا اور اس کو دیکھنے لگا کار کا مالک اندر ہوٹل سے نظارہ دیکھ رہا تھا اور مالک سے رہا نہ گیا اور فورن اس بچے کے پاس پہنچ گیا اور اپنی گاڑی کھول کا اس کو عزت سے اندر بٹھایا کسی کا دل خوش کرنا بھی صدقہ ہے
جب عمران خان نے اپنی منگنی کے حوالے سے لفظ عورت استعمال کیا تو معین اختر نے کہا کہ لگتا ہے آپکی اردو کمزور ہے عورت نہیں لڑکی ۔۔۔ عمران خان نے معین اختر کو اسی وقت حاضری دماغی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ لڑکی ہوتی ہے جب پچیس سال کی عمر میں منگنی کی جائے ۔۔۔ عمران خان کی مزیدار باتیں ہر سوال پر سکسر 🤎🫶
عمران خان پر لوگ یقین کرتے ہیں, عمران خان بطور وزیر اعظم قوم کو جو ہدایات دینگے لوگ مان جائینگے, لیکن مریم یا بلاول پر عوام کو بلکل یقین نہیں!!
محمد مالک