حق کی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی، کیونکہ شہید ہونے والے افراد سے زیادہ طاقتور اُن کا نظریہ ہوتا ہے۔
اسامہ شہید جو صرف ایک PhD طالب علم نہیں تھا، بلکہ ایک باشعور سماجی و سیاسی کارکن تھا۔ وہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ اپنے لوگوں کے حقوق، انصاف، مساوات اور ایک بہتر معاشرے کے خواب کے لیے آواز بلند کرتا تھا۔ ایسے لوگ کسی ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ حق، انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کو اکثر آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن نظریات کو گولیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایک آواز خاموش ہو بھی جائے تو اس کے الفاظ ہزاروں دلوں میں زندہ رہتے ہیں، اور ایک فکر نئی نسلوں کو راستہ دکھاتی رہتی ہے۔
ہر اس جان کے ضیاع پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہیں جو عوامی حقوق، امن اور انصاف کی جدوجہد کے دوران ہم سے بچھڑ گے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے، اور ��مارے معاشرے کو ایسا ماحول نصیب کرے جہاں اختلافِ رائے کا احترام ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور ہر شہری کو اپنے حقوق کے لیے پُرامن آواز اٹھانے کی آزادی حاصل ہو۔
قلم سے ڈرنے والے ہمیشہ گولی کا سہارا لیتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ شعور کی آواز کو دلیل سے نہیں ہرایا جا سکتا۔
سردار انس اشفاق
#ajkrightmoment #anssishfaq #AJK #Kashmir #peaceforkashmir
دریک راولاکوٹ دھرنا ہزاروں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی شرکت، عوامی حوصلے چٹان کی طرح مضبوط
راولاکوٹ کے مقام 'دریک' میں گزشتہ ایک ماہ سے ہزاروں کشمیری اپنے بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے پرامن احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اس دھرنے میں اب ہزاروں کی تعداد میں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی آمد کا سلسلہ بھی تیزی سے جاری ہے۔
دوسری جانب فورسز اور رینجرز کی فائرنگ کے نتیجے میں متعدد کشمیری شہید اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں لیکن اس بدترین جبر کے باوجود عوام کے حوصلے تاحال بلند ہیں اور وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔
#RightsMovementAJK
#کشم��ر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
#گولی_کیوں_چلائی
ظلم اور فسطائیت کے بل بوتے پر حکومتیں تو چلائی جا سکتی ہیں، لیکن دلوں پر راج نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ماہ سے زائد کا یہ عرصہ گواہ ہے کہ آپ لوگوں کی آواز کو قید کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔
کیا آپ کی بے حسی کی کوئی انتہا ہے؟
آئے دن بے گناہوں کی لاشیں گر رہی ہیں، مائیں اپنے لعلوں کے جنازے اٹھا رہی ہیں، ہسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں اور ہر گلی سے سسکیاں سنائی دے رہی ہیں۔ لیکن افسوس! اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ یہ بہتا ہوا خون، یہ تڑپتے ہوئے زخمی، اور یہ اڑتے ہوئے جنازے آخر آپ کو کیوں نظر نہیں آتے؟ کیا کرسی کی چمک نے آپ کو بالکل اندھا کر دیا ہے؟
یاد رکھیے! عوامی غیظ و غضب اور معصوموں کے خون کی پکار جب حد سے بڑھتی ہے، تو بڑے بڑے تخت و تاج ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ ظلم کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے۔ اگر آج آپ اقتدار کے نشے میں اندھے ہو کر اپنے ہی لوگوں پر ستم ڈھال رہے ہیں، تو کل تاریخ کے صفحات میں آپ کا نام صرف ایک "بے حس ظالم" کے طور پر ہی لکھا جائے گا۔ ہوش کے ناخن لیں، مزید خون بہانے سے باز آئیں اور عوام کی داد رسی کریں، ورنہ وق�� کا پہیہ جب گھومتا ہے تو کسی کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیتا۔
سردار انس اشفاق
#RightsMovementAJK
آزاد کشمیر کے لوگوں پر بڑا فخر ہے کہ وہ لوگ ظالم کے آگے ہار نہیں مان رہے۔ ویسے تمام کشمیریوں کی بھی عجیب قسمت ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی فوج ظلم کرتی ہے اور آزاد کشمیر میں پاک��تانی فوج کے لوگوں نے ظلم کیا۔
ہر چیز کا علاج کرش کرنا نہیں ہوتا۔ اول تو حق کا نظریہ کبھی کرش ہوتا نہیں اور دوسرا مسلہ یہ ہے کہ ظلم نفرتیں بڑھاتا ہے۔
اگر پورے ادارے کو نفرتیں بٹورنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کا شوق ہے تو لگے رہیں۔ اور اگر اتنی ذلت بھری زندگی سے تنگ ہیں تو بات چیت کر کے تمام مسلے حل کریں اور طاقت / بندوق کے زور کو بریک دیں۔ سوشل میڈیا کے زمانے میں نفرتیں ہر جگہ نظر آئیں گی ، بہت ہی غلط زمانہ ہے ظلم کرنے کا۔ سب کچھ ریکوڑڈ ہو رہا ہے ڈیجیٹل آرکائیؤز میں، نسلوں تک سامنے آتے رہیں گے ظلم کے ثبوت!
گولیوں کی بوچھاڑ اور اپنوں کی شہادتیں بھی قوم کے قدموں کو ڈگمگا نہ سکیں۔ کشمیری قوم اپنے مقصد پر آج بھی چٹان کی طرح قائم ہیں۔ تاریخ یاد رکھے گی کہ یہ کشمیر ہے، یہاں جبر کا سر جھکے گا، عوام کا نہیں۔
پوری قوم متحد ہے اور اپنے حقوق کے لیے پرعزم ہے ✊🔥🚩
میری ملاقات ہوئی، وہاں پہ جو لوکل قیادت ہے راولاکوٹ میں، اور جو ان کی سینٹرل قیادت ہے، عمر نذیر کشمیری صاحب، اور خواجہ مہران صاحب،
ان کے ساتھ میری تفصیلی ملاقات ہوئی۔ اور، میں آپ کو بتاؤں، جب میں راولاکوٹ گیا تھا، تو راولاکوٹ وار زون (War Zone) کی طرح لگ رہا ہے۔فورسز کے، سیکیورٹی فورسز کے مورچے،جگہ جگہ تلاشیاں۔
پھر آپ جیسے ہی کشمیر میں داخل ہوتے ہیں،ہر گاڑی سے وہ پوچھتے ہیں، راشن کا سامان تو نہیں ہے؟ غذائی اجناس تو نہیں ہیں؟یعنی ایک طرح سے مکمل ناکہ بندی، 'سیج' (Siege) ہے۔ایک بلاکیڈ (Blockade) ہے۔جو کہ کشمیری ��وام کا کیا گیا ہے۔تو میں نے تو وہاں بالکل ایک ایسی کیفیت دیکھی، جیسے وار زون۔
سینیئر رہنما تحریک تحفظ آئین پاکستان سینیٹر مشتاق احمد
پاکستان تحریک انصاف نے AJK کے 27 جولائی کو منعقد ہونے والے جنرل الیکشن میں مزید حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے- یہ فیصلہ PTI-AJK کی قیادت اور اپنے اتحادیوں کے مشورے کے ساتھ کیا- یہ فیصلہ آزاد کشمیر میں اس وقت جاری صورتحال اور وہاں کے عوام کے خواہشات اور جذبات کے پیش نظر کیا- الیکشن جمہوریت کا وہ پروسیس ہے جس میں عوام منصفانہ، آزادانہ اور شفاف طریقے سے اپنی مرضی سے اپنے ووٹ کا استعمال کر کے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتا ہو لیکن حالات اس کے بر عکس ہیں-
ساتھ ہی ہم نے پارلیمانی بورڈ کے طرف سے ٹکٹس کی شِفارشات اور اسکے خلاف متاثرہ اُمیدواران کے اپیلوں پر کاروائی معطل کی- مجھے اُمید ہے پی ٹی آئی AJK سے جوڑے تمام لوگ اس فیصلے کو سپورٹ کرینگے- ہم اُمید دلاتے ہیں ہم ہر فیصلہ خان صاحب کے نظریئے کے مطابق ملک قوم اور جمہوریت کی حاطر باہمی مشورے سے کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کا آزاد جموں و کشمیر انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان
عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پارلیمانی بورڈ کی جانب سے ٹکٹوں کے حوالہ سے بھیجی گئی ��فارشات بھی معطل کر دی
پہلے قوم کو سیاسی شعور دینے والے محسن قائد عمران خان کو پسِ زندان ڈالا گیا، پھر ایمان مزاری کی آواز کو زنجیروں میں جکڑا گیا، اس کے بعد مہرنگ بلوچ اور اب شوکت نواز میر کو بھی پابندِ سلاسل کر دیا گیا ہے۔
مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر دبائی گئی آواز کے بدلے کئی نئی آوازیں جنم لیتی ہیں۔ اختلافِ رائے کا جواب طاقت اور جبر سے نہیں، بلکہ دلیل، انصاف اور آئین کی بالادستی سے دیا جاتا ہے۔ گرفتاریاں نظریات کو ختم نہیں کرتیں، بلکہ انہیں مزید مضبوط اور توانا بنا دیتی ہیں۔آوازِ حق کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا، کیونکہ سچ ہمیشہ اپ��ی راہ خود بنا لیتا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایک بوکھلائے ہوئے اور خوف زدہ نظام کی بے بسی کی علامت ہیں۔
یہ آوازیں اب کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں رہیں، بلکہ اس دھرتی کے ہر مظلوم، ہر محروم اور ہر پسے ہوئے انسان کی دھڑکن بن چکی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبے کو مدِنظر ��کھتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر مہاجرین کے 12 حلقوں میں اپنے امیدوار میدان میں نہ اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارٹی قیادت کے مطابق یہ فیصلہ وسیع تر قومی مفاد اور اپوزیشن قوتوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی جمہوری اقدار، عوامی امنگوں اور ان اجتماعی کوششوں کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھتی ہے جن کا مقصد عوام کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان
چیئرمین
پاکستان تحریک انصاف
راولاکوٹ جانے سے روکنے کے بعد تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کے وفد نے سہالہ میں احتجاجی دھرنا دے دیا۔
وفد کی قیادت محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں، جبکہ اس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر، جاوید راٹھور، نبیلہ ارشاد، ڈاکٹر ظفر ملک، حسین احمد یوسفزئی، خالد یوسف چوہدری اور دیگر سیاسی رہنما شامل ہیں۔
وفد عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے سے اظہارِ یکجہتی، شرکاء سے ملاقات اور ان کے تحفظات سننے کے لیے راولاکوٹ جا رہا تھا، تاہم سہالہ کے مقام پر انہیں روک دیا گیا۔ اس کے بعد رہنماؤں نے وہیں احتجاجی دھرنا دے دیا۔
وفد نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری طور پر آزاد کشمیر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنا طے شدہ دورہ مکمل کر سکیں
کشمیر کی حالیہ تحریک کے دوران پاکستانی میڈیا کا کردار عوام کے سامنے ہے، لیکن ایسے ماحول میں جہاں بہت سے آوازیں مختلف مفادات کے زیرِ اثر محسوس ہوتی ہیں، جناب حامد میر صاحب نے صحافت کے بنیادی اصولوں، سچائی اور حق گوئی کا دامن نہیں چھوڑا۔انہوں نے اپنے قلم اور آواز کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور صحافتی ذمہ داری کا حق ادا کیا۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر جہاں حق بات کہی جائے وہاں اعترافِ حقیقت بھی ضروری ہے۔ایسے صحافی قابلِ ستائش ہیں جو دباؤ، مصلحت اور مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے پیشے کے وقار کو برقرار رکھتے ہیں۔
