جامعہ فریدیہ اسلام آباد کا سات سالہ غیر معمولی نابغۂ روزگار بچہ
کبھی کبھی قدرتِ الٰہی ایسے غیر معمولی ذہن اور نادر صلاحیتوں کے حامل بچوں کو دنیا کے سامنے لاتی ہے کہ انسان بے اختیار حیرت و استعجاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جامعہ فریدیہ اسلام آباد میں گزشتہ شب ایسا ہی ایک حیرت انگیز مشاہدہ ہوا، جہاں ایک سات سالہ بچے کی عربی دانی، قوتِ حافظہ، فصاحتِ بیان اور علمی استعداد نے اہلِ مجلس کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
گزشتہ شب جامع مسجد جامعہ فریدیہ میں تکرار کی ذمہ داری انجام دے رہا تھا کہ حضرت مولانا اعجاز صاحب دامت برکاتہم ایک کم سن بچے کو اپنے ہمراہ لائے۔ تعارف کرواتے ہوئے فرمایا:
"یہ بچہ عربی زبان میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے اور مشکل سے مشکل عبارت بھی نہایت روانی سے پڑھ لیتا ہے۔"
طبعاً اس بات نے تجسس پیدا کیا۔ میں نے بچے سے عربی میں پوچھا:
«أين تعلَّمتَ اللغةَ العربية؟»
اس نے بلا توقف، نہایت اعتماد اور بے ساختگی سے جواب دیا:
«علَّمني الله هذه اللغة.»
اس مختصر مگر معنی خیز جواب میں اس کی خود اعتمادی، حاضر جوابی اور غیر معمولی ذہانت کی جھلک نمایاں تھی۔ اسی لمحے اندازہ ہوگیا کہ اس ننھے طالبِ علم میں قدرت نے کوئی خاص صلاحیت ودیعت فرمائی ہے۔
اتفاق سے ہمارے سامنے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی معروف تصنیف «الفقه الأكبر» کی شرح «أحسن الفوائد» موجود تھی۔ میں نے اس میں سے ایک نسبتاً دقیق اور مشکل مقام منتخب کرکے بچے کے سامنے رکھا۔ حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس نے عبارت نہ صرف صحت کے ساتھ پڑھی بلکہ ایسی روانی، اعتماد اور تسلسل کے ساتھ قراءت کی کہ مجلس میں موجود اہلِ علم ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔
اسی دوران بچے کے والد محترم مفتی سلمان پشاوری، جو جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہمارے عزیز بھائی مفتی Furqan Rahmani کے ہم سبق اور ہمارے دوست ہیں، نے بتایا کہ یہ بچہ فلکیات، کائنات اور تخلیقِ عالم کے بارے میں نہایت دقیق اور غیر معمولی نوعیت کے سوالات کرتا ہے، جنہیں سن کر بڑے بھی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔
ان کی گفتگو سن کر تاریخِ اسلام کے ان روشن ابواب کا خیال آیا جہاں کم سنی ہی میں بعض نابغۂ روزگار شخصیات نے اپنی غیر معمولی ذہانت، حافظے اور علمی شغف سے اہلِ علم کو حیران کردیا تھا۔
اسی موقع پر مولانا اعجاز صاحب نے تجویز پیش کی کہ عربی شعبے کے طلبہ بھی اس بچے کی علمی صلاحیت کا براہِ راست مشاہدہ کریں۔ چنانچہ طے ہوا کہ اسے مائیک پر بٹھا کر طلبہ کے سامنے گفتگو اور سوال و جواب کا موقع دیا جائے۔
جب یہ سات سالہ بچہ منبر پر جلوہ افروز ہوا تو اس نے سب سے پہلے «مسند الإمام الأعظم» کی عبارت اس قدر سلاست، روانی اور فصیح لہجے میں پڑھی کہ محسوس ہوتا تھا جیسے وہ طویل عرصے سے عربی متون اور کتبِ حدیث کا مطالعہ کر رہا ہو۔ اس کے بعد صحیح بخاری کی عبارت بھی اسی اعتماد اور روانی سے پڑھ کر سنائی۔
واقعی یہ منظر قابلِ حیرت تھا کہ ایک کم سن بچہ ایسی عبارتیں اس انداز میں پڑھ رہا تھا جس کے لیے عام طور پر باقاعدہ علمی مشق اور طویل مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کے بعد حاضرین میں سے ایک صاحب نے سورۂ نمل کی آیت:
﴿وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ﴾
کا مفہوم دریافت کیا۔
اس ننھے طالبِ علم نے نہایت سادہ، مربوط اور بلیغ انداز میں آیت کی تشریح بیان کی۔ اس کے اندازِ بیان میں صرف حفظ و تکرار نہیں بلکہ فہم، ربطِ کلام اور مفہوم کو اپنے الفاظ میں ادا کرنے کی صلاحیت بھی نمایاں تھی۔
پھر کسی نے سوال کیا:
«تفقّد» کا کیا معنی ہے؟
اس نے فوراً ایک عملی مثال دیتے ہوئے جواب دیا:
«إذا ضاع أحدُ الفلوسِ وبدأ يبحثُ عنها، فحينئذٍ نقول: تفقَّدَ الفلوسَ.»
یعنی اس نے محض لغوی معنی بیان کرنے کے بجائے مثال کے ذریعے لفظ کا مفہوم واضح کیا، جو اس کے فہم اور زبان پر گرفت کی ایک اور نمایاں علامت تھی۔
تقریباً ستائیس منٹ تک وہ طلبہ کے مختلف سوالات کا بلا جھجک جواب دیتا رہا۔ اس دوران اس کے اعتماد، حاضر جوابی اور علمی استعداد نے حاضرین کو مسلسل متوجہ رکھا۔
مجلس کے اختتام پر وہ ہمارے کمرے میں آیا تو میں نے اس سے پوچھا:
«هل أعجبتكَ الجامعة؟»
اس نے فوراً جواب دیا:
«أعجبتني في هذه الجامعة القراءةُ والكتبُ والأحاديث، أمّا البناءُ فلم يُعجبني؛ لأن هذا البناءَ يُذيبُ أعينَ الفقراء، وأرى الناسَ اليومَ يتفاخرون بالبناء، وهذا ليس شيئًا جيدًا.»
اس جواب نے ایک مرتبہ پھر سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ سات برس کے بچے کی زبان سے کتب، مطالعہ اور احادیث سے محبت، دنیاوی نمود و نمائش، تفاخر اور اسراف سے بے زاری پر مبنی ایسی بامعنی گفتگو سننا یقیناً غیر معمولی تجربہ تھا۔
اس وقت اس بچے کی عمر محض سات سال ہے۔ وہ قرآنِ کریم کے سترہ پارے حفظ کر چکا ہے، اکابر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
+
پاکستان سعودیہ ترکیا کا معاہدہ فرقہ وارانہ ہے، امریکی غلامی ہے، غلط ہے. اسکی مذمت ہونی چاہئے اور اسکے خلاف مہم چلنی چاہئے.
اب نظر ڈالیں حلال معاہدوں پر جن پر پاکستان میں مکمل خاموشی تھی:
2001 میں ایرانی نظام اور پاسداران انقلاب نے افغانستان میں ریجیم چینچ اور قبضہ کرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ طاجيكستان میں خفیہ معاہدہ کیا تھا، جسکے مطابق ایران نے افغانستان میں ریجیم چینج اور قبضہ کرنے میں امریکی اور نیٹو افواج کی مکمل عسکری اور انٹیلیجنس مدد کی، ایرانی افسران باقاعدہ افغانستان کے اندر امریکیوں کے ساتھ تھے. پاکستانی مدد صرف ائیر سپیس تک محدود تھی.
2003 میں ایرانی نظام نے خفیہ معاہدے کے تحت امریکی برطانوی افواج کو بغیر لڑے عراق پر قبضہ کروایا. پاسداران کے مجاہد، امریکی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے تھے. اسوقت سعودیہ نے امریکی اڈوں کو خالی کروا دیا تھا کہ سعودی سرزمین سے عراق پر قبضہ نہیں ہونے دے سکتے. امریکی افواج نے قطر میں بیس بنایا اور ایران کی مدد لی.
2003 میں ایرانی نظام نے اپنے نیوکلیئر پروگرام بچانے کیلئے امریکہ اور عالمی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ معاہدہ کیا، جسکے مطابق مراعاتوں کے بدلے پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بے نقاب کردیا اور پاکستانی ایٹمی پروگرام کو داؤ پر لگانے کی کوشش کی.
2004 میں ایرانی نظام نے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا جو "کسی ملک کے خلاف نہیں تھا!" (سمجھ گئے ہوں گے!)
2011 میں ایرانی نظام نے روس کے ساتھ شام کی عوام کو کچلنے کا معاہدہ کیا ایک ظالم حکمران کو بچانے کیلئے. دس لاکھ سے زیادہ شامی مارے گئے تھے.
2011/2012 کے لگ بھگ ایرانی نظام نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے ساتھ چابہار میں اڈہ قائم کرنے کا خفیہ معاہدہ کیا. پاسداران انقلاب اسلامی فورس کے اڈوں کے درمیان کمانڈر کلبھوشن یادیو کا سیاحتی دفتر کھولا تھا جو "کسی کے خلاف نہیں تھا!"
2015 میں یمن جنگ پر پاکستان میں افراتفری پھیلانے کی کوششیں کی تاکہ پاکستان یمنی اور سعودی حکومتوں کا ساتھ نہ دے، ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد آ گئے ہمارے حکام کو ریاض جانے سے روکنے اور پیچھے سے بھارتی حکام کو سعودیہ بھیج دیا پاکستان کی پوزیشن خراب کرنے.
2015 میں ایرانی نظام نے امریکہ اور بڑی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کئے جن سے بے تحاشا مالی فوائد کے ساتھ ساتھ یہ معاہدہ بھی کہیں ہوا کہ مغرب اور ایران ملکر کام کریں گے مشرق وسطی میں اور "عرب بہار" مظاہروں کے ذریعے عرب بادشاہتوں کو گرائیں گے.
2016 میں ایرانی نظام نے مودی جی اور افغان صدر کو چابہار معاہدے کیلئے مدعو کیا، گوادر کی توڑ میں، لیکن یہ اقدام بھی "کسی کے خلاف نہیں تھا!"
یہ سب حلال معاہدے تھے. اصل غلط معاہدہ وہ ہے جو پاکستان نے مکہ میں سعودیہ اور ترکیا کے ساتھ کیا ہے.
یہ پوسٹ دیکھتے ہی اسکو ریپوسٹ کریں اور سعودی اتھارٹیز کو مینشن کریں تاکہ یہ مردود سعودیہ میں بیٹھا وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو قتل کی دھمکیاں لگانے والا پکڑا جا سکے.
نوٹ : سعودی ادارے ایسے معاملات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اسلئے لازمی مینشن کریں
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته،
نفيدكم بأن هذا الشخص مقيم في المملكة العربية السعودية ويحمل الجنسية الباكستانية، وقد ظهر في مقطع فيديو وهو يوجّه تهديدات بالقتل إلى رئيس وزراء باكستان وإلى المشير، كما عبّر في حديثه عن نيته في تنفيذ ذلك.
وعليه، نلتمس من الجهات الحكومية والأمنية المختصة في المملكة العربية السعودية التكرم بالنظر في هذا الأمر، والتحقق من محتوى المقطع واتخاذ الإجراءات النظامية والقانونية اللازمة بحقه، في حال ثبوت ما نُسب إليه، وتطبيق العقوبات المقررة وفقًا للأنظمة والقوانين المعمول بها في المملكة.
إن مثل هذه التهديدات تُعد أمرًا خطيرًا قد يمس الأمن والسلامة العامة، ونأمل من الجهات المختصة التعامل معها بكل جدية، واتخاذ ما يلزم لمنع تكرار مثل هذه التصرفات مستقبلًا.
والسلام
@MOISaudiArabia@security_gov@pss_ar@KSAmofaEN
ایران کا انڈیا سے 2002 میں دفاعی معاہدہ ہوا تب کسی کا ایمان نہیں جاگا، ایران نے چاہ بہار بندرگاہ انڈیا کو دی تب بھی کسی کا ایمان نہیں جاگا، جیسے ہی پاک-سعودی-ترکیہ کے درمیان معاہدہ ہوا سب کے ایمان جاگ گئے، سب کو مرچیں لگ گئیں ہیں!!
موٹروے پر سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کی آواز!
موٹروے کے سروس ایریاز، ریسٹورنٹس اور ٹک شاپس پر کھانے پینے کی اشیاء عام مارکیٹ کے مقابلے میں کئی گنا مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔ مسافر مجبوری کے باعث یہ قیمتیں ادا کرتے ہیں، جبکہ بظاہر اس پر مؤثر نگرانی دکھائی نہیں دیتی۔
صرف یہی نہیں، اگر کوئی مسافر کسی چیز کی قیمت پوچھ لے یا زیادہ قیمت کی وجہ دریافت کرے تو بعض مقامات پر اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیے جانے کی بھی شکایات سامنے آتی ہیں۔ اگر ایسا ہو رہا ہے تو یہ انتہائی قابلِ تشویش ہے۔
محترمہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ، پنجاب فوڈ اتھارٹی، پنجاب پرائس کنٹرول اتھارٹی اور موٹروے سے متعلق ذمہ دار اداروں سے مؤدبانہ اپیل ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، سروس ایریاز پر قیمتوں کی شفاف نگرانی یقینی بنائی جائے، سرکاری نرخ نامے نمایاں آویزاں کیے جائیں، اور اگر کہیں ناجائز منافع خوری یا مسافروں کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کیا جا رہا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
