شہباز شریف صاحب نے لندن میں اسرائیل کے بانیان،محافظین،پشتیبان بااثر اسرائیل نواز خاندان Rothschild & Co سے ملاقات کی۔ یہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران اس خاندان کے ساتھ ان کی دوسری ملاقات ہے۔ یہ وہ خاندان ہے جسے عالمی سطح پر رسول اللّٰہ کی امت کے خلاف پالیسیوں اور سازشوں کے ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور یہی خاندان استعمار و سامراج کا ایک طاقتور چہرہ ہے۔یہ ملاقات غزہ/ فلسطین کے موجودہ تناظر میں بہت تشویشناک ہے،کیا حکومت بتائے گی اس ملاقات کا ایجنڈا کیا تھا؟؟؟
دوسری جانب ملک میں فلسطین کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔ آج بھی میں اپنے ساتھیوں سمیت ضمانتوں کے لیے اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش ہوا،جہاں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے کے جرم میں ہمارے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور ہمیں بغیر نوٹس جاری کئے اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔
I want to thank people across Pakistan for coming out in such large numbers tonight to show solidarity with me & support for our struggle. Our Movement for Haqiqi Azadi is gaining an unstoppable momentum & InshaAllah we will succeed as long as we stay resolute & fearless.
یہ مریم اورنگزیب کی وہ تاریخی پریس کانفرنس ہے جس میں انہوں نے خود اعتراف کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان سے بات ہورہی ہے ان کو واپس لایا جارہا ہے اور ان کے سیز فائر کی حکومتی سطح پر خیر مقدم کی۔ جون 2022
https://t.co/495yo2zCKG
آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟
ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانی@SalooDurrani بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش ہم نہ دیکھتے۔
ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔
انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔
ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔
جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔
وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔
انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘
وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔
یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔
سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔
تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔
عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔
عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔
مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اس کے بارے میں 2011 میں گفتگو۔ 👇
آج عطاتارڈ اور وزارت اطلاعات نے میرے اکاؤنٹ کی رپورٹنگ کی اور سٹیٹ دیپارٹمنٹ سے شکایت کی کیونکہ میں بلوچستان میں ہونے والے واقعات کو کوریج دیتا ہوں اور بقول ان کے اس لیے میں BLA کو پرموٹ کر رہا ہوں
آج سے تین ہفتے پہلے بلوچستان میں 18 پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشیں جلا دیں گئیں میں نے اس پر ٹویٹ کی، کوئی پاکستانی چینل بلوچستان میں ہونے والی تباہی کو کوریج نہیں دے رہا، اس ٹویٹ کے بعد عسکری اکاونٹس نے ہمیشہ کی طرح اسے فیک کہا لیکن بعد میں رات کو جب جان بحق ہونے والوں کا جنازہ پڑھایا گیا تو اس میں فوجی افسران بھی شامل تھے اور میں نے پھر اس ویڈیو کو بھی شئیر کیا پھر انہیں یہ تکلیف شروع ہو گئی کہ ویڈیو کیوں شئیر کی گئی ہے
اگر بلوچستان کی تباہی کے مناظر نہ دکھاۓ جائیں تو ARY اور جیو نیوز تو سب کچھ بہترین دکھا رہا ہوتا لیکن آج عطاتارڈ اور وزارت اطلاعات کی شکایت سے یہ کم از کم ایک بات تو مان گئے کہ بلوچستان میں تباہی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور جن ویڈیوز کو یہ فیک کہتے تھے آج انہی ویڈیوز کو ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں کہ یہ تباہی دکھا کر BLA کو پرموٹ کیا جا رہا ہے
جو کچھ ہو رہا ہے اسے دنیا کے سامنے لانا کسی پرموشن نہیں حقیقت دکھانا ہوتا ہے
اگر میری زندگی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا، تو میں اپنا معاملہ قوم کے سپرد کرتا ہوں۔ اس ملک کو ظلم سے بچانا اور مجھے انصاف دلانا اب پاکستان کے غیرت مند عوام کا فرض ہے۔ عمران خان
“میں عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے ماننے والے ہیں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں یزیدیت اور فرعونیت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے کیونکہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی انسان کے آگے جھکنے کو شرک مانتے ہیں۔ مجھ پر اور بشرٰی بی بی پر جیل میں جو ذہنی تشدد ہو رہا ہے وہ عاصم منیر کروا رہا ہے اور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم جھک جائیں یا ٹوٹ جائیں-
جنرل یحیٰی خان کو فوج نے ملک چلانے کے لیے منتخب نہیں کیا تھا بلکہ اس نے فوج کا کندھا استعمال کر کے ڈکٹیٹر شپ کی اور ملک میں ظلم و جبر کا بازار گرم کیا۔ اپنے دس سالہ اقتدار کی لالچ میں اس نے ملک دو لخت کر دیا۔ آج عاصم منیر بھی اسی طرز پر فوج کا کندھا استعمال کر کے ملک میں لاقانونیت اور فسطائیت کا ماحول بنائے ہوئے ہے۔
عاصم منیر نے اپنے دس سالہ ناجائز اقتدار کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ سب سے پہلے جمہوریت کا گلا دبوچا، نو مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جب تحریک انصاف کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا تو اس مینڈیٹ کو بے شرمی سے چرا لیا گیا۔ عوام کا مینڈیٹ چرا کر سزا یافتہ لوگوں کو اقتدار دے دیا گیا۔ اس کے بعد عدلیہ کو مفلوج کیا گیا اور چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے۔ عدلیہ کو سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
تیسرے نمبر پر میڈیا کی آزادی پر قدغن لگا دی گئی ہے، آزاد میڈیا کا تصور پاکستان سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ نہایت مشکل سے پاکستان میں جیسی تیسی جمہوریت کے تسلسل سے یہ دو چیزیں، کسی حد تک خود مختار عدلیہ اور آزاد میڈیا تھا، مگر عاصم منیر کی وجہ سے ان دونوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ملک میں اس وقت جمہوریت معطل ہے، انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے، عدلیہ غلام اور میڈیا خوفزدہ ہے۔
عاصم منیر جب سے چیف بنا ہے افغانستان کے ساتھ حالات خراب کرنے کی کوشش میں ہے۔ چیف بنتے ہی پہلے افغانستان کو دھمکیاں لگائیں، پھر تین نسلوں سے مقیم افغانیوں کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا پھر وہاں ڈرون حملے کیے اور پوری کوشش کی کہ ان کو اکسا کر پاکستان سے جنگ کروائی جائے اور پاکستان میں دہشتگردی کا ماحول بنایا جا سکے تاکہ مغرب میں موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابیز کو "مجاہد" بن کر دکھا سکے کہ میں ہی ہوں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہوں۔
جبر کے اسی نظام کے باعث پاکستان میں اس وقت معیشت بھی تاریخی سست روی کا شکار ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بالکل صفر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنی کم سرمایہ کاری نہیں آئی جتنی اس دور میں ہوئی۔ تین سال میں ملک پر قرضہ دگنا ہو چکا ہے۔ ہر پاکستانی اس وقت قرضے کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ جب تک ملک میں عوامی حکومت قائم نہیں ہو گی معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔
ملک میں اخلاقیات کا جو جنازہ اٹھا ہوا ہے اس کی بھی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ جو کام جنگوں میں بھی نہیں ہوتے وہ یہاں عوام کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے، بچوں کو اٹھا کر ہراساں کیا گیا، بزرگوں کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ کبھی کسی سیاستدان کے گھر کی غیر سیاسی خواتین کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا جو میری اہلیہ اور دیگر گھر والوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جب ملک کا اقتدار ان چور لٹیروں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے گا جن کی کرپشن کی داستانوں سے بچہ بچہ واقف ہے تو اخلاقیات ایسے ہی تباہ ہوں گی”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
1/2
@RoymukhtarRoy پنجابیوں بزدل اور غیرت نہیں ہے 2 ہزار سال کی تاریخ پڑھ لے یہ وہ ہیں جو بیرونی حملہ آوروں کو کہتے تھے ہماری بھینسیں چھوڑ دو ہماری عورتوں کو لے جاؤ معذرت کے ساتھ
*⭕اسرائیلی چینل 14:*
نیتن یاہو کی ابوظہبی میں ملاقات 10 مسلم ممالک کے نمائندوں کی موجودگی میں ہوئی:
متحدہ عرب امارات، فلسطینی اتھارٹی، سعودی عرب، امریکہ، مراکش، کویت، بحرین، لیبیا، عمان اور مصر۔
پہلے نیتن یاہو اور محمد بن زاید کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی اور پھر دیگر حکام بھی اس نشست میں شامل ہوئے
At 37, Sohail Afridi is the PTI’s top elected leader. But the Khyber Pakhtunkhwa chief minister is now assuming a major national role too – as the party’s top mobiliser before a march to demand freedom for Pakistan’s former PM Imran Khan.
Read more: https://t.co/iOYJY9bSjX
ہر جگہ پھیلا دیں 🚨
یہ خاتون پشتو میں کہہ رہی ہے خوفیہ اداروں کے لوگ میرے بیٹے کو اٹھانے گھر پر ائیں جب جرم پوچھا تو مجھے بھی مارا، میرا بیٹا پتہ نہیں زندہ ہے یا نہیں ابھی تک کوئی خبر نہیں ہے،
🚨 *بھارت: 600 سال پرانی مسجد کو منہدم کرنے کی کوشش ناکام*
*بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں، سیکڑوں مسلمان ایک 600 سال پرانی تاریخی مسجد کو بچانے کے لیے باہر نکل آئے۔*
*مظاہرین نے مسجد کے اندر دھرنا دیا اور بلڈوزروں کے ذریعے اسے منہدم کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔**
#خان_کی_بہنیں_فوری_رہا_کرو
ہم تو شروع سے ہی کہ رہے ہیں کہ ن لیگ ایک دہشت گرد جماعت ہے-
آج شفیع جان نے ن لیگ کے جرائم جن میں سرفہرست مشرف کا جہاز اغوا، سپریم کورٹ پر حملہ، طالبان کو خط، اجمل قصاب کے قصےبیان کرکے انہیں بے نقاب کیا ہے-
یاد رہے کہ ن لیگ نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں نہتےلوگوں کا قتل عام بھی کیا تھا-
"میں عالیہ حمزہ کیلئے پریشان تھی تو مجھے کہا گیا کہ 2037 تک بھول جاو، استثنی لیکر، آئین میں دو تین شقیں ڈال کر اور قانون بدل کر خدائی دعوی کیسے کر سکتے ہیں؟ سیاستدان اقتدار کیلئے جوتوں میں منہ کے بل لیٹے ہوئے ہیں، عالیہ حمزہ کے شوہر کینسر سروائیور ہیں، عالیہ کی چھوٹی بیٹی کی آنکھوں میں خوف اور آنسو جم چکے ہیں، انکے گھر میں مستقل ماتم کی فضا ہے، عالیہ کی سالگرہ پر بیٹی جیل میں کیک لے گئی جو نہیں لے جانے دیا گیا، ماں جیل کی تنگ جالی سے صرف انگلی نکال کر بیٹی کو چھو رہی تھی، عالیہ حمزہ کی گاڑی، فرنیچر، الماریاں، ٹی وی اور بچیوں کا لیپ ٹاپ تک توڑا گیا، دروازے پر گھنٹی بجے تو بچے گھبرا جاتے ہیں"
سابق ایم این اے @Saira_Banokhan@DRTPakistan
میرے ساتھ کھڑے ہیں علیمہ بی بی جے صاحبزادے شاہ ریز خان، انہوں نے بتایا کہ گھر میں بیوی، بچیاں سب خواتین موجود تھیں، لیکن 100 سے زائد مرد اہلکار گھر میں گھسے اور علیمہ بھی اور پھر دیگر دونوں بہنوں کو گرفتار کر کے لے گئے، یہ سفاکیت کی تمام حدیں توڑی گئیں ہیں، سلمان اکرم راجہ
Hundreds of Muslims have gathered in the Indian city of Ujjain to protest the partial demolition of a mosque they say is more than 600 years old.
The BJP-led state government says the action is needed to widen roads ahead of the 2028 Hindu pilgrimage.
قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا۔ اجلاس میں شریک تمام سیاست دانوں نے کالعدم تنظیم کے ساتھ بات چیت کرنے پر اتفاق کیا۔ تمام کارروائی کی نگرانی پارلیمنٹ کرے گی۔ رانا ثناء اللہ (7 جولائی 2022)