وہ سائنسی طریقہ جس نے طلبہ کا امتحان والا مسئلہ حل کر دیا ! مگر دنیا اسے چھپاتی ہے ..
ہم سب نے بچپن سے ایک ہی طریقہ سیکھا ہے۔
کتاب کھولو… اہم سطروں کو ہائی لائٹ کرو… لمبے لمبے نوٹس بناؤ… پھر انہیں بار بار پڑھو۔
لیکن پھر امتحان والے دن کیا ہوتا ہے؟
رات بھر پڑھی ہوئی کتاب سامنے ہوتی ہے، سوال آتا ہے، اور دماغ جیسے خالی ہو جاتا ہے۔ انسان سوچتا ہے:
"یہ تو میں نے پڑھا تھا… لیکن اب یاد کیوں نہیں آ رہا؟"
یہی وہ مسئلہ ہے جس کا حل جدید سائنس نے ایک انتہائی طاقتور طریقے میں دیا ہے۔ اس کا نام ہے:
Active Recall — یعنی فعال یاد آوری
حیران کن بات یہ ہے کہ جب طلبہ نے اس طریقے کو اپنانا شروع کیا تو انہیں احساس ہوا کہ صرف زیادہ دیر تک پڑھنا ضروری نہیں، بلکہ صحیح طریقے سے یاد کرنے کی مشق کرنا زیادہ ضروری ہے۔
طریقہ بہت آسان ہے۔
کسی بھی موضوع کو پڑھیں۔
نوٹس نہ بنائیں۔
اہم جملوں کو ہائی لائٹ نہ کریں۔
صرف اس مقصد سے پڑھیں کہ بات کو سمجھ سکیں۔
پھر کتاب بند کر دیں۔
اب ایک خالی کاغذ لیں اور خود سے پوچھیں:
"میں نے ابھی کیا پڑھا تھا؟"
جو کچھ بھی یاد ہے، لکھنا شروع کر دیں۔
ممکن ہے شروع میں آپ کو کچھ بھی یاد نہ آئے۔
ممکن ہے آپ کو لگے کہ:
"میں نے اتنا پڑھا، پھر بھی میرے ذہن میں کچھ نہیں!"
لیکن اصل کمال یہی ہے۔
جب آپ کتاب بند کرنے کے بعد کسی بات کو یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کا دماغ صرف معلومات کو دیکھ نہیں رہا ہوتا، بلکہ اسے اندر سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
یہ کوشش یادداشت کو زیادہ مضبوط بناتی ہے۔
اسی کو Active Recall کہتے ہیں۔
یعنی بار بار پڑھنے کے بجائے، خود کو ٹیسٹ کریں۔
سوالات بنائیں۔
کتاب بند کریں۔
اور اپنے دماغ سے جواب نکالنے کی کوشش کریں۔
پھر ایک اور حیران کن طریقہ استعمال کریں۔
آج موضوع پڑھا اور خود کو ٹیسٹ کیا۔
کل دوبارہ تھوڑی دیر کے لیے خود کو ٹیسٹ کریں۔
پھر چند دن بعد۔
پھر ایک ہفتے بعد۔
یہی ہے Spaced Repetition — یعنی وقفوں کے ساتھ دہرائی۔
یہ دونوں طریقے مل جائیں تو پڑھائی کا انداز ہی بدل سکتا ہے۔
پہلے دن یاد کرنے کی کوشش کریں۔
پھر کچھ وقفے کے بعد دوبارہ۔
پھر مزید وقفے کے بعد۔
ہر مرتبہ جب دماغ بھولنے لگتا ہے اور آپ دوبارہ اس معلومات کو یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو یادداشت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کا مقصد کتاب کو پہچاننا نہیں، بلکہ کتاب بند ہونے کے بعد معلومات کو یاد کر پانا ہے۔
کیونکہ امتحان میں کتاب آپ کے سامنے نہیں ہوتی۔
امتحان میں ہائی لائٹر آپ کی مدد نہیں کرتا۔
امتحان میں آپ کے خوبصورت نوٹس آپ کے سامنے نہیں ہوتے۔
وہاں صرف ایک چیز کام آتی ہے:
آپ کا دماغ۔
اس لیے اگلی بار کسی موضوع کو صرف پڑھ کر مطمئن نہ ہو جائیں۔
کتاب بند کریں۔
کاغذ اٹھائیں۔
اور خود سے پوچھیں:
"مجھے کیا یاد ہے؟"
اگر کچھ یاد نہیں آتا تو گھبرائیں نہیں۔
ہوسکتا ہے یہی وہ لمحہ ہو جب آپ کا دماغ حقیقت میں سیکھنے کا کام شروع کر رہا ہو۔
آج ہی اس طریقے کو آزما کر دیکھیں۔
کیا تماشا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں :
لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال، جنہوں نے اسامہ بن لادن کو مارنے کے لیے امریکی ایبٹ آباد آپریشن کی انکوائری کی تھی، ان پر جاسوسی کے الزام میں کورٹ مارشل ہوا اور 2019 میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ دو دیگر افراد کو سزائے موت دی گئی ۔ "جاسوسی" یعنی انہوں نے قومی راز بیچے تھے -
۔چونکہ وہ فوجی تھے اس لیے ان کی سزا کم کر دی گئی اور دو سال میں ہی رہا ہو گئے۔ اب آزاد آدمی کی طرح زندگی گزار رہے ہیں، اگر ابھی زندہ ہوں تو۔
"جاسوسی" کے جرم میں ایک جنرل صرف دو سال آرام دہ جیل میں گزارتا ہے۔ عمران خان، جن پر صرف ایک گھڑی چرانے کا الزام ہے، اور ان کے وفادار حامی تین سال سے زیادہ سخت ترین جیل کی با مشقت قید کاٹ چکے ہیں، (کچھ جیل میں مر بھی گئے)۔ لیکن چونکہ وہ فوجیوں کو چیلنج کرتے ہیں اس لیے انہیں سزا ملنی چاہیے۔ دشمنوں کو راز بیچنا ٹھیک ہے مگر فوج کے غیر قانونی اقتدار پر قبضے کو چیلنج کرنا معاف نہیں۔
یہی ہے پاکستان، پاک سرزمین ۔ شاد باد - رہبر ترقی و کمال -
بات دوستی کی نہيں ہے۔ نہ دونوں کی کوئی خاص دوستی تھی۔ مائیکل اتھرٹن عمران خان کا جونئیر تھا۔ بات انسانیت کی ہے۔ ضمیر کی ہے۔ مائیکل اتھرٹن میں انسانیت بھی ہے اور ضمیر بھی زندہ ہے۔
سعید انور انضمام الحق عاقب جاوید وقار یونس وسیم اکرم سلیم ملک رمیض راجہ جاوید میانداد کی طرح مردہ ضمیر نہیں ہے۔
تو وردی میں تھا جب ظلِ شاہ کے جسمانی اعضا پر وحشیانہ تشدد کیا گیا کہ وہ جان سے گیا, تو وردی میں تھا جب ارشد شریف کو شہید کیا گیا تو وردی میں تھا جب وطن کی بیٹیوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا تب تیری زبان گونگی آنکھیں بند اور ضمیر عہدے، پلاٹ اور مراعات کے نیچے دفن تھا
کتنی بےحس اور اخلاقی طور پر سڑی ہوئی وردی تھی کہ اتنے مظالم پر ایک لفظ نہ نکلا، مگر آج پمز کے بچوں پر اچانک تیرا ضمیر جاگ اٹھا
جو ضمیر ظلم کے وقت عہدے اور مراعات کے قدموں میں بِک جائے، اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد جاگنے والی ہمدردی غیرت نہیں منافقت، موقع پرستی اور اپنے داغدار کردار کو دھونے کی بھونڈی اداکاری ہے
یہ جو فارم سینتالیس پر آئے ہیں یہ فارم سینتالیس داتا دربار سے یا بری امام سے لیکر آئے ہیں؟ پاک فوج اس ملک میں عذاب ہے۔ پاک فوج اس ملک میں ہر عذاب ، ہر مصیبت کی ذمہ دار ہے۔
میرا بھتیجا پمز میں پیدا ہوا تو میں وہیں موجود تھی ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اوپر آگ لگ گئی ہے میں فوراً اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے بھتیجے کو اٹھا کر وہاں سے نکالا وہاں پمز کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا
میں جلدی سے اپنے بھتیجے کو لے کر نیچے آئی تو دیکھا کہ پمز کے عملے نے ہمیں ہی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا میں نے ان سے کہا کہ اوپر آگ لگی ہوئی ہے مگر انہوں نے جواب دیا کہ آپ باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ بات پھیل جائے گی
اس وقت بھی ان بے حس لوگوں کو اپنی بدنامی کی فکر تھی انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں یہ خبر باہر نہ پہنچ جائے
شرم آنی چاہیے ایسے بے حس لوگوں کو
بچی کہتی ہے کہ میں نے عملے سے کہا کہ اوپر جائیں اور بچوں کو بچائیں مگر پمز کا کوئی اہلکار اوپر نہیں گیا وہ ان معصوم بچوں کو آگ میں جلتا ہوا دیکھتے رہے اور کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی
اس پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے
رینجرز نے کراچی میں سرفراز شاہ کو گولی ماردی ، خون بہتا رہا ہسپتال نہیں لیجانے دیا نوجوان کی وفات ہوگئی۔ ان میں سے کسی رینجرز اہلکار کو پھانسی نہیں ہوئی۔ اس نے کس کی ماں کو چھیڑا تھا؟
کرنل نے اپنے دفاع میں گولی نہیں چلائی کیونکہ کرنل کے دفاع کیلئے تو وہاں اسلام آباد پولیس موجود تھی، کرنل نے اپنی بدمعاشی، پاور اور ڈنڈے کا زور دکھانے کیلئے گولی چلائی ہے جو کہ ناقابل معافی جرم ہے
صدیق جان ، اسد اللہ خان ، رضوان غلزئی نے سرحد یونیورسٹی کے معاملے پر کوئی پوسٹ نہیں کی حالانکہ تینوں اسلام آباد ہوتے ہیں۔ آزاد چینل کے دو چار ملازمین نے اظہار افسوس کیا ہے۔ دو تین مزید صحافیوں نے بغیر واقعے کی نشاندہی کیے بس ہوا میں دو تیر چلا دیے ہیں۔ حامد میر والی کیٹگری ایک ہی سانس میں افسوس کا مطالبہ اور کاروائی کی امید والی مثبت رپورٹنگ کررہے ہیں۔
یہ لوگ مجبور ہیں ۔ انہیں احتیاط کرنی چاہیے۔ لیکن جب یہ کوئی خبر چلا رہے ہوں اور ہم کہیں کہ یہ فوج خبر کی مرضی سے چل رہی ہے درست یا غلط بعد کی بات ہے تو انہیں غصہ نہیں کرنا چاہیے۔
کرنل کی بدمعاشی کی تصویریں اور ویڈیوز ہر جگہ موجود ہیں لیکن کرنل کی بیوی کو طالبعلموں نے ہراساں کیا یہ صرف عاصمہ شیرازی اور جیدے چنگڑ کی ٹویٹ میں آپ کو ملے گا
ایسا کیوں ہیں کہ جرنیلوں کرنیلوں کی حرامزدگیاں سر عام سامنے آ جاتی ہیں لیکن ان کیساتھ ہونے والی زیادتی صرف صرف عسکری ٹاؤٹس کی ٹویٹس اور ویلاگ تک محدود ہوتا ہے
26 نومبر کو PTI کارکنان کو جب شہید کیا گیا تب بھی عسکری ٹاؤٹس نے الزامات لگاۓ تھے کہ کارکنان کے پاس اسلحہ تھا لیکن کوئی ایک فوٹو ایک ویڈیو بھی نہیں دکھائی گئی جس میں اسلحہ تو درکنار کوئی غلیل بھی کسی کارکن کے ہاتھ میں ہو
کرنل طالبعلموں پر جھپٹاہے ، طالبعلوں نے ردعمل دیاہے ، کرنل نے فائرنگ کردی ہے ۔ ویڈیو نکلی ، فوج پر دباؤ آیا کہ وردیاں پہنے تعلیمی اداروں میں کیا کررہے ہو فورا چلوا دیا کہ جی فوج کے اندر خود احتسابی کا نظام بہت مضبوط ہے اسکے خلاف کاروائی ہوگی۔
پھر کیا ہوا، پھر یہ ہوا کہ عوام نے کالر پکڑنے والی تصویر پر ڈھول پیٹے۔ فوج کی توقع سے زیادہ خوشیاں منائی گئیں۔ ساتھ ہی ساتھ پھدو دماغوں نے سوچا کہ یہ کیا ؟ اللہ کی فوج کا کرنل غلطی کرجائے؟ یعنی اب پاک فوج غلطیوں پر کاروائی شروع کردے ؟
بیانیہ ہوا ریسورس ، کہا جی کرنل کی بیوی کو بچے چھیڑ رہے تھے ، ایچ او ڈی ہراساں کررہا تھا اسلیے اس نے غصے میں فائرنگ کردی۔ پھر ردعمل آیا ، سوچا کہ کرنل کی بیوی کو سرعام کوئی چھیڑ جائے۔ یہ بھی پاک فوج کی توہین ہے۔ پھر بیانیہ ایک اور گئیر میں ڈالا گیا۔ کہ جی ہجوم خدانخواستہ کرنل صاحب کی بیوی کو تشدد کرکے ماردیتا اس لیے کرنل صاحب نے بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں ریسکیو کرلیا۔
یہ بیانیہ اب فٹ بیٹھا ہے کہ اللہ کی فوج کا کرنل ذمہ دار بھی ہے ، بہادر بھی ہے اور اس نے کچھ غلط بھی نہیں کیا ہے۔ آکھو سبحان اللہ۔
اسلام آباد سرحد یونیورسٹی سے فائرنگ کے نتیجے میں گرفتار فوجی افسر کا ٹرائل بھی سول کورٹ میں ہونا چاہیئے کیونکہ اس نے یہ جرم سول حدود میں سویلینز کے ساتھ کیا ہے ۔
عمران خان کی حکومت تھی۔ ملک میں چینی کی پیداوار زیادہ ہوگئی۔ مل مالکان نے ایکسپورٹ کرکے پنجاب حکومت سے سبسڈی لے لی۔ بات نکلی ۔ بیشتر مل مالکان تحریک انصاف میں تھے۔ ملک کی ایک چوتھائی چینی جہانگیر ترین کی ملز پیدا کرتی ہیں۔ عمران خان نے تحقیقات شروع کروا دیں۔ جہانگیر ترین اور عمران خان کے معاملات بگڑ گئے۔ ( کچھ لوگوں نے زیادہ پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترین کی بیٹیوں پر بلاوجہ مقدمات درج کروا دیے )۔ موقع آنے پر جہانگیر ترین نے فوج کی مدد سے فارورڈ بلاک بنا کر عمران خان کو کاری ضرب پہنچائی۔ عمران خان کی حکومت جاتی رہی۔
چوروں اور لٹیروں کی فوجی کٹھ پتلیوں کی حکومت ہے۔ چینی ایکسپورٹ ہوئی۔ اس پر مل مالکان نے سبسڈی لی۔ اب چینی امپورٹ ہوگی۔ کک بیکس کھائے جائیں گے۔ نا تحقیقات ہوں گی نا کوئی شور مچائے گا۔
عمران خان کی حکومت تھی ، شاہزیب خانزادہ نے اوپر تلے دو درجن پروگرام کردیے کہ عمران خان نے ایل این جی کے ایڈوانس معاہدے کیوں نہ کیے۔ ( ڈالر نہیں تھے اس لیے نہیں کیے )۔ گندم سکینڈل آیا ، چینی سکینڈل آیا ، جعلی حکومتیں بنیں ، عاصم منیر کی بیٹیوں کے ناجائز پاسپورٹس سامنے آئے شاہزیب خانزادہ کو کبھی بولنے کی جرات نہ ہوئی۔
ایماندار اور بے ایمان کا فرق ہے۔
This man is currently working in Pakistan cricket Board as batting consultant. He is part of the Pakistan team, national cricket academy, franchise cricket from decades. Almost worked on all important designations in PCB.
Most of the times holding two or three key posts at the same time.
I will not criticise his good or bad work which is now crystal clear to everyone, But at least he should come forward and answer few questions raised by the most credible newspaper The Telegraph
and the question raised by the top cricket experts about the poor performance of the team and decline of Pakistan cricket.
پتہ ہے ہم تحریک انصاف کی قیادت پر تبرا کیوں کرتے رہتے ہیں؟ کیونکہ وہ اس عمران خان کو باندھ کر مروا رہے ہیں جو ہسپتال میں رہنے کو بھی تیار نہیں۔
سہیل آفریدی ، سلمان اکرم راجہ ، بیرسٹر گوہر اگر کچھ نہیں کرسکتے تو اس نظام کو کندھے دینا بند کردیں۔ اسمبلیاں اور عہدے چھوڑ دیں۔
بچے کی نشانیاں پوری ہیں۔ مسیحا آگیا ہے۔ اسکے انٹرویوز بھی چلنا شروع ہوگئے ہیں۔ یہ عمران خان کا پیغام باہر نہ لانے کی گارنٹی پریس کانفرنس میں دے رہا ہے۔ اس تک عمران خان کا احتجاج کا پیغام بھی نہیں پہنچا۔ البتہ وزیراعلی بننے کا پیغام پہنچ گیا تھا۔
لانگ مارچ کا اعلان ہوئے پانچ دن ہوگئے ابھی تک سہیل آفریدی نااہل نہیں ہوا دھمکی دینے والا سیکٹر کمانڈر بڑا ہی کوئی کھسی قسم کا بندہ ہے۔ ہمیں علم ہے سب فلم ہے کہ بعد عرض ہے کہ تحریک انصاف کے کسی رہنما کا یوں سولو انٹرویو اس سے قبل تب ہوا جب عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ بنا ، تحریک انصاف کی قیادت پختونخواہ ہاوس میں خودساختہ محصور تھی اور علی امین گنڈاپور صبح شام کبھی ادھر کبھی ادھر انٹرویوز دے رہا تھا۔
عجیب دہشت گرد تھا پارٹی پرچم کے ساتھ زنگ آلود پسٹل لے کر جی ایچ کیو تباہ کرنے چلا گیا اور اس سے بھی عجیب بات یہ ھے کہ اپنے تمام ڈاکومنٹس بھی ساتھ کر گیا جیسے حملہ نہیں نوکری کا انٹرویو دینے جاری ھو
یہ واقعی عجیب دہشتگرد تھا 🤣
ان الو کے پٹھوں کو کوئی یہ بھی نہیں بتاتا کہ اب سکرپٹ چینج کر لو عوام تنگ آ چکی روز ایک ھی کہانی سن سن کر
میرا ایک دوست ہے وہ ہمیشہ سے کہتا ہے کہ جب فوج یا انکے اثاثے کہیں پھنستے ہیں تو ایک سیٹ پیٹرن ہے جو دوہرایا جاتا ہے۔
ٹھنڈی ہوائیں شروع ہوجاتی ہیں
مزمل اسلم ، مشال یا فواد چوہدری سے کوئی فضول بحث شروع کروا دی جاتی ہے
کسی صحافی پر مقدمہ درج کروا کے باقیوں کو مذمت پر لگادیا جاتا ہے
کسی ٹک ٹاکر کا ٹوٹا لیک ہوجاتا ہے
دو چیزیں ہوچکی ہیں تیسری کا انتظار ہے چوتھی سے اللہ بچائے۔ عمران خان کی صحت کو لیکر فوج دباؤ میں ہے۔ ادھر ادھر الجھنے سے گریز کریں۔