I don't think people understand the gravity of the situation as the UN is preparing for possible nuclear weapon use in Iran.
This is a picture of Tehran. For you uneducated, untraveled, never-served, warhawks licking your chops at the thought of bombing it. It's not some low population desert. There are families, children, family pets. Regular working class people with dreams. You're sick to want war.
Tehran is a city of nearly 10,000,000 people. Imagine nuking Washington, Berlin, Paris, London, or beyond, bombed with nuclear weapons.
I gave up my diplomatic career to leak this information. I suspended my duties so as not to be part of or a witness to this crime against humanity, in an attempt to prevent a nuclear winter before it is too late.
Yesterday, nearly ten million people protested “No Kings” in the United States. The possibility of the use of nuclear weapons must be taken very seriously. It's dangerous. Act now. Spread this message worldwide. Take the streets. Protest for our humanity and future. Only the people can stop it. History will remember us.
🚨🚨🚨بے حس قوم 🚨🚨🚨
موٹر سائیکل کی ٹینکی زیادہ سے زیادہ 10 لیٹر کی ہوتی ہے اور عام 1300cc کار کی ٹینکی زیادہ سے زیادہ 50لٹر کی ہوتی ہے
ساری ساری رات لائن میں لگ کر ملک بھر سے لاکھوں لوگوں نے موٹر سائیکل کی ٹینکی فل کروا کر 550روپے اور گاڑی کی ٹینکی فل کروا کر 2500روپے کی بچت کی
یہ پٹرول کتنے دن چلا لو گے چار دن ایک ہفتہ بس اور پھر اس کے بعد پھر مہنگا پٹرول ہی ڈلواؤ گے نا
اس کی بجائے اگر پٹرول مہنگا ہونے پر یہی لاکھوں لوگ صرف ایک بار تمام روڈ جام کر دیں اور واپس سستا ہونے تک نہ کھولیں تو 24 گھنٹوں میں قیمتیں واپس آ جائیں
لیکن افسوس صد افسوس یہ بات سمجھاتا سمجھتا عمران خان اڑھائی سے جیل میں پڑا ہؤا ہے کہ میں تو برداشت کرلوں گا آپ نہیں کر سکو گے آج بھی یہ قوم لاکھوں کی تعداد میں نکلتی ہے تو پٹرول ڈلوانے نہ کہ پٹرول سستا کروانے
یہ مقابلہ بھی آج ختم ہوا !
مقبولیت کے مقابلے میں تو اسکی خاک کو نہیں چھو سکے۔ اذیتیں برداشت کرنے کا امتحان تھا۔ وہ سرخرو ہوا۔ اب نفسیات کی جنگ تھی۔ ذہنی کنٹرول کی جنگ تھی۔ کون پہلے آنکھ جھپکے گا اور کون دل چھوڑ جائے گا۔ وہ جیل کے اندر ، رابطے منقطع ، ملاقاتیں بند ، جسمانی سختیاں سب برداشت کرتا رہا۔
دوسری طرف یہ تھے۔ لامحدود وسائل ، بے پناہ طاقت۔ نہ کسی آئینی قدغن کا ڈر تھا نہ کسی اخلاقی دائرے کا پاس۔ گھاگھ اور کایاں ایسے کہ کبھی کٹھ پتلیوں کے پیچھے چھپتے کبھی عوامی جذبات کے پیچھے۔ مکرتے ، جھوٹ بولتے ، عیاری سے کام لیتے سامنے نہیں آتے تھے۔ یہیں وہ مقابلہ تھا جو آج اختتام پذیر ہوا۔ اعصاب کی جنگ۔
وہ ننگا کرنا چاہتا تھا ، یہ چھپے رہنا چاہتے تھے ، وہ انکے منہ سے اگلوانا چاہتا تھا یہ زبان نہیں ہلاتے تھے۔ وہ ثابت کرنا چاہتا تھا یہ مکاری سے کام لیتے تھے۔ وہ الزام نہیں لگانا چاہتا تھا یہ ہاتھ سے پھسل پھسل کر نکل رہے تھے۔ لیکن پھر اسکی حکمت عملی کام آگئی۔ اسکے صبر کا اس کو پھل ملا۔
جیسے ایک ایک قطرہ گرتا ہے اور پتھر کو پھاڑ دیتا ہے وہ دو سال سے دھیرے دھیرے تھوڑا تھوڑا پریشر ڈالتا رہا۔ آج فوج کے اعصاب چٹخ گئے۔ دباؤ برداشت نہ کرپائے۔ تسلیم کرلیا کہ ہم اسکے دشمن ہیں۔ یہی وہ چاہتا تھا کہ اسکی دشمنی کو سرعام تسلیم کیا جائے۔ بیانیے کے محاذ پر یہ اسکی آج تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
اب اس سے محبت کرنے والے جانیں اور اس سے نفرت کرنے والے جانیں۔
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
پچھلے دنوں X پر ایک بندے کی تصویر وائرل ہوئی تھی۔ ایک بندہ جو کعبے میں کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا کہ بیوی کی ضد پر خدا ڈھونڈنے آیا ہوں۔۔۔ اس کو تو شاید خدا نہ ملا لیکن اس بچے کو مل گیا ہے۔۔
Pakistan’s decision to nominate Trump for the Nobel Peace Prize is now exposed as a grave misjudgment. Last night’s attack on Iranian nuclear facilities proves he is a warmonger, not a man of peace. This nomination must be condemned and withdrawn immediately.
Endorsing Trump for the Nobel Peace Prize after his attack on Iran is a betrayal of justice. He is a war criminal, not a peacemaker. Pakistan’s support for such a man is shameful and morally bankrupt.