کسی بھی جمہوری اور آئینی معاشرے میں بنیادی حق��ق، تحریری معاہدوں کی پاسداری اور جوابدہ حکمرانی کے لیے پُرامن احتجاج شہریوں کا مسلمہ حق ہے۔ جب عوام کی ایک اتنی بڑی تعداد (مرد، خواتین، بزرگ اور نوجوان) کسی تشدد کے بغیر، محض اپنے حقوق اور معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے دھرنا دیے بیٹھی ہو، تو اسے "سیکیورٹی مسئلہ" قرار دینے کے بجائے عوامی امنگوں اور جائز مطالبات کی آواز سمجھنا چاہیے۔
آذادکشمیر میں شہریوں کا پُرامن رہ کر دھرنا دینا اور احتجاج کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہیں اور اپنے مسائل کا حل آئینی حدود کے اندر چاہتے ہیں۔ انہیں کسی بھی قسم کا منفی لیبل لگانا زمینی حقائق کے برعکس ہے۔
اکتوبر 2025 کے معاہدۂ مظفرآباد جیسے تحریری وعدوں پر تاخیر یا نامکمل عمل درآمد ہی عوام میں مایوسی اور بے اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ ریاست اور اداروں کی ساکھ اسی وقت بحال ہوتی ہے جب کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔
کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے سنجیدہ، منظم اور نیک نیتی پر مبنی فوری مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ زور زبردستی کے بجائے بات چیت سے ہی پائیدار حل ممکن ہے۔
خطے میں پائیدار امن، عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور ریاستی اداروں پر اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ حکام اس احتجاج کو ایک موقع سمجھیں اور فوری طور پر بامقصد مذاکرات کا آغاز کریں۔ کشمیری عوام کی زندگی، ان کے حقوق اور ان کا امن ہر چیز پر مقدم ہے۔
سردار انس اشفاق
#ajkrightmoment #anssishfaq #LongMarch
#ajk
راولاکوٹ کی سڑکوں پر اس وقت عوامی سمندر امڈ آیا ہے۔ جو کہہ رہے تھے کہ کوئی نہیں نکلے گا اور جو یہ سوچ کر بیٹھے تھے کہ کشمیری گولیوں سے ڈر جائیں گے ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے یہ تاریخی منظر ہی کافی ہے۔
#RightsMovementAJK#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو#گولی_کیوں_چلائی
کیا یہ سب کے سب بھارتی ایجنٹ ہیں ؟ انکی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے بغیر صورتحال بہتر نہیں ہو گی جو لوگ آزادکشمیر میں نفرتوں کے کاروبار سے فائدہ ا��ھانے کی کوشش میں ہیں وہ ہم سب کے دشمن ہیں
حق مانگنا جرم نہیں، حق چھیننا جرم ہے!
کیا اپنے بچوں کا بہتر مستقبل مانگنا گناہ ہے؟ کیا سستی بجلی، معیاری تعلیم، بہتر علاج اور روزگار کا مطالبہ کرنا دہشت گردی ہے؟ اگر یہ سب مانگنا جرم ہے، تو پھر اس خطے کا ہر ایک شہری مجرم ہے۔
دہائیوں سے حکمران ہمارے وسائل لوٹ رہے ہیں اور ہمیں بنیادی ضرورتوں سے محروم رکھا گیا۔ لیکن جب عوام نے تنگ آ کر ��پنے حصے کا حق مانگا، تو جواب گولیوں، مقدمات اور پابندیوں کی شکل میں ملا۔
یاد رکھیے! جو اپنی مٹی اور اپنے لوگوں کے حقوق کی جنگ لڑتے ہیں، وہ دہشت گرد نہیں ہوتے۔ طاقت سے آوازیں تو دبائی جا سکتی ہیں، مگر حق کی جدوجہد کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی تحریکیں جبر سے رکتی نہیں، بلکہ مزید مضبوط ہوتی ہیں۔
ہم نہ جھکیں گے، نہ پیچھے ہٹیں گے
#AJKRightsmovem #pallandri #sudhnuti #AJK #9june2026 #LongMarch #actioncommittee #anssishfaq #IYWAJK #PTIAJK