@irfanashraf36@NawazSharifMNS May Allah brings peace in AJK especially in Poonch Div. Upcoming AJK government must remain highly proactive to bring things back on track.
Kashmir Protest
Dialogue is the only way forward, Use of force will only deepen the crisis. So all parties must come to the table without preconditions.
@PMofAJK@CMShehbaz@OfficialDGISPR@JAAC__Official
خودمختار کشمیر کا موقف پاکستان مخالف موقف ہے نہ ہی کوئی نیا مؤقف، مقبول بٹ شہید اور امان اللہ خان مرحوم نے ساری زندگی سیاسی جدوجہد کے ذریعے اسی نظریے کی وکالت کی، جبکہ یاسین ملک آج بھی اسی مؤقف کی پاداش میں تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، اس کے باوجود ان تینوں چوٹی کے رہنماؤں نے ہمیشہ پاکستان کو اپنا محسن قرار دیا، کبھی پاکستان کے خلاف نفرت یا ریاست مخالف بیانیہ اختیار نہیں کیا، حتیٰ کہ مقبول بٹ پر پاکستان میں غداری کے الزامات بھی لگے، وہ جلتے کڑتے رہے مگر انہوں نے کبھی پاکستان سے نفرت کا اظہار نہیں کیا، حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ خودمختاری کے مؤقف سے زیادہ اس کے نام پر نفرت، اشتعال انگیزی، تقسیم اور تصادم کی سیاست ہے، ورنہ مقبوضہ جموں و کشمیر، آزاد کشمیر حتی کہ گلگت بلتستان میں بھی ایک قابلِ ذکر طبقہ جموں و کشمیر کی خودمختاری یا حقِ خودارادیت کی مختلف تشریحات اور تصورات کا حامی ہے، یہ ضروری ہے کسی بھی سیاسی مؤقف کا جائزہ اس کے تاریخی، سیاسی اور آئینی تناظر میں لیا جانا چاہیے، لیکن جب کسی نظریے کو نفرت اور تقسیم کی سیاست کا ذریعہ بنا دیا جائے تو سب سے زیادہ نقصان خود اسی مؤقف کی ساکھ کو پہنچتا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں، گزشتہ دو ہفتوں سے ریاست کے بیشتر علاقوں میں راستوں کی بندش، دھرنوں، احتجاجی سرگرمیوں اور لاک ڈاؤن جیسی صورتحال کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہیں، جبکہ حکومت عملی طور پر کہیں نظر نہیں آ رہی۔
ان بندشوں کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑ رہا ہے، مزدور اور دیہاڑی دار طبقہ روزگار سے محروم ہے، مریض بروقت علاج اور ہسپتالوں تک رسائی کے لیے مشکلات کا شکار ہیں، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جبکہ تعلیمی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہیں، انٹرنیٹ اور مواصلاتی سہولیات میں رکاوٹوں کے باعث نہ صرف عوامی رابطے متاثر ہیں بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔
ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کے بنیادی حقوق، بشمول تعلیم، صحت، روزگار، نقل و حرکت، خوراک اور معلومات تک رسائی کو یقینی بنائے۔ مگر موجودہ صورتحال میں یہ تمام حقوق متاثر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
وزیراعظم آزاد کشمیر @PMofAJK کو چاہیئے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیں، تمام متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لے کر ایسا قابلِ عمل لائحہ عمل ترتیب دیں جس سے عوام کو درپیش مشکلات کا کچھ تو ازالہ ہو، محض خاموشی اختیار کرکے دور بیٹھ کر حالات کا جائزہ لینے سے بہتری کیسے آئے گی؟
Kashmir Protest
Dialogue is the only way forward, Use of force will only deepen the crisis. So all parties must come to the table without preconditions.
@PMofAJK@CMShehbaz@OfficialDGISPR@JAAC__Official
Deeply disturbed by the news coming from across the LoC. The killing of more than a dozen protesting civilians and police personnel is extremely sad. The Government there should know better than to use force to handle public grievance and demands in this manner.
When people take to the streets to express their concerns, it is a signal that they seek to be heard. It is the responsibility of those in authority to listen, engage and peacefully resolve the matter, rather than allow it to escalate into violence, arbitrary arrests and loss of life.
Hope and pray that better sense prevails and the matter is handled with maturity while addressing the concerns of the people.
زرائع کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی اور آزاد کشمیر حکومت نے مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کرلیا ