شکاگو میں شوکت خانم ہسپتال کے فنڈ ریزر میں کیا ہی شاندار رات تھی! ہدف کی رقم: 350,000 ڈالر، جمع ہونے والی رقم: تقریباً 700,000 ڈالر، یہ عمران خان کے برانڈ کی طاقت اور شوکت خانم ہسپتال کی شاندار ٹیم کی محنت کا ثبوت ہے۔ جبران الیاس
#pakistan@agentjay2009
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
جو جو خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کی حمایت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ آئین کے غداروں اور مینڈیٹ چوروں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفیشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اُس کے مفادات جڑے ہیں۔
یاد رکھیں
ایمرجنسی تب لگتی ہے جب حالات اور معاملات کنٹرول میں نہ رہیں۔ گنڈاپور کے لانگ مارچ کی طرح اگر موجودہ مارچ بھی فکس میچ ہوتا تو ایمرجنسی لگانے کی ضرورت نہ پڑتی۔
تاریخ گواہ ہے ایمرجنسی جس نے بھی لگائی وہ زیادہ دن نہیں ٹِک پایا۔
مجبوراً ہمیں یہ کرنا پڑا ۰۰۰۰ ویر داخلہ محسن نقوی
مجبوری؟
جی ہاں مجبوری تھی کہ ہم عمران خان سے ایک ملاقات نہیں کرا
سکتے تھے اور اس لئیے صوبے کے عوام کا مینڈیٹ چوری کرنا پڑا
پیپلز پارٹی، بنگال میں فوجی آپریشن کے لئے اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی حمایت دی، ملک ٹوٹ گیا
بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے فوجی آپریشن کیا، آج وہاں کی نوجوان نسل علیحدگی کی بات کر رہی ہے
پختونخوا میں جمہوری حکومت ختم کرکے ، شدت پسندوں کو بندوق اٹھانے کی دعوت ؟
یہ کس ایجنڈے پر ہیں ؟
ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد سہیل آفریدی وزیر اعلٰی تو رہیں گے لیکن ان کے اختیارات شہباز شریف جتنے ہوں گے۔
جتنا اختیار وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر شہباز شریف کا ہے، اتنا ہی ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد سہیل آفریدی کے پاس۔
لیکن سہیل آفریدی کی کرسی اپنی حق حلال کی کمائی ہوئی عوامی مینڈیٹ سے حاصل شدہ ہے۔
جبکہ شہباز شریف کے پاس کرسی بھی فارم 47 والی ادھاری کرسی ہے۔
اب خیبر پختونخواہ کے ہر معاملے کے ذمہ دار ایمرجنسی نافذ کرنے والے ہیں۔
جس طرح شہباز شریف کی حکومت کی کارکردگی کے ذمہ دار ان کے ساتھ ساتھ ان کو لانے والے ہیں۔