امریکہ نے 1998میں اپنے بحری بیڑے سے افغانستان پر ٹام ہاک مزائیل داغے۔ جن میں سے دو پراپر فائر نہ ہوسکے اور صحیح سلامت بلوچستان میں گرگئے تھے ۔ پاکستانی حکام نے ان کو اپنی تحویل میں لے لیا ۔ امریکہ نے بڑا دباؤ ڈالا لیکن پاکستان نے مزائیل امریکہ کو واپس نہیں دئے ۔ کہاجاتا ہے کہ پاکستان نے ان مزائیلوں کی ریورس انجینئنرنگ کی اور بالکل ویسے ہی مزائیل بنالئے ۔ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے بابر ،حتف کروز میزائل امریکہ کے کروز میزائل کے ڈیزائن پر بنے ہیں کروز میزائل ائپر سپر سانک کروز میزائل ہیں جو خودکار طریقے سے اپنے ہدف کو تلاش کر کے نشانہ بناتے ہیں ایٹمی وار ہیڈ کے جا سکتے ان کی رینج ڈھائی ہزار کلو میٹر تک ہوتی ہے
ٹوم ہاک (Tomahawk) کروز میزائل کو امریکی عسکری طاقت کی علامت اور دنیا کے سب سے مہلک ہتھیاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ ٹوم ہاک کی سب سے بڑی طاقت اس کی مار کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ میزائل 1,600 سے 2,500 کلومیٹر دور بیٹھے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔یہ میزائل روایتی بیلسٹک میزائلوں کی طرح فضا میں اوپر نہیں جاتا، بلکہ زمین سے بہت کم بلندی (تقریباً 30 سے 50 میٹر) پر اڑتا ہے۔ اس وجہ سے دشمن کے راڈار اسے آسانی سے نہیں دیکھ پاتے، کیونکہ یہ پہاڑوں اور زمین کی اوٹ میں چھپ کر نکل جاتا ہے۔
اس میں "ٹیراکوم" (TERCOM) اور ڈیجیٹل سین کنٹرول (DSMAC) جیسے نظام نصب ہیں۔ یہ اڑان کے دوران زمین کے نقشوں کا موازنہ کرتا ہے اور اپنے راستے کی خود تصحیح کرتا ہے۔ یہ ہزاروں میل دور سے ایک مخصوص عمارت کی کھڑکی تک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
برطانیہ کے پاس یہ طویل عرصے سے ہیں، جبکہ حال ہی میں جاپان، آسٹریلیا اور نیدرلینڈ کے ساتھ ان کے معاہدے ہوئے ہیں۔ جاپان کو اس کی فراہمی چین اور شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں کی جا رہی ہے۔
(جنید بلوچ)
گنجائش 21000 سٹڈیم کے اندر 25000
ہزاروں باہر لائینوں میں۔
کہتے تھے کھوتا نمبر 804 نہیں تو پاکستان نہیں
پاکستانیو نے کہا جا پڑاں مر ابلیس کی نسل
دل دل 🇵🇰 جان جان 🇵🇰
اتنا جوش تاریخ میں پاکستانیوں میں نے نہیں دیکھایا جتنا سید زادے فیلڈ مارشل نے سندور کو تندور بنا کر دیکھا دیا
#بریکنگ_نیوز
🔻عالمی عدالت انصاف کا بڑا فیصلہ
🔻عالمی عدالت انصاف نے مقدمہ نا سننے کی اسرائیلی درخواست مسترد کردی
🔻جنوبی افریقہ کو حق ہے اسرائیل کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی
🔻عالمی عدالت انصاف اسرائیلی جنگی جرائم کے خلاف فیصلہ دینے کا اختیار رکھتی ہے
🔻جنوبی افریقہ کا دعویٰ رد نہیں کیا جاسکتا
🔻فلسطینیوں کو حق ہے کہ نسل کشی سے ان کی حفاظت ہو
🔻جنوبی افریقہ نے جن بنیادوں پر مقدمہ درج کرایا وہ منطقی اور اصولوں کے موافق ہے
🔻غزہ میں لوگوں پر ظلم کیا جارہا ہے ان سے جینے کا حق چھینا گیا ہے ان کو خوراک پانی ادویات کے مسائل لاحق ہیں
🔻اسرائیل غزہ پر حملے فوری بند کرے
🔻اسرائیل غزہ میں فوری انسانی حقوق کی پامالیاں بند کرے
🔻اسرائیلی فوج انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے
🔻اسرائیلی انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دے
🔻اسرائیل اس بات کو یقینی بنائے کے غزہ مسلمانوں پر ظلم بند کیا جائے نسل کشی روکی جائے
🔻عالمی عدالت انصاف کے 17 ججوں نے یہ فیصلہ سنایا ہے
🔻یہ عبوری فیصلہ ہے جس پر اسرائیل کو عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے
🔻اگلے مرحلے میں اس سے سخت سزائیں دی جاسکیں گی
🔻جنوبی افریقہ نے اس فیصلے کو حق اور انصاف کی جیت قرار دیا ہے
🔻یہ مظلوم فلسطینیوں کی جیت ہے
(تحریر و رپورٹ #غلام_نبی_مدنی)
@GNMadani