ھر آتے دن الحمدللہ کشمیر سے فسادیوں کی تعداد کم اور خوشحال پرامن کشمیر کے داعی لوگوں کی تعداد میں اضافہ ھورھا ھے۔
کشمیری شہری زندہ باد
شدت پسندی مردہ باد
کشمیر زندہ باد
پاکستان زندہ باد
Hindu can NOT break a nation connected by La ilaha illallah Muhammadur Rasulullah.
Occupiers can seize soil but they cannot touch imaan.
Bodies may be divided by borders, souls united by kalima never will be.
کراچی اور گوادر وفاق کے حوالے کر دینا چاہئے
جاوید چوہدری
ایسا کر دینا چاہئے تاکہ کم از کم کراچی کی حد تک قتل و غارتگری اور ڈاکو راج کا خاتمہ تو ہو
کراچی بالکل لاوارث ہو چکا ہے
جو بھی یوتھی بھائی آپ کے سامنے سوشل میڈیا پر زیادہ ناچنا شروع کردے تو یہ ویڈیو لازمی شئیر کرنی ہے۔
ایسا سناٹا طاری ہوگا کہ آپ کی زندگی میں سکون آجائے گا۔
ابھی واٹسیپ پر ایک یوتھی بھائیوں کے گروپ میں ڈالی ہے، دفاعی معاہدے پر باتیں کر رہے تھے، ابھی سب کا کیڑا ختم ہوگیا ہے۔
پاکستان ترکی اور سعودیہ کے مابین معاہدہ مکہ کو بڑی غور سے دیکھ رہے ہیں: ہندوستان
سعودیہ معاہدہ مکہ کے بعد اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھ سکتا: ایرانی مجوسی
گائے کے پجاری اور گھوڑے کے پجاری معاہدہ مکہ کے خلاف ایک ہیں
دونوں ہی حرامدے اسلام دشمن امن دشمن اور انسانیت دشمن۔
لاشیں تو ازلی دشمنوں کے درمیان جنگ میں بھی واپس کی جاتی ھیں ۔ یہ کون زہریلے لوگ ھیں جو لاشوں کی بھی بیحرمتی کرتے ھیں اور وارثوں کواغوا کرکے ننگا کرکے تشدد کرتے ھیں ۔
میں نے تو صرف جغرافیہ کے حوالے کشمیریت پہ سوال اٹھایا تھا تو کمیٹی والوں کو بڑا ناگوار گزرا تھا۔ سیاسی مسائل پہ جب متشدد ھتھکنڈے اور زبان استعمال جاتی ھے تو ریاست پھر طاقت کے استعمال میں حق بجانب ھو جاتی ھے۔
پاکستان اور کشمیر میں شہیدوں کے مقدس خون کا رشتہ ھے۔ اس رشتے پہ حملہ کا ھر قیمت پہ دفاع کیا جائے گا۔ اختلاف اور سیاسی ڈائیلاگ مستند رویہ ھے۔ اس کے علاوہ جو رستہ اختیار ھو گا اسکے نتائج ھونگے۔
لاہور کے ڈپٹی کمشنر میں متکبرانہ انداز تھا اس لیے کرسی پر جھولے لے رہا تھا جبکہ پختونخواہ کا کمشنر سفید داڑھی والے بزرگوں کو زمین پر بٹھا کر دستحط لے رہا ہے یہاں کسی راتب خور کی غیرت نہیں جاگے گی کیونکہ سھیل آفریدی ان کے گھروں کے بجلی کے بل ادا کرتا ہے
پنجاب کے 52 اضلاع میں 305 ارب روپے کا "میگا ڈیولپمنٹ منصوبہ" حقیقی تبدیلی کی بنیاد.
51 اضلاع اور تحصیلوں میں 40 فیصد سے زائد ترقیاتی کام مکمل۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی واضح ہدایات ہیں کہ ترقی اب نظر آنی چاہیے، صرف فیتے کاٹ کر چھپانے کا وقت گیا
ہمیں ایک ایسی "آئین پسند صحافت " کا سامنا ہے جنہیں جسٹس مسرت ہلالی کی ریٹائرمنٹ پر وہ سب کچھ یاد آیا جو ثاقب نثار بندیال اعجاز الاحسن حتی کہ ٹرکاں والا کے اخراج کے وقت بھول گئے تھے
کشمیری عوام کا سمندر سرعام ن لیگ کے جلسے میں شریک ہو کر PPP کے ساتھ دھاندلی کرتے ہوئے
کوئی ندیم ملک کو جگائے کوئی حامد میر کو جگائے اور دکھائے کہ یہ کشمیری عوام اُس جلسے میں شریک ہوئے جس کی سربراہی شیر پنجاب رانا ثنااللہ اور امیر مقام کر رہے تھے
چس آ گئی ہے 🔥❤️
ایک خاتون ہو کر آپ ایک ایسی شخصیت پر زبان چلا رہی ہیں جو تاریخ میں امر ہو چکی ہے، جس نے ان تمام روایتی اور معاشرتی بندشوں کو پاش پاش کر کے وہ تاريخ رقم کی جس کی مثال پورے ہختون خطے میں نہیں ملتی! آپ کس کی بات کر رہی ہیں، اس مسرت ہلالی کی، جو مردان کا فخر ہے، خیبر پختونخوا کا غرور ہے، پاکستان کا سرِ فخر سے بلند کرنے والی بیٹی ہے اور کروڑوں پختون لڑکیوں کے لیے ایک زندہ رول ماڈل ہے، جس جج کے دامن پر پوری زندگی نہ رشوت کا داغ لگا، نہ بدعنوانی کا اور نہ ہی سیاسی دلالی کا، اس پر محض ایک فیصلے کی بنیاد پر کیچڑ اچھالتے ہوئے آپ کو شرم آنی چاہیے۔ جو خاتون اصولوں کی پکی اور بے داغ کردار کی مالک رہی، جس نے وکالت سے لے کر پشاور ہائی کورٹ کی پہلی پختون خاتون چیف جسٹس اور پھر سپریم کورٹ کی مسند تک کا سفر اپنی محنت سے طے کیا، اس کے قد کاٹھ کا اندازہ آپ کے محدود سیاسی بغض سے نہیں لگایا جا سکتا۔آپ کی تکلیف یہ ہے کہ انہوں نے آئین کو مقدم رکھا اور قانون کی کتاب کو آپ کے سیاسی قائد کی مرضی پر قربان نہیں کیا۔ آپ جیسے لوگوں کے نزدیک انصاف صرف وہ ہے جو آپ کے لیڈر کے قدموں میں ڈالا جائے، اور جو جج کسی کی سیاسی غلامی سے انکار کر دے، اس پر آپ تحقیر کے تیر چلاتے ہیں آپ کے پسندیدہ ججز تو ثاقب نثار، آصف سعید کھوسہ عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الحسن ہیں ایسے سیاسی سہولت کاروں کو لوگ کن الفاظ میں یاد کرتے ہیں! مسرت ہلالی کا نام ان داغدار کرداروں میں شامل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے آئینِ پاکستان کا علم بلند رکھا، اور تاریخ کا فیصلہ آ چکا ہے، مسرت ہلالی ایک باوقار اور امر شخصیت کے طور پر یاد رکھی جائیں گی، جبکہ صحافت کے نام پر سیاسی غلامی کرنے والے خود اپنے ہی الفاظ کی ذلت میں ڈوب جائیں گے
وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے "مریم کو بتائیں" پروگرام کے تحت مالی امداد، علاج، وہیل چیئر، بیساکھی، الیکٹرک بائیک اور ہیئرنگ ایڈ کی فراہمی جاری ہے۔ 16 فروری سے اب تک 80 ہزار سے زائد افراد کی مالی معاونت کی جا چکی ہے اور 10 ہزار روپے تک امداد سمیت تمام سہولیات گھر کی دہلیز پر پہنچائی جا رہی ہیں۔ رجسٹریشن کے لیے 1000 پر کال کریں یا ویب سائٹ
https://t.co/Zt3MjEmoc8
کے ذریعے اپلائی کریں۔
سندھ سے آنے والے پنجاب کی تعریفوں کے پُل باندھ رہے ہیں،مریم نواز کی گُڈ گورننس کے دیوانے ہیں،ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سندھ میں پیپلزپارٹی صرف کرپشن کرتی ہے
اٹھارہ سالوں میں مراد علی شاہ نے یا تیرہ سالہ پختونخواہ حکومت نے کسی ایک بازار کی ایسے حالت بدلی ہوتو ضرور بتائیے گا
سڑکیں بازار شہروں کا آئینہ ہوتے ہیں ان بازاروں میں دھکے کھانے والا بھی عام شہری ہوتا ہے اگر کوئی کہتا ہے کہ اس سے عوام کو فرق نہیں پڑتا تو اُسے علاج کی ضرورت ہے
کیپٹن حمزہ اکرم شہید نے فتنۂ خوارج کے خلاف بہادری، جرأت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ نارووال کے اس بہادر سپوت نے وطنِ عزیز کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
اہلیانِ نارووال اور پوری پاکستانی قوم اپنے اس عظیم شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے، ان کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے، اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ شہیدِ وطن کے درجات بلند فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین
آپ نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروائے آپ کی رجسٹریشن منسوخ کی جاتی ہے، الیکشن کمیشن
جناب یہ دیکھیں یہ آپ کا دیا گیا پیپر ہے نا پڑھیں کیا لکھا؟ شاہد خاقان
یہی کے دو ہزار ممبران ہوں پھر جنرل کونسل کا الیکشن ہو ،الیکشن کمیشن
جی بس یہی دکھانا تھا دو ہزار بندے یہاں میرے اور مفتاح کے سوا تیسرا بندہ نہیں آپ کہتے الیکشن کراؤ تھوڑی مہلت دیں ممبران پورے ہوتے ہی میں الیکشن کروا لوں گا، شاہد خاقان
زرا دیکھ کر بتاؤ کتنی ملہت ہم مزید دے سکتے، چیف الیکشن کمشنر کا ساتھیوں سے سوال،
باقی تو چپ رہے اک بندہ آخری والی کرسی سے بولا جناب ایک آنکھ والا بندہ جو گدھے پر سوار ہو کر آئے گا اور اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہو گا،
اس کے آنے تک کی مہلت دے دیں شاید شاہد صاحب ممبران پورے کر لیں....!!!
میں بیرسٹر گوہر علی خان کی والدہ محترمہ کے انتقال پر دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔ اس مشکل گھڑی میں میری ہمدردیاں اور دعائیں بیرسٹر گوہر علی خان اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔
اللہ تعالی مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