بالآخر عمران خان شفاء ہسپتال پہنچ گئے،یہ جو ہوا سب سپریم کورٹ کےحکم پر ہوا،اگر یہ خیراتی حکومت یہ کام خود کردیتی تو کچھ عزت رہ جاتی،مگرکیا کریں،ایک ڈیل کر کےنوازشریف کو جیل سےعلاج کیلئےلندن لے جانےوالےآخری لمحوں تک عمران خان کی شفاءہسپتال منتقلی کی راہ میں بھی روڑے اٹکاتے رہے۔۔
بریکنگ نیوز 🚨
کوٹ لکھپت جیل میں عالیہ حمزہ پر قاتلانہ حملے کی تشویشناک خبریں آ رہی ہے۔
سوشل میڈیا فرض سمجھ کر عالیہ حمزہ کی سلامتی اور رہائی کے لئے زیادہ سے زیادہ آواز اٹھائیں
۵ اگست تک تحریک کو پیک پر لے جانے اور فیصلہ کن تحریک کے حوالے سے بدھ کے روز میٹنگ بلائی گئی ہے۔ میری گزارش ہے کہ اس کو اک روزہ ایونٹ کے بجائے ایک فیصلہ کن تحریک کی طرف لے جائیں۔ انشاءاللہ آپ کے لائحہ عمل کے اعلان کے بعد میرے حلقے سمیت پوری قوم اپنے لیڈر کے لیے مزید بہتر انداز سے تیاریاں کرتے ہوئے نظر آئے گی، جس لیڈر کی وجہ سے ان کا امن ممکن ہوا، کسٹم ایکٹ کا خاتمہ ہوا اور زندگی میں خوشحالی آئی اور آج پھر ان پر جبر کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔
میٹنگ میں اس نکتے کو بھی سامنے رکھیں کہ پختونخواہ کے جنوبی اضلاع اور سابقہ فاٹا میں پہلے ہی میڈ اپ دہشت گردی سے حالات خراب ہوچکے ہیں اور اب مالاکنڈ ریجن میں سوات، دیر، بونیر ،شانگلہ میں وہی بیس بیس بندے جن کو باجوڑ سے سیلاب کے دنوں میں خصوصی روٹ لگا کر منتقل کیا گیا تھا (اس کی تفصیل میں پچھلے سال ٹویٹس اور پھر کتاب میں درج کر چکا ہوں) ان کو یکدم سےمتحرک کر دیا گیا ہے جس کے بعد ہی پچھلے ہفتے جھڑپ اور سی ٹی ڈی ڈرون گرانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ مہینوں نہیں، ہفتوں یا دنوں میں حالات مزید خراب ہوں گے اور اس دفعہ نہ صرف بیانیہ بنا کر دہشت گردی کا ملبہ آپ پر ڈالا جائے گا بلکہ ان لائے ہوئے لوگوں سے نشانہ بنوایا جائیگا۔ پھر سے سن لیجئے “آپ کو نشانے پر رکھا جائیگا”۔ ایسے حالات میں تحریک تو چھوڑیں پی ٹی آئی گھروں تک محدود ہوجائے گی۔ عوام کا نقصان تو ہوگا ہی آپ کو بھی اندازہ ہے کہ اس سے عمران خان کی زندگی مزید کتنے خطرات سے دوچار ہوگی جب ان کا مضبوط قلعہ اور کارکن بھی محصور اور محدود ہوجائے گا۔ میں نے اپنی غیر موجودگی میں جن کو امن کا پرچم حوالے کیا تھا وہ تیار ہیں، آپ یعنی قیادت و اراکین اسمبلی بھی امن پاسون کا انعقاد کریں کیونکہ امن کے دشمنوں کی پالیسیوں کو شکست اسی سے ہوگی۔
تیسرا نکتہ فوج عوام کو لشکر بنانے پر زور دے رہی ہے۔ ماضی میں امن کمیٹیز بنا کر ان کو عسکری سپورٹ دے کر ظلم کی داستانیں رقم کی گئیں۔امن کمیٹیز کی نشاندہی پر لوگوں کو فوج کے حوالے کیا جاتا رہا، گھر گرائے گئے۔ پھر پالیسی بدلی آباد کاری کا فیصلہ ہوا اور واپسی پر انہی امن کمیٹیز سے بدلہ لینے کا سلسلہ شروع ہوگیا، ٹارگٹ کیلینگز کے واقعات اسی پالیسی کا خمیازہ ہے۔ آج پوری کی پوری قوم کو لشکر بنانے پر لگا کر ان کو لڑنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ جو لشکر کے خلاف ہوتا ہے یا انکار کرتا ہے ان پر چنگیز خان، ہلاکو خان بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔ قوم امن پاسون کررہی تھی آپ گولیاں چلا رہے تھے، قوم آپ کو غلط پالیسی بتا رہی تھی، آپ غداری کے تمغے بانٹ رہے تھے دہشت گردی لانا آپ کی خواہش تھی تو قوم کیوں لشکر بنائے؟ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو پھیلایا گیا اب آپ قوم کو بندوق تھما کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہو؟
ڈرون حملوں پر مجرمانہ خاموشی،آپریشن پر خاموشی، ریڈیو پاکستان بلڈنگ، نو مئی کی رپورٹ اور زمہ داران کا تعین نہ کرنا وغیرہ پہلے ہی آپ پر سیاہ دھبہ ہے اب پی ٹی آئی کو صوبے میں کچلنے کے لیے انکے مد مقابل کھڑا کرکے عوام کو مزید اذیت دینے کا ارادہ ہے۔ اس لیے تمام تر تفصیلات کو دیکھتے ہوئے گزارش ہے کہ کل کی بلائی گئی میٹنگ میں ایک دن کا ایونٹ نہیں ایک تحریک کا پلان واضح کیجئے۔ محصور اور محدود ہونے سے قبل فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھیں۔
شاہ ذیب خانزادہ صاحب نے اپنے پروگرام میں سوال اٹھایا ہے کہ بھارت میں نوجوانوں کے احتجاج پر بھارت کی بالی وڈ سلیبرٹیز خاموش ہیں 😂
اوکے ہو گیا سر ، ان کو پاکستانی سیلبرٹیز کی طرح بولنا چاہیے جیسے ہمارے کرکٹرز ، اداکار ، گلوکار اہم ملکی معاملات پر پچھلے چار برس سے مسلسل بول رہے ہیں 😎 ہیں ناں؟
یہ دہلی کے نہیں بلکہ مرید کے کے مناظر ہیں، وہ ٹاوٹس جن کا انڈیا کے مظاہرین کا بڑا دکھ ہے بے شرموں پہلے اس ظلم پر تو بات کر لو، ان مظلوموں کیلئے تو آواز اٹھا لو
ہمارے جنرلز تو سیدھی سروں میں گولیاں مارتے ہیں۔ تھپڑ کھانے والا تو یا کھانے والی زندہ بچ کر پھر اپنے حقوق کی جدوجہد کر لے گی۔ اسی پولیس والے سے بدلہ بھی لے سکتی ہے۔ جس کے سر میں گولی اتار دی جاتی ہے وہ واپس نہیں آ سکتا۔ تھپڑ ڈنڈا دھکا امریکہ یورپ ہر جگہ دونوں طرف سے ہو جاتا ہے جو غلط ہے لیکن ہوتا ہے سروں میں گولیاں صرف کم ظرف اور گھٹیا لوگ کر سکتے ہیں۔ کم از کم ہم انڈیا پر بات کرنے کے قابل تو ہم نہیں رہے۔ ہم تو ان سے کئی ہاتھ آگے جا چکے۔