🚨گل پلازہ کو کیسے آگ لگائی گئی،
پورا گل پلازہ آگ کےشعلوں کی لپیٹ میں کیونکر آیا،
لوگ کیسے جل کر خاک ہوئے،
اس میں کونسے عناصر ملوث ہیں،
ان کے پیچھے کونسی طاقتیں ہیں،
آخر یہ کیا چاہتے ہیں،
ملاحظہ کیجیے اہم انکشافات پر مبنی میرے اس وڈیولاگ میں
#GulPlazaFire#GulPlazaTragedy
This sentence of Ubaid bhai urf Ubaid K2 proved to be true today and after Fourteen Years of Captivity he was humiliated
" Yes, I am not Criminal "
But the Question is what the state is return those Fourteen Years of Ubaid Bhai .
میں نے اپنی گفتگو میں ایم کیوایم کو ختم کرنے کی سرے سے کوئی بات نہیں کی
……………………………
میں واضح اوردوٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ میں نےایم کیوایم کوختم کرنے کی سرے سے کوئی بات نہیں کی، بعض لوگ میری بات کو اپنی مرضی کے معنےٰ پہنا کرعوام کوگمراہ کرنےکی کوشش کررہے ہیں ، ایم کیوایم قائم ہے، اس کے وجود کو ختم کرنے کےخواب دیکھنےوالے خود ختم ہوجائیں گےمگر انشاءاللہ ایم کیوایم قائم رہے گی ۔
میں نے10 اگست 2025ء کو جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنی قوم کے لوگوں کی بے حسی دیکھنےکے بعد ایک بات کہی تھی کہ قوم ظلم وناانصافیوں کا شکار ہے، ڈمپرمافیا، ٹینکر مافیا معصوم ��ہریوں کا روزانہ سفاکیت سےقتل عام کررہی ہے، سڑکوں پر ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کی جارہی ہے، نوجوانوں، بزرگوں کی تذلیل کی جارہی ہے، روزگارکے دروازے مکمل طورپر بند کردیے گئے ہیں، شہری پانی، بجلی، گیس کی سہولتوں سے محروم ہیں، پھر بھی لا��ھوں روپے کے بل دینے پر مجبورہیں، شہر تباہ ہے اورپورا نظم ونسق جکڑا ہوا ہے، عوام بخوبی جانتے ہیں کہ اس تباہی، ظلم وانصافی اور عوام دشمن اقدامات کرنے والے اورانہیں ان کےحقوق اوربنیادی ضرورتوں سے محروم کرنے والے عناصر کون ہیں لیکن سب کچھ جاننے کے باوجود وہ خاموش تماشائی بنکر یہ ظلم وناانصافیاں دیکھ رہے ہیں، سب کچھ بھگت رہے ہیں مگر اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کےلئے تیارنہیں ہیں، وہ ڈمپر مافیا کے ہاتھوں روزانہ قتل ہورہے ہیں مگر اس بات پر مطمئن ہیں کہ کسی اور کےگھر کافرد کچلا گیا ہے، میں محفوظ ہوں۔ایساسوچنے والوں کو سمجھنا چاہیے کہ آج اگرکسی اور کے گھرکاپیارا کچلا گیا ہے تو خدانخواستہ کل آپ کی یاآپ کےگھر کے کسی فرد کی بھی باری آسکتی ہے ۔آپ یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں اورخاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
میں نے لوگوں کی یہ بے حسی دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے، جوایسے ہی مظالم ، ناانصافیوں اورحق تلفیوں کےخلاف جدوجہد کرنے کےلئے میری ایم کیوایم میں شامل ہوئے تھے اورانہوں نے اس جدوجہد میں وفاداری کاحلف اٹھایا تھا،میں نے ان سے اپنے جذبات کااظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری وفاداری کا حلف اٹھانے کامقصد ہرگز یہ نہیں کہ آپ قوم پر ظلم ہوتا ہوا دیکھ کرخاموش رہیں اوراس کے خلاف آواز نہ اٹھائیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں کوبیدارکرنے کےلئے انہیں یہ کہاتھاکہ اگرآپ اس حلف کی پاسداری کرتے ہوئے ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاسکتے، جولوگ یہ ظلم وناانصافی کررہے ہیں ان ظالموں کا ہاتھ نہیں روک سکتے اور جوضمیرفروش لوگ قوم کے ساتھ کی جانے والی ان ظلم وناانصافیوں میں ظالموں کےسہولت کار بنےہوئے ہیں ان کے خلاف احتجاج نہیں کرسکتےتو میں آپ کومجھ سے وفاداری کے جوحلف آپ کی جانب سے اٹھائےگئے تھے،ان حلفوں سے آزادکرتا ہوں۔ میں نےاپنے خطاب میں یہ کب کہا تھا کہ میں ایم کیوایم کوختم کررہاہوں؟ یااپنی جدوجہد کوترک کررہاہوں؟
مجھے ایسے لوگ نہیں چاہئیں جو ایمان کے تیسرے درجے پر رہتے ہوئےقوم پرہونے والے ظلم کوصرف دل میں براسمجھتے ہوں او ر ظلم کوروکنے کےلئے کوئی عملی قدم نہ اٹھائیں۔مجھے ایسے لوگ چاہئیں جوایمان کے پہلے درجے پر رہتے ہوئے ظالموں کاہاتھ روک سکتے ہوں اورجو قوم کے حقوق کی اس جدوجہد میں کوئی بھی قربانی دینے کےلئے تیارہوں۔اس مقصد کےلئے جو مہاجر یاکسی بھی قوم سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی فرد الطاف حسین کے ساتھ آناچاہے آسکتاہے۔
بعض لوگوں نے میری اس بات کو نادانی یا غلط فہمی میں یہ سمجھ لیاکہ شائد میں نے ایم کیوایم کو ختم کرنےکااعلان کردیا ہےجبکہ بعض لوگوں نے جان بوجھ کرشرارتاً اپنی خبروں، تبصروں اورتجزیوں میں یہ پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ الطاف حسین نے ایم کیوایم کوختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ میں ایسے لوگوں کی غلط فہمی دورکردوں اورواضح الفاظ میں انہیں بتادوں کہ میں نے ایم کیوایم کوختم کرنے کی سرے سے کوئی بات نہیں کی، ��و لوگ ایم کیوایم دشمنوں کی ایماء پر میری بات کواپنی مرضی کے معنےٰ پہنارہے ہیں وہ عوام کوگمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ایم کیوایم قائم ہے، قائم رہےگی،اس کے وجود کو ختم کرنے کے خواب دیکھنے والے خودختم ہوجائیں گے اوردنیا خوب جانتی ہے کہ ایم کیوایم کوختم کرنے کی خواہش اور کوشش کرنے والے بڑے بڑے سُورما ختم ہوچکے ہیں، مگرایم کیوایم قائم رہی اور انشاء اللہ قائم رہے گی اور الطاف حسین کانظریہ نسل درنسل منتقل ہوتا رہے گا۔ایم کیوایم کے خاتمے کے پروپیگنڈے کرنے والےقلم فروش لوگ مظلوم عوام کی دشمن قوتوں کے دلال ہیں اوراپنے گھناؤنے کردار کی وجہ سے مختلف ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔
جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ الطاف حسین کاچیپٹرکلوزکردیا ہے، الطاف حسین ختم ہوگیا ہے تووہ سمجھ لیں کہ الطاف حسین اب ایک جسم یاایک شخصیت کا نام نہیں رہا، الطاف حسین ظالموں اورجابروں کے خلاف جدوجہد کا ایک سچانظریہ بن چکاہے، 1/2
آج تمام تحریکی کارکنوں کو تحریک اورمجھ سےوفاداری کے حلف سے آزاد کرتاہوں