موٹروے پر سفر کرنے والے شہری صرف محفوظ سفر ہی نہیں، بلکہ منصفانہ قیمت، معیاری خوراک اور باعزت رویے کے بھی حق دار ہیں۔
✍️ مفتی ابو محمد عفی عنہ
#Motorway #MotorwayServiceArea #PunjabFoodAuthority #PriceControl #ConsumerRights #MaryamNawaz #مہنگائی #موٹروے #مسافروں_کا_حق #قیمتوں_کا_نوٹس_لیں #ناجائز_منافع_خوری #Pakistan
یہ بکواس تو کچھ بھی نہیں ہے پچھلے ہفتے اس ایرانی پراکسی فسادی نے تمام مسلمان ممالک کو نقاب پوش قرار دیا تھا اب بھی یہ سعودیہ و ترکی پر بکواس کر کے عسکری قیادت کے چڈوں میں چھپ رہا ہے
ایرانی وزیرِداخلہ دورے پر آیا تھا پوری assignment دے کر گیا ہے
لبیک والوں کا منبر کا استعمال کرنا غلط تھا ان فسادیوں کا بھی منبر استعمال کرنا غلط ہے انہیں پٹہ نہیں ڈال سکتے تو انہیں بھی چھوڑ دیجیے
عوام میں یہی تاثر جا رہا ہے سنی مسلک والوں کو پیچھے دھکیل کر انہیں کھولنے کا مقصد کیا ہے ؟
یقین کریں اس چوتیے کو الف ب بھی معاہدہ کی نہیں پتہ لیکن سعودیہ کے بغض میں بس کاٹنا ہے
حافظ نے ٹھیک کہا تھا ایران پسند ہے تو وہاں دفعہ ہو جاو لیکن یہ ایران کی تباہی یہی بیٹھ کر دیکھتے رہے ہیں
اور ناظرین دفاعی معاہدہ کے بعد سے بھوسڑی کے پڑوسیوں کے پچھواڑے سے بھی آگ نکلنا شروع ہوگئی ہے حالانکہ ان مجوسیوں کو اسی حافظ نے گدڑ کُٹ اور کمبل کُٹ سے بچایا تھا
پس ثابت ہوا کہ یوتھیا یہودتھیا سورتھیا ہندتوا گولڈ سمتھیہ اور مجوسیہ ایک تھالی کے چٹٹے بٹٹے اور شٹٹے ہیں
دُنیا میں تقریباً 195 ملک ہیں اور ہزاروں مذاہب کے ماننے والے اربوں لوگ ہیں.
لیکن "مکہ معاہدہ" پہ تکلیف صرف ایک مذہب کے ماننے والوں کو ہوئی ہے جنکو "مجوسی" کہتے ہیں.
مجوسی عرب کا ہو یا عجم کا روم کا ہو یا ایران اسکی پہچان سادہ ہے وہ مکہ و مدینہ سے بُغض رکھے گا.
دُر دُر کُتیو
یہ جواد نقوی پاکستان میں کھلے عام بکواس کر رہا ہے اور اس کو تحفظ محسن نقوی کا ہے یہ ٹولہ اب پاکستان ترکی سعودیہ تعلقات خراب کرنے نکل پڑا ہے
نقوی صاحب سسٹم کو چھوڑیں پہلے یہ آپ کے جو یہ رشتہ دار ان کو کنٹرول کریں پاکستان میں فساد مت مچانے دیں یہ آپ کی ڈیوٹی ہے
میں حیران ہوں کہ اس قدر کھل کر ایرانی ایجنڈا چلانے والے، پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانے والے، اور ہر دوسرے جملے میں پاکستانی قیادت، پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں پر کیچڑ اچھالنے والوں کو آخر اتنی کھلی چھوٹ کیوں حاصل ہے؟
جی ہاں، میں پھر کہہ رہا ہوں، نمک حرامی اور ریاست دشمن پروپیگنڈا آخر کب تک برداشت کیا جائے گا؟
حوالدار صاحب! ہمت فرمائیے۔ آخر کون سی مجبوری آڑے آ رہی ہے؟ کیا یہ رعایت سب کے لیے ہے، یا صرف مخصوص عناصر کے لیے؟
عام شہری ایک لفظ لکھ دے یا ایک جملہ بول دے یا فقط اس پر شک ہی پڑ جائے تو فوراً کارروائی، پوچھ گچھ اور اصلاحی مراکز تک نوبت آ جاتی ہے۔ مگر جب یہی لوگ کھلے عام ریاست، افواجِ پاکستان اور اداروں کے خلاف زہر اگلتے ہیں تو متعلقہ اداروں کے پر کیوں جل جاتے ہیں؟ یہ دوہرا معیار آخر کب تک؟
آفتاب نذیر
کیا اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے ایک مسلمان یہ نام/لقب بول سکتا ہے:
1۔ داتا گنج بخش۔۔خزانے عطا کرنے والا
2۔ غوث اعظم۔۔۔سب سے بڑا مددگار
3۔ غریب نواز۔۔۔۔غریبوں کو نوازنے والا
4۔ دستگیر۔۔۔مصیبت میں مدد کرنے والا
5۔ مشکل کشا۔۔۔پریشانیاں دور کرنے والا
کتنے خوش نصیب ہیں آپ، اگر یہ