لذلك حذّر الإسلام من احتقار أي مسلم، مهما كان مظهره أو عمله أو حاله.
قال رسول الله ﷺ:
«رُبَّ أشعثَ مدفوعٍ بالأبواب، لو أقسم على الله لأبرَّه»
رواه مسلم.
قد ترى رجلًا يعمل في النظافة، أو يحمل شيئًا في يده، أو يعيش حياة بسيطة، فتظن أنك أفضل منه لأنك تملك مالًا أكثر أو وظيفةً أعلى أو مظهرًا أجمل.
لكن ما أدراك بما بينه وبين الله؟
ربما يكون هذا الذي لا تلتفت إليه، أقرب إلى الله منك، وأكثر منك حفظًا للقرآن، وأصدق قلبًا، وأخفى عملًا، وأرفع منزلةً عند الله.
وقد ترى أناسًا يجمعون القمامة في الطرقات، ثم تسمع أحدهم يقرأ القرآن بصوتٍ يلامس القلب، فتدرك أن المكانة عند الله لا تُقاس بالوظيفة ولا بالملابس ولا بالمظهر.
قال تعالى:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾.
فلا تجعل اختلاف الطبقات بين الناس يصنع في قلبك كِبرًا على مسلم.
قد تحتقره بعينك، وهو عند الله خيرٌ منك.
🔴 «مرحباً بمصر».. 70 عاماً من الصداقة والتعاون بين الصين ومصر العربية
مع اقتراب زيارة الرئيس الصيني شي جين بينغ إلى مصر، تقدم وسائل الإعلام الصينية الفيلم الخاص «مرحباً بمصر» بعدة لغات، بينها الصينية والعربية.
ويستعرض الفيلم محطات بارزة من تاريخ الصداقة المصرية الصينية الممتدة لنحو 70 عاماً، مسلطاً الضوء على مسيرة التعاون والإنجازات المشتركة بين البلدين.
سمو أمير منطقة المدينة المنورة
مع التحية:-
طلاب الكلية التقنية بمحافظة الحناكية بلا باصات نقل ويضطرون للحضور بسيارات والديهم الخاصة واغلبها سيارات متهالكة.
دوريات مرور المحافظة بدلاً من تنظيم سيرهم تقف لهم بالقرب من بوابة الكلية لتكثيف المخالفات عليهم.
هذا الأجراء يتكرر كل عام دراسي مما دفع الكثير من طلاب الكلية لترك الدراسة !
أبنائكم وأولياء أمورهم يناشدون ج ضم سموكم النظر في حالهم بعين اللطف والعطف..
@imarat_almadina
عـــــــــــــــــاجل
🔴الفيديو كامل.. الرئيس شي جين بينغ يصل القاهرة، وكان في استقباله عند سلم الطائرة بمطار القاهرة الدولي الرئيس عبد الفتاح السيسي وقرينته السيدة انتصار السيسي.
ووصل الرئيس شي جين بينغ وقرينته إلى مصر العربية، في زيارة رسمية.
واقامت مصر حفل استقبال كبير اتسم بالحفاوة، بمشاركة أطفال وشباب حملوا أعلام مصر والصين، إلى جانب مواطنين مصريين وصينيين، تعبيراً عن الود والترحيب بالرئيس الصيني، وتجسيداً لعمق العلاقات التاريخية بين الشعبين الصديقين.
صورة نادرة لأول جواز سفر للأمير #سعود_الفيصل رحمه الله، وزير الخارجية السعودي الأسبق، وقد صدر هذا الجواز عام 1366هـ/1947م، عندما كان عمره 7 سنوات.
#السعودية
قواتنا الجوية تعاملت مع طائرة مسيرة فوق المياه الإقليمية للدولة قادمة من إيران
أعلنت وزارة الدفاع عن تعاملها مع طائرة مسيرة فوق المياه الإقليمية للدولة قادمة من إيران.
وأكدت وزارة الدفاع أن القوات المسلحة على أهبة الاستعداد والجاهزية للتعامل مع كافة التهديدات، وأن أنظمة الدفاع الجوي تواصل مهامها في رصد ومتابعة الأجواء على مدار الساعة.
كما تهيب بالجمهور الكريم استقاء كافة الأخبار من الجهات الرسمية في الدولة وتجنب الشائعات والمعلومات المغلوطة.
#وزارة_الدفاع
#وزارة_الدفاع_الإماراتية
#MOD
#UAEMinistryOfDefence
برافو للمخابرات العامة المصرية بإعتقال مجندة إسرائيلية متخفية في القاهرة بطريقة ذكية. ولها اعترافات صادمة في جلسة التحقيق وقالت.
اعتقدت أن جواز سفرها الهولندي سيكون غطاءً آمناً لها في شوارع القاهرة، لكن الرصد الأمني كان لها بالمرصاد.
👇👇
بلوقر ارتيرية تسمي نفسها: "منى بنت الحارة" كانت في بث مباشر في دولة اجنبية وتتكلم وتنتقد مصر صادف في نفس الدولة رجل مصري كان يشوف البث وعرف موقع البنت
جاء الرجل من خلفها وفاجأها وسألها ليش تغلط على مصر؟ وهنا تلعثمت منى وفقدت الكلمات وبدأت تنكر انها تحدثت عن مصر حتى صدمها عندما قال لها انه كان يتابع بثها المباشر وهنا كانت ردة فعلها:
جب یہ ویڈیو دیکھی تو ذہن میں پہلا خیال یہی آیا کہ شاید کوئی ستر سالہ بوڑھی ماں ہوگی، جسے اس کی دو بیٹیاں سہارا دے کر کوئٹہ پریس کلب لائی ہیں۔ مگر غور کیا تو سامنے ایک نوجوان لڑکی تھی، جو شاید سترہ اٹھارہ سال کی دکھائی دے رہی تھی۔ پھر خیال سا آیا کہ آخر اتنی کم عمر لڑکی اس قدر نڈھال کیوں ہے، قدم اٹھانا بھی دشوار کیوں ہے؟
پھر جب اس کی پریس کانفرنس سنی تو دل مزید بوجھل ہوگیا۔ اسماء امان اللہ نے اپنی درد بھری داستان سناتے ہوئے بتایا کہ 13 اگست کی شب تقریباً گیارہ بجے خدا بخش ولد بختیار احمد، اس کے ماموں کا بیٹا جاوید ولد عبدالصمد، ماموں کا نواسہ سراج ولد احمد حسین اور رفیق ولد یوسف محمد یوسف دیوار پھلانگ کر اس کے گھر میں داخل ہوئے۔ اس کے بقول، ملزمان نے اس پر اور اس کی والدہ پر تشدد کیا، گھر سے سونا، چاندی، بالیاں اور دیگر زیورات کے علاوہ 65 ہزار روپے بھی لے لیے، بھائی کے میٹرک سند دیگر دستاویزات بھی ۔ اسے مارا پیٹا اور پھر گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔
اسماء کے چہرے پر تشدد کے نشانات اس کی فریاد کی خاموش گواہی دے رہے تھے۔
اس نے بتایا کہ اسے جوائنٹ روڈ، کوئٹہ ریلوے کالونی میں احمد حسین کے گھر لے جایا گیا، جہاں اس نے مدد کی اپیل کی اور ان کی وردی کا واسطہ بھی دیا، مگر اس کے مطابق کوئی مدد نہیں کی گئی۔ وہاں اس کا سابق منگیتر خدا بخش مبینہ طور پر زبردستی نکاح کرنا چاہتا تھا۔ اس کی رضامندی نہ ہونے پر مولوی نے نکاح پڑھانے سے انکار کیا تو وہ مزید مشتعل ہوگئے۔
اسماء کے مطابق اسے دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اس نے بات نہ مانی تو اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرکے اسے کسی ویرانے پہاڑ میں قتل کرکے پھینک دیا جائے گا۔ اس دوران، اس کے بقول، جاوید نے اس کا گلا دبانے کی بھی کوشش کی۔ بعد ازاں اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے گاڑی میں ڈال دیا گیا۔
کولپور کے مقام پر ماشاءاللہ ہوٹل کے قریب گاڑی روکی گئی۔ اسماء کے مطابق وہاں اس کے اغوا کاروں نے چائے پی، اور چونکہ انہیں معلوم تھا کہ آگے ایف سی کی چیک پوسٹ ہے، اس لیے اس کے ہاتھ پاؤں کھول دیے۔ اسے دھمکایا گیا کہ اگر اس نے شور مچایا تو اس کی ماں اور بہن کو نقصان پہنچایا جائے گا اور اسے ایف سی کے حوالے کرکے اس کی عزت خراب کروائی جائے گی۔
مگر شاید اس بے بس لڑکی کی قسمت میں ابھی زندگی باقی تھی۔
جیسے ہی گاڑی ناکہ بندی پر پہنچی، اسماء نے چیخ چیخ کر ایف سی اہلکاروں سے مدد مانگی۔ اس کے پاؤں ننگے تھے، تشدد کے باعث کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ اس کے مطابق ایف سی اہلکاروں نے فوراً اسے چپل دی اور سر پر چادر اوڑھائی۔
دوسری جانب اغوا کاروں نے مبینہ طور پر یہ کہہ کر بچنے کی کوشش کی کہ وہ اسے علاج کے لیے لے جا رہے ہیں اور اس کا ذہنی توازن درست نہیں۔ مگر اسماء نے اہلکاروں کے سامنے اپنی فریاد دہراتے ہوئے کہا کہ وہ بالکل ہوش و حواس میں ہے، اسے اغوا کرکے لے جایا جا رہا ہے، اس کے گھر پر حملہ کیا گیا، زیورات اور رقم لے لی گئی اور وہ اپنی مرضی سے ان کے ساتھ نہیں جا رہی۔
بالآخر ایف سی اہلکاروں نے اسے ان کے قبضے سے آزاد کرایا۔
آج اسماء اپنی والدہ کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب پہنچی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ابھی تک خفیہ مقام پر رہ رہی ہے، مگر خوف اب بھی اس کے ساتھ ہے۔ اسے ان لوگوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے اور وہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور آئی جی بلوچستان محمد طاہر سے انصاف اور تحفظ کی اپیل کر رہی ہے۔
ایک اسماء جتک کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا، اسے انصاف نہیں ملا، اس کے خاندان کو تحفظ نہیں ملا، کہ ایک اور اسماء اپنی فریاد لے کر پریس کلب پہنچ گئی۔
آخر کب تک ہماری بیٹیاں اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستانیں لیے پریس کلبوں کے دروازے کھٹکھٹاتی رہیں گی؟