……………………………………………
آج دنیا بھر بشمول پاکستان کے تحریکی کارکنوں کے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نےکہاکہ میں گزشتہ 47 برسوں سے پاکستان کے تمام محروم ومظلوم عوام خصوصاًمہاجرعوام کے حقوق کے حصول کی جدوجہد کرتارہاہوں، اس حقوق کی جدوجہد میں ، میں نے دن رات کسی چھٹی کے بغیر تحریکی کام کوجاری رکھا۔ اس جدوجہد میں جہاں ایک طرف ہزاروں ساتھیوں کی شہادت، جبری گمشدگیوں کا دکھ ہے، ان کی دربدری اور بسے بسائے گھروں کے لٹ جانے اوران پر جبری قبضوں کے دردناک واقعات اوردیگرقربانیاں شامل ہیں وہاں الطاف حسین کاخاندان بھی جان ومال کی قربانیاں دینے میں کسی طرح پیچھے نہیں رہا۔سب جانتے ہیں کہ میرے 77سالہ بزرگ بھائی ناصر حسین اورجواں سال بھتیجے عارف حسین کودسمبر 1995میں گھرسے اغواکرکے تین روز تک تشدد کانشانہ بنانے کےبعد کراچی کے نواحی علاقےگڈاپ میں لیجاکرگولیاں مارکر بیدردی سے شہید کردیاگیا۔ میرے 28سالہ بھتیجے عارف حسین کے سرپر کلہاڑی کےوار کرکے دو ٹکڑےکردیے گئے۔ میرے 70سالہ بہنوئی اسلم ا��راہانی کو کراچی سےگرفتارکرکے چھ ماہ تک اڈیالہ جیل میں بہیمانہ تشددکانشانہ بنایاگیااورنیم مردہ حالت میں جیل سے باہر پھینک دیاگیا اوروہ بالآخر زخموں کی تاب نہ لاکرشہید ہوگئے۔میرے باقی بہن بھائیوں میں بھی کوئی ایسا باقی نہ بچاتھا کہ جسے گھروں پرمسلسل چھاپے پڑنے کے بعد دیار غیر میں پناہ نہ لینی پڑی ہو۔
اپنے ہزاروں ساتھیوں کی شہادت، ہزاروں گمشدہ ساتھیوں کادکھ، ہزاروں ساتھیوں کی جیلوں کی اسیری، جن میں بہت سے آج بھی جیلوں میں اسیر ہیں، ان تمام قربانیوں کے باوجود آج میں اس نتیجہ میں پر پہنچاہوں کہ میں پاکستان کےگلے سڑے فرسودہ نظام کوتبدیل کرنا توکجا، میں اپنی مہاجرقوم کو اس کےحقوق دلانے میں ناکام رہا۔ لہٰذا میں آج مورخہ 10 اگست 2025ء کو تمام تحریکی ساتھیوں بشمول سابقہ رابطہ کمیٹی، کنوینر،ڈپٹی کنوینر، تمام تحریکی کارکنوں کو اس حلف سے جو انہوں نے تحریک اورمجھ سے وفاداری کا اٹھایاتھا، ان کےاس اٹھائے ہوئےحلف سے آزاد کرتا ہوں۔ اب وہ اپنے حلف سے آزاد ہیں، وہ جہاں چاہیں، جس جگہ چاہیں، جس کسی بھی سیاسی پارٹی کوجوائن کرناچاہیں اسے جوائن کرنے میں آزاد ہیں۔
میں جب تک زندہ ہوں، حقوق کے حصول کے لئےچلائی جانے والی تحریکی جدوجہد کو سوشل میڈیا کے توسط سے جاری رکھوں گا، کامیابی یاناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
الطاف حسین
10 اگست 2025ء
( جنرل ورکرزاجلا س سے خطاب )
جناح پور ڈرامہ ثابت
- پنجابی اینکر خاموش
میجر کلیم کیس سے بری
-پنجابی اینکر خاموش
حکیم سعید کیس سے بری
-پنجابی اینکر خاموش
12 مئی کیس سے بری
-پنجابی اینکر خاموش
بلدیہ فیکٹری کیس سے بری
-پنجابی اینکر خاموش
اور اب شاہد حامد کیس سے بری اور اب بھی "پنجابی اینکر خاموش"
#JusticeForSolatMirza
یااللہ صولت مرزا سمیت تمام شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
