جسٹس نعیم افغان نے سوال اٹھایا کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ہسپتال کے باہر ��جمع نہیں لگے گا؟ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں دیگر مریض بھی ہوتے ہیں، کسی کو ڈسٹرب نہیں ہونا چاہیے۔
عذیر بھنڈاری نے بتایا کہ اڈیالہ جیل کے باہر ایک کلومیٹر دور چوکی موجود ہے،
حکم آیا ہے احتجاج سے کچھ نہیں ملے گا نظام کو سپورٹ کرے اور نظام کے تھروں اپنے لیے راستہ نکالے ،
عمران خان کیلئے سپریم کورٹ کے احکامات آگئے ہیں
#EnoughIsEnoughFreeKhan
کہیں جشن، کہیں ماتم… کشمیر، تیرے اندر کیا کیا نہیں دیکھا۔ مگر دیکھنے، سمجھنے اور اخذ کرنے کی اصل بات حکومتی دعووں اور زمینی حقائق کا فرق ہے، جو اس ویڈیو میں آپ کے سامنے ہے
عطا تارڑ نے راولاکوٹ میں ایسے آج جیتا ہے
#rawlakotajk#kashmir#AJK#کشمیر_کو_امن_دو
امیر مقام صاحب فرما رہے ہیں کہ ٹرن آؤٹ 60 فیصد تھی ، امیر مقام صاحب یہ فیصلے اور دعوے اسلام اباد میں بیٹھ کر اچھے نہیں لگتے گراؤنڈ پر جاکر دیکھ لیتے کہ کیا صورتحال ہے یا تو آپ کو بے خبر رکھا گیا یا اپ کسی کی خوشنودی کیلئے جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں
#کشمیر_کو_امن_دو
میں نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا، اس کے مطابق عوام کی بہت بڑی تعداد نے انتخابی عمل سے خود کو دور رکھا۔ اگر واقعی زمینی صورتحال یہی ہے اور عوام کی اکثریت نے ووٹ ڈالنے کے بجائے بائیکاٹ کیا، تو پھر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ منتخب ہونے والے نمائندوں کو عوامی مینڈیٹ کس حد تک حاصل ہے
اب حسبِ روایت نتائج آئیں گے، کوئی جیت کا جشن منائے گا، کوئی شکست پر ناراض ہوگا، اور بتایا جائے گا کہ فلاں جماعت نے اتنی نشستیں جیت لیں اور فلاں ہار گئی۔ لیکن ہم جیسے لوگوں کے لیے، جو اب بھی کہیں نہ کہیں جمہوریت اور عوامی رائے کی اہمیت پر یقین رکھتے ہیں، آج کا دن افسوس کا دن ہے۔
اب حسبِ روایت نتائج آئیں گے، کوئی جیت کا جشن منائے گا، کوئی شکست پر ناراض ہوگا، اور بتایا جائے گا کہ فلاں جماعت نے اتنی نشستیں جیت لیں اور فلاں ہار گئی۔ لیکن ہم جیسے لوگوں کے لیے، جو اب بھی کہیں نہ کہیں جمہوریت اور عوامی رائے کی اہمیت پر یقین رکھتے ہیں، آج کا دن افسوس کا دن ہے۔
ان چار حلقوں میں تقریباً چار لاکھ رجسٹرڈ ووٹر ہیں، مگر میری آنکھوں کے سامنے بمشکل چالیس ہزار لوگ ووٹ ��النے نکلے۔ ہر طرف دکانیں بند نظر آئیں، گلی گلی بائیکاٹ کے بینرز لگے ہوئے تھے، بچوں کے نعرے سنائی دے رہے تھے، جبکہ پولنگ اسٹیشنوں پر زیادہ تر سیاسی جماعتوں کے کارکن ہی موجود تھے۔
ان چار حلقوں میں تقریباً چار لاکھ رجسٹرڈ ووٹر ہیں، مگر میری آنکھوں کے سامنے بمشکل چالیس ہزار لوگ ووٹ ڈالنے نکلے۔ ہر طرف دکانیں بند نظر آئیں، گلی گلی بائیکاٹ کے بینرز لگے ہوئے تھے، بچوں کے نعرے سنائی دے رہے تھے، جبکہ پولنگ اسٹیشنوں پر زیادہ تر سیاسی جماعتوں کے کارکن ہی موجود تھے۔
میرپور کے الیکشن سے ابھی فارغ ہوا ہوں۔ اگر حقیقت بتاؤں تو الیکٹرانک میڈیا پر آپ کو تاریخی ٹرن آؤٹ اور لوگوں کے جوش و خروش کی خبریں سننے کو ملیں گی، لیکن زمینی حقیقت اس سے مختلف نظر آئی۔
میں ایل اے ون سے ایل اے فور تک چاروں حلقے خود دیکھ کر آیا ہوں۔
میرپور کے الیکشن سے ابھی فارغ ہوا ہوں۔ اگر حقیقت بتاؤں تو الیکٹرانک میڈیا پر آپ کو تاریخی ٹرن آؤٹ اور لوگوں کے جوش و خروش کی خبریں سننے کو ملیں گی، لیکن زمینی حقیقت اس سے مختلف نظر آئی۔
میں ایل اے ون سے ایل اے فور تک چاروں حلقے خود دیکھ کر آیا ہوں۔
اسلام آباد سے چار روز قبل لاپتا جی این این کے صحافی یاسر ایاز خیبر پختونخوا میں مل گئے۔ یاسر ایاز کے بھائی کے مطابق یاسر اس وقت کے پی کے پولیس کے پاس ہیں ۔#Pakistan#Journalist#BreakingNews
اگر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تح��یک کامیاب ہو جاتی تو واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا
ڈراپ سائٹ نے سائفر کی اصل کاپی جاری کر دی، جو اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو عہدے سے ہٹائے جانے کی وجہ بنی۔
#imrankhanlatestnews #america #sohailafridi