إنَّها أيَّامٌ تمضي، ولنا الآخرة
یہ چند دن کی زندگی ہے اور ہمارے لیے آخرت ہے
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ ایک چٹائی پر تشریف فرما تھے اور آپ ﷺ کے سر کے نیچے ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ پھر آپ ﷺ کے چند صحابہ حاضر ہوئے جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ جب نبی کریم ﷺ نے پہلو بدلا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے پہلو مبارک پر چٹائی کے نشانات دیکھے اور رو پڑے۔
نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا:
"تمہیں کس بات نے رلایا؟"
انہوں نے عرض کی:
"کسریٰ اور قیصر (روم و فارس کے بادشاہ) تو عیش و عشرت میں جی رہے ہیں اور آپ اس چٹائی پر؟"
تب نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا:
"کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے یہ دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟"
انہوں نے عرض کی:
"کیوں نہیں (ضرور راضی ہوں)۔"
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"خدا کی قسم! حقیقت بھی یہی ہے!"
یہ دنیا عمل کی جگہ ہے، بدلے کی نہیں؛ یہ امتحان گاہ ہے، نتیجے کی جگہ نہیں!
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں پر ایک مہینہ گزر جاتا، پھر دوسرا مہینہ بھی گزر جاتا اور ان کے گھروں میں آگ نہیں جلتی تھی، نہ روٹی پکانے کے لیے اور نہ سالن کے لیے
لوگوں نے پوچھا:
"اے ابوہریرہ! پھر وہ کس چیز پر گزارہ کرتے تھے؟"
انہوں نے جواب دیا:
"دو کالی چیزوں پر، یعنی کھجور اور پانی پر۔ البتہ ان کے کچھ انصاری پڑوسی تھے، اللہ انہیں جزائے خیر دے، ان کے پاس بکریاں تھیں اور وہ کچھ دودھ بھیج دیا کرتے تھے"
پس اگر دنیا تم پر تنگ ہو جائے تو یاد رکھو کہ یہ تمہارے سردار، بلکہ تمام انسانوں کے سردار ﷺ ہیں، جن کی نشست ایک کھردری چٹائی تھی جس کے نشانات ان کے بدن پر ثبت ہو جاتے تھے یہاں تک کہ عمر (رضی اللہ عنہ) اس منظر کو دیکھ کر رو دیتے تھے مہینہ در مہینہ گزر جاتا اور گھر میں پکانے کے لیے کچھ نہ ہوتا، ان کی خوراک کھجور، پانی اور وہ دودھ تھا جو انصار انہیں تحفے میں بھیجتے تھے
اگر دنیا تم پر تنگ ہو جائے تو یاد کرو کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو ایک عورت کی نفسانی خواہش کی وجہ سے کئی سال قید خانے کی تاریکیوں میں گزارنے پڑے، اور اس سے پہلے بھائیوں کے حسد نے انہیں کنویں کی گہرائی میں پہنچا دیا تھا۔ اے احباب! یہ دنیا اذیت اور آزمائش کی جگہ ہے
اگر دنیا تم پر تنگ ہو جائے تو یاد کرو کہ معزز ابنِ معزز، حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کا سر مبارک مہر کے طور پر ایک بدکار عورت کو پیش کیا گیا، جو اپنے بادشاہ بھائی سے نکاح کرنا چاہتی تھی اور حضرت یحییٰ علیہ السلام نے فتویٰ دیا تھا کہ یہ حرام ہے۔ پس اپنے نظریات پر ڈٹ جاؤ، تمہارا سر انبیاء کے سروں سے زیادہ معزز نہیں ہے
اگر دنیا تنگ ہو جائے تو یاد کرو کہ امت میں سب سے زیادہ احادیث یاد رکھنے والے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بھوک کے سوا کوئی چیز گھر سے باہر نہیں نکالتی تھی، اور وہ صحابہ سے محض اس لیے کسی ایسے مسئلے کا سوال کرتے جسے وہ خود جانتے تھے تاکہ کوئی انہیں کھانے کی دعوت دے دے اور وہ اپنی بھوک مٹا سکیں۔
اور اگر دنیا تنگ ہو جائے تو یاد کرو کہ رسول اللہ ﷺ کے رازدار حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ 'اہلِ صفہ' میں سے تھے۔ اور شاید تم پوچھو کہ اہل درجہ (صفہ) کون تھے؟
تو اے احباب! میں تمہیں جواب دیتا ہوں کہ یہ مسجد کے آخر میں وہ جگہ تھی جہاں نبی کریم ﷺ کے وہ صحابہ پناہ لیتے تھے جن کے پاس کھانا خریدنے کے لیے مال نہیں ہوتا تھا!
اب اس کے بعد مجھے جواب دو: کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے یہ دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟
آپﷺنے فرمایا:
میں اپنی امت کے ان افراد کو ضرور پہچان لوں گا جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں جیسی سفید روشن نیکیاں لے کر حاضر ہوں گے تو اللہ عز و جل ان (نیکیوں کو) بکھرے ہوئے غبار میں تبدیل کر دے گا۔
عرض کیا گیا کہ آپﷺان(کی خرابیاں) واضح فرما دیجئے ایسا نہُ ہو کہ ہم ان میں
شامل ہو جائیں اور ہمیں پتہ بھی نہ چلے۔
آپﷺنے فرمایا:
وہ تمہارے بھائی ہیں اورتمھاری جنس سے ہیں اور رات کی عبادت کاحصہ حاصل کرتےہیں جس طرح تم کرتے ہولیکن وہ ایسےلوگ ہیں کہ انھیں جب تنہائی میں اللہ کے حرام کردہ گناہوں کا موقع ملتا ہے تو ان کا ارتکاب کر لیتے ہیں۔
سنن ابن ماجہ۔۴۲۴۵
حضور پاک ﷺ كا کھانے پینے کا ذوق بہت نفیس تھا، گوشت سے خاص رغبت تھی، زیادہ ترجیح دست، گردن اور پیٹھ کے گوشت کو دیتے، نیز پہلو کی ہڈی پسند تھی، ثرید (گوشت کے شوربہ میں روٹی کے ٹکڑے بھگو کر یہ مخصوص عربی کھانا تیار کیا جاتا تھا) تناول فرمانا مرغوب تھا، پسندیدہ چیزوں میں شہد، سرکہ، خربوزہ، ککڑی، لوکی، کھچڑی، مکھن وغیرہ اشیاء شامل تھیں، دودھ کے ساتھ کھجور کا استعمال بھی اچھا لگتا اور مکھن لگا کے کھجور کھانا بھی ذوق میں شامل تھا، کھرچن سے بھی اُنس تھا، ککڑی نمک لگا کر اور خربوزہ شکر لگا کر بھی کھاتے، مریضوں کی پرہیزی غذا کے طور پر حریرا کو اچھا سمجھتے اور تجویز بھی فرماتے، میٹھا پکوان بھی مرغوب خاص تھا، اکثر جو کے ستو بھی استعمال فرماتے۔
ایک مرتبہ بادام کے ستو پیش کئے گئے تو یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ امراء کی غذا ہے، گھر میں شوربہ پکتا تو کہتے کہ ہمسایہ کے لئے ذرا زیادہ بنایا جائے، پینے کی چیزوں میں نمبر ایک میٹھا پانی تھا اور بطور خاص دو روز کی مسافت سے منگوایا جاتا، دودھ، پانی ملا دودھ اور شہد کا شربت بھی رغبت سے نوش فرماتے، غیر نشہ دار نبیذ بھی قرین ذوق تھی، افراد کا الگ الگ بیٹھ کر کھانا ناپسند تھا، اکٹھے ہوکر کھانے کی تلقین فرمائی، سونے چاندی کے برتنوں کو بالکل حرام فرما دیا تھا، کانچ، مٹی، تانبہ اور لکڑی کے برتنوں کو استعمال میں لاتے رہے، دسترخوان پر ہاتھ دھونے کے بعد جوتا اتار کر بیٹھتے، سیدھے ہاتھ سے کھانا لیتے اور اپنے سامنے کی طرف سے لیتے، برتن کے وسط میں ہاتھ نہ ڈالتے، ٹیک لگا کر کھانا پینا بھی خلاف معمول تھا، دو زانو یا اکڑوں بیٹھتے، ہرلقمہ لینے پر بسم اللہ پڑھتے، ناپسندیدہ کھانا بغیر عیب نکالے خاموشی سے چھوڑ دیتے، زیادہ گرم کھانا نہ کھاتے، کھانا ہمیشہ تین انگلیوں سے لیتے اور ان کو لتھڑنے نہ دیتے، دعوت ضرور قبول فرماتے اور اگر اتفاقاً کوئی دوسرا آدمی ساتھ ہوتا تو اسے لیتےجاتے مگر صاحب خانہ سے اس کے لئے اجازت لیتے، مہمان کو کھانا کھلاتے تو بار بار اصرار سے کہتے کہ اچھی طرح بے تکلفی سے کھاؤ، کھانے کی مجلس سے بہ تقاضائے مروّت سب سے آخر میں اٹھتے، دوسرے لوگ اگر پہلے فارغ ہوجاتے تو ان کے ساتھ آپ ﷺ بھی اٹھ جاتے، فارغ ہوکر ہاتھ ضرور دھوتے، دعا کرتے جس میں خدا کی نعمتوں کیلئے ادائے شکر کے کلمات ہوتے، نیز طلب رزق فرماتے اورصاحب خانہ کے لئے برکت چاہتے۔
کھانے کی کوئی چیز آتی تو حاضرین کو با اصرار شریک کرتے اور غیر حاضر کا حصہ رکھ دیتے، پانی غٹ غٹ کی آواز نکالے بغیر پیتے اور بالعموم تین بار پیالہ منہ سے الگ کرکے سانس لیتے اور ہر بار آغاز" بسم اللّٰہ " اور اختتام " الحمد للّٰہ والشکرللّٰہ پر کرتے، عام طریقہ بیٹھ کر پانی پینے کا تھا، پینے کی چیز مجلس میں آتی تو بالعموم داہنی جانب سے دور چلاتے اور جہاں ایک دور ختم ہوتا دوسرا وہیں سے شروع کرتے، بڑی عمر کے لوگوں کو ترجیح دیتے مگر داہنے ہاتھ والوں کے مقررہ استحقاق کی بناء پر ان سے اجازت لےکر ہی ترتیب توڑتے، کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنا یا ان کو سونگھنا نا پسندتھا، کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانکنے کا حکم دیا ہے، کوئی نیا کھانا سامنے آتا تو کھانے سے پہلے اس کا نام معلوم فرماتے، زہر خورانی کے واقعہ کے بعد معمول ہوگیا تھا کہ اگر کوئی اجنبی شخص کھانا کھلاتا تو پہلے ایک آدھ لقمہ خود اسے کھلاتے۔
کبھی اُکڑوں بیٹھتے، کبھی دونوں ہاتھ زانوؤں کے گرد حلقہ زن کرلیتے، کبھی ہاتھوں کے بجائے کپڑا لپیٹ لیتے، بیٹھے ہوئے ٹیک لگاتے تو بالعموم الٹے ہاتھ پر، فکر یا سوچ کے وقت بیٹھے ہوئے زمین کو لکڑی سے کریدتے، سونے کے لئے سیدھی کروٹ سوتے اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر داہنا رخسار پر رکھ دیتے، کبھی چت بھی لیٹتے اور پاؤں پر پاؤں بھی رکھ لیتے، مگر ستر کا اہتمام رکھتے، پیٹ کے بل اور اوندھا لیٹنا سخت ناپسند تھا اور اس سے منع فرماتے تھے، ایسے تاریک گھر میں سونا پسند نہ تھا جس میں چراغ نہ جلایا گیا ہو، کھلی چھت پر جس کے پردے کی دیوار نہ ہو سونا اچھا نہ سمجھتے، وضو کرکے سونے کی عادت تھی اور سوتے وقت مختلف دعائیں پڑھنے کے علاوہ آخری تین سورتیں (سورۂ اخلاص اور معوذتین) پڑھ کر بدن پر دم کرلیتے، سوتے ہوئے ہلکی آواز سے خراٹے لیتے، رات میں قضائے حاجت کے لئے اٹھتے تو فارغ ہونے کے بعد ہاتھ منہ ضرور دھوتے، سونے کے لئے ایک تہ بند علیحدہ تھا، کرتا اتار کر ٹانگ دیتے۔
دعوے سے کہہ سکتا ہوں پوری پی ٹی آئ میں اتنا مؤثر طریقے سے جواب دینے والا ایک بھی بندہ نہیں چاہے وہ خان ہی کیوں نا ہو سوال کرنے والی جواب سے مطمئن بھی ہوئ اور اس کے علم میں بھی اضافہ ہوا