جنہوں نے جھوٹ گھڑا، گواہیاں خریدیں فیصلے لکھوائے ان سب کے لیے بھی ایک دن حساب ضرور ہوگا۔ یہ ظلم زیادہ دیر نہیں ٹکے گا، اور حق کی
گواہی تاریخ خود دے گی۔
آج انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سابق ایم ڈی کے ای ایس سی شاہدحامد قتل کیس میں منہاج قاضی اورمحبوب غفران کو بری کئے جانے کےفیصلےنے ثابت کردیا کہ MQM کےکارکن صولت مرزا شہید بھی بےگناہ تھے، ان کی پھانسی بھی قانون کا فیصلہ نہیں بلکہ ایک عدالتی قتل تھا۔
حکیم سعید قتل کیس کی طرح شاہد حام�� کیس بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھاجس کو جوازبناکر ایم کیوایم کونشانہ بنایا گیا۔
ایم کیوایم کےکارکنوں کے خلاف مختلف مقدمات قائم کرکے انہیں ہمیشہ دنیا کے سامنے بدنام کیا گیا لیکن جب بھی عدالتوں میں ان کے مقدمات چلے توعدالتوں میں وہ مقدمات جھوٹے ہی ثابت ہوئے۔
ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین کی 9 ویں روز کی ہیلتھ اپ ڈیٹ:
آج مورخہ 17 جولائی2025 ء کو بانی وقائدجناب الطاف حسین کے علاج کے سلسلے میں دو مزید ٹیسٹ ہوئے۔
#GetWellSoonAltafBhai
گیسٹرولوجسٹ کے تجویز کردہ ٹیسٹ کے سلسلے میں جناب الطاف حسین کو ایمبولینس کے ذریعےدوسرے اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کے ٹیسٹ کئے گئے۔ ٹیسٹ کے دوگھنٹوں کے بعد انہیں بخیریت واپس اسپتال پہنچادیا گیا۔
واضح رہےکہ بانی وقائد جناب الطاف حسین اپنی علالت کے باعث گزشتہ 9روز سے لندن کے ایک اسپتال میں داخل ہیں جہاں اب تک ان کے مختلف ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں۔
لندن
17جولائی 2025
میں نے کئی بار پیشکش کی تھی کہ میں بات چیت کے ذریعے بلوچستان کا مسئلہ حل کراسکتا ہوں لیکن میری بات نہیں سنی گئی۔
اور طاقت کا استعمال کیا گیا۔ آج بلوچستان کی صورتحال ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کا نتیجہ ہے
#Baluchistan
پراپرٹی کیس میں ہمارے وکلا کے دلائل بہت مضبوط ہیں، ہمیں بہتری کی امید ہے، عوام بہتر جج ہیں ۔ ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو
#AltafWillWin
قانون کے رکھوالے کون؟
فوج …یا…پولیس؟
قانون ، قانون کی باتیں کرنے والو !
قانون کہاں ہے ، ہمیں بھی دکھادو
آج بروز بدھ مورخہ 10 ۔ اپریل 2024ء عیدالفطر کے مبارک دن صوبہ پنجاب کے شہر بہاولنگر کے ایک پولیس اسٹیشن پر فوجی اہلکاروں کا زبردست حملہ…ایس ایچ او اورپولیس اہلکاروں پرشدید تشدد۔۔کئی پولیس اہلکار زخمی…پولیس اسٹیشن پر مو��ود تمام اشیاء کی توڑپھوڑ… ہرشے تہس نہس کردی گئی۔
دہشت گردی کے اس واقعے کی بے شمار وڈیوز منظرعام پر آگئی ہیں …تمام الیکٹرونک میڈیا پر اس پرتشدد واقعے کی رپورٹنگ پر پابندی عائد کردی گئی۔
تفصیلات جاننے کے لئے کچھ وڈیوز اورایک معروف سینئر صحافی رؤف کلاسرا @KlasraRauf کا ٹوئٹ منسلک کررہا ہوں، اس شعر کےساتھ،
قانون قانون کی باتیں کرنے والو !
قانون کہاں ہے، ہمیں بھی دکھادو
الطاف حسین
بانی وقائد متحدہ قومی موومنٹ