بھولنا مت 🚨
کچھ دن پہلے ڈاکٹر یاسمین نے پیغام بھیجا تھا کہ اس عمر میں ہم سب کو طبی امراض کا سامنا ہے، ہمارے حالات جیل میں روز بروز بگڑ رہے ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کوئی مخصوص گروپ نہیں اس لئے جتنا بھی ممکن رہائی کے لئے آواز اٹھائیں
This is not a rant by a random genocidal lunatic. It's a public post by the national security minister of the Israeli regime.
The genocidal death cult headquartered in Tel Aviv is a threat to all of humanity. It threatens all humans. Its only interest is permanent war.
Yesterday, our family met with KP ministers at the Islamabad High Court. We held a detailed discussion on the steps being taken to restore all of Imran Khan’s legal and lawful prison rights.
During the meeting, Ministers provided the following update:
1. There will be no surplus budget, as Imran Khan has consistently directed that all available funds be utilized for the development and uplift of the people of Khyber Pakhtunkhwa.
2. The KP Government will not sign any agreement to transfer the Rs. 175 billion requested by the Federal Government unless the following demands are met:
• Khyber Pakhtunkhwa must receive its full share for the merged districts (formerly FATA) for the current fiscal year, amounting to approximately Rs. 300 billion. These funds are essential for the economic development and stability of the merged areas.
No agreement will be signed until all of Imran Khan’s legal and lawful rights are fully restored, including
1. The immediate transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital for proper diagnosis, examination, and treatment by qualified specialists.
2. An immediate end to Imran Khan’s eight-month isolation and solitary confinement.
a) Restore weekly meetings with 6 family members, 6 members of his legal team, and 6 friends (political associates)
b) Restore his weekly phone calls with his sons.
c) Restore his access to books, newspapers, and other reading material.
These are the basic legal and human rights that must be respected and restored without further delay.
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
شہزاد اکبر کے تہلکہ خیز انکشافات!!
پاکستان میں بڑے بڑے آفسران کرپشن کیسے کرتے ہیں, اور اپنی فیملیز کو باہر شفٹ کیوں کر رہے ہیں,
اس میں فوج اور باقی ادارے شامل ہے!!
پاکستانیوں سنیں اور جاگ جائے خدا واسطہ
@MoeedNj Pakistan sy itna sarry kiu rahty hain aap har waqt..... girl friend boy friend chakar sy khush nahi thy tu hi many shifted to Pak with family while kids r growing, no?
Inaugurated Skardu international airport. InshaAllah, this will take mountain tourism to a level where it will bring in foreign exchange for the country & raise the local community's standard of living. I want to thank the people of Skardu for their generous welcome.
آخر کار فضیلہ قاضی بھی صبر تمام ہوگیا!!🔥
فضیلہ قاضی نے, اقرار الحسن کی معافی کو رد کرکے اقرار الحسن کو زہنی مریض قرار دے دیا!!
کیا زبردست کلاس کی ہے, اقرار الحسن غلیظ کی!!
زبردست فضیلہ قاضی صاحبہ!!👏
اسی طرح سب کو آگے آکر اب بولنا چاہیے!!
“کیا تم نے اُس شخص کو دیکھا جو ایک بندے کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے؟”
— سورۃ العلق 96:9-10
ہم نے حافظ کو دیکھا ہے جس نے عمران خان 142 جمعے اور عید کی نمازیں نہیں پڑھنے دیں ہیں۔