سب تیاری مکمل ہے ۔۔۔۔ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے لیکن مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب ہر حملہ پاکستان پر حملہ ہے کچھ معاملات کا اعلان نہیں کیا جاتا ان پر خاموشی سےعمل درآمد کیا جاتا ہے سعودی عرب نے جب بھی اشارہ کیا تو پاکستان مکہ معاہدے پر اس سرعت اور طاقت کے ساتھ عمل دار آمد کریگا کہ دنیا حیران رہ جائے گی
محسن نقوی نے آج ایک بار پھر نئے صوبوں کے حوالے سے عمران خان کے بیان کو کاٹ کر چلوایا
اس بیان میں عمران خان نے بار بار کہا کہ “یہ میرا ذاتی مؤقف ہے- اس حوالے سے بحث / debate ہونی چاہیے”
عمران خان نے ڈکٹیٹر اور اس کے وائسرائے کی طرح اپنا مؤقف زبردستی مسلط کرنےکی کوشش نہیں کی
اور موجودہ سارا سسٹم ہی ناجائز ہے جس کا کیا گیا ہر اقدام ناجائز ہے - اور یہ سسٹم یا فارم 47 کی ناجائز پیداوار پارلیمان کوئی اختیار ہی نہیں رکھتی ایسا کوئی کام کرنے کی
اسلام آباد جیسا چھوٹے سائز کا شہرعملی طور پر ایک صوبہ ہی ہے۔ یہاں کے حالات دیکھ کر خود اندازہ لگا لیں چھوٹے صوبے بنانے سےگورننس کتنی بہتر ہوجائے گی۔
یہی اشرافیہ چھوٹے صوبوں میں بھی ایسی ہی گورننس کرے گی کیونکہ توجہ ان کی سوچ اور پڑھائے جانے والے سلیبس بدلنے کی بجائے جغرافیائی باؤنڈریز پر ہے تاکہ مزید اشرافیہ سرکاری پروٹوکول اور وسائل استعمال کر سکے۔
حکمرانی کرنے والے لوگوں کی ذہنیت بدلیں تب ہی کولیپسڈ سسٹم تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس اشرافیہ کو دُنیا کا بہترین سسٹم دے دیں، کارکردگی ایسی ہی رہے گی۔
It’s not the gun but man behind the gun
قیام پاکستان کے وقت اس کی نظریاتی اساس کیا تھی اب یہ بات غیر متعلق ہوچکی ہے۔اب پاکستان کی نظریاتی اساس اس کےسواکچھ اور نہیں ہوسکتی کہ 25 کرروڑ عوام کی خوشحالی،سماجی اورمعاشی ترقی کو ممکن بنایا جائے۔ پاکستان کے تمام شہریوں کو بلا لحاط مذہب، قومیت اوررنگ و نسل مساوی آئینی اورقانونی حقوق دیئے جائیں۔ وفاق پاکستان کی تمام اکائیوں کو ان کے قدرتی وسائل پرحق ملکیت کوتسلیم کیا جائے۔ جمہوری اداروں اورجمہوریت کو مظبوط اور مستحکم بنایا جائےاورغیرمنتخب ریاستی اداروں کی بالا دستی کو مسترد کیا جائے۔ دنیا بھراورخطے کےممالک کے ساتھ باہمی مفاد اور برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کئےجائیں ۔آج کےعہد کا یہی نظریہ پاکستان ہےاوراس نطریہ پاکستان کے تکمیل کے لئے ہرذی شعور پاکستانی کوجدو جہد کرنا چاہیے۔
پاکستان زندہ باد ۔پاکستان کے 25 کروڑعوام پائندہ باد
لیاقت علی کا تین سال پرانا نوٹ
کہنے کو پاکستان بھی اسلامی ملک ہے
مگر درحقیقت پاکستان میں اسلام کہیں نہیں ہے
اسلام کو جب تک بطور سسٹم انسٹال نہ کیا جائے نہ ملک اسلامی بنتا ہے ، نہ معاشرہ اسلامی بنتا ہے
آپ کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ، آپ کے مذہبی فرقے اور جماعتیں :
آپ کو یقین نہیں آئے گا
مگر ان کا گٹھ جوڑ دراصل اس لئے ہے کہ پاکستان میں کبھی اسلام نافذ نہ ہونے پائے
دین اسلام واحد دین ہے کہ جس میں انسانیت کے تمام مسائل کا حل موجود ہے
#پاکستان
@saifullahawan40 بلکل معلوم نہیں تھا۔ ان سے جھوٹ منصوب کرتے شرم کرنی چاہیے۔
غیب کا علم سوائے اللہ کے کسی کو نہیں
تم لوگوں کے یہ جھوٹے عقائد ان کی عزت و تکرم میں کسی کمی بیشی کا باعث نہیں بنتے۔
یہ ملک نہیں، کوئی راجواڑا ہے
جو نشستیں سنی اتحاد کونسل کےلیے اس بنیاد پر حلال نہیں تھیں کہ اس نے کوئی سیٹ نہیں جیتی تھی، وہی نشستیں اب استحکامِ پارٹی کے لیے جائز قرار دے دی گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے پیپلزپارٹی کی درخواست مسترد کرتے ہوئےIPPکو مخصوص نشستوں کےلیے اہل قرار دےدیا
🚨🚨🚨ضلع خیبر جمرود وی سی ون غنڈی فورکے رہائشیوں نےوزیراعلی سہیل آفریدی کےبھائی نویدافریدی کاراستہ روک لیا؛شہید مسجد کیلئے 16 سولر شیشے منظور ہوئے تھے لیکن صرف 8 لگائے گئے،باقی عائب ہیں، ہمارے ہسپتال کیلئے 42 لاکھ روپے منظور ہوئے تھے، صرف 15 لاکھ لگائے گئے،مظاہرین
اس وقت کشمیر کے خراب حالات کی ذمہ داری دو مین اسٹریم پارٹیوں کی ہے ایک پیپلز پارٹی اور دوسری پی ٹی آئی۔
پیپلز پارٹی کے پاس سیٹیں ہتھیانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے بلیک میلنگ ان کو کہا گیا تھا کہ گلگت کی سیٹیں لو حکومت بناؤ اور امن و چین سے رہو، مگر ان کے دماغ میں کشمیر کا الیکشن بھی تھا۔ لہذا اس چتر چالاکی کی خمیازہ اب گلگت کی حکومت سے ہاتھ دھونے کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ پھر یہ بھولڑو کہیں گے کہ انکا مینڈیٹ چوری ہوا ہے۔ سیانے اسی لئے کہتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ پین یکی بیک فائر کرجاتی ہے۔
کل پرسوں گلگت بلتستان میں الیکشن ہونا ہیں ۔۔اسلئے پاکستانیوں کو گلگت بلتستان کی تاریخ پڑھنی چاہیئے
گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ تھا اور یہاں پر بھی کشمیر کی طرح ڈوگرا گورنر تعینات تھا
گلگت کا گورنر بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ تھا
اسے یکم نومبر 1947 کو گلگت اسکاؤٹس اور گلگت چترال اور بلتستان کے مقامی غیور عوام نے ڈوگرا راج سےبغاوت کرکے گرفتار کر لیا
اس وقت گلگت سکاؤٹس کا انچارج میجر ولیم براؤن تھا
اور نومبر 1947 کو اسلامی جمہوریہ گلگت کا اعلان کر دیا تھا
اس کے بعد سکردو ، ہنزہ اور نگر کے علاقے آزاد کرواۓ گۓ
گلگت کے علماۓ کرام کا کردار بھی سراہنے کے قابل ہے جنہوں نے جہاد کے فتوے دے کر عوام کو ڈوگروں سے آزادی کی راہ ہموار کی
گلگت کراچی ، لاہور یا اسلام آباد کی کوششوں سے نہیں بلکہ اس کی آزادی اور اس کا پاکستان سے الحاق کا کریڈٹ گلگت بلتستان کے غیور اور خودار لوگوں کو جاتا ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے پہلے گلگت کو آزاد کروایا اور پھر اس کا پاکستان کے ساتھ الحاق کیا
بہادر اور دلیر گلگت ، چترال اور بلتستان کے لوگوں کا یہ احسان ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیوں پہ رہے گا
آپ جب بھی ان علاقوں میں جائیں تو یہ مت بھولیں کہ یہ علاقہ کئ جانوں کا نذرانہ دے کر حآصل کیا گیا ہے اور آپ بہادروں کے سرزمین پر قدم رکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ن لیگ اور پیپلزپارٹی گلگت بلتستان میں نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑ رہے بلکہ تقاریر میں ایک دوسرے پر تنقید بھی کر رہے جبکہ یہی دونوں جماعتیں مل کر ملک بھر میں حکومت بھی کر رہی. گلگت بلتستان میں انہیں انتخابی مہم چلانے کی بھرپور اجازت ہے جبکہ تحریک انصاف کو الیکشن مہم سے روکا جا رہا یے گھروں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں. دونوں جماعتیں فکس میچ کھیل کر الیکشن جیتنا چاہتی ہیں مگر عوام انکی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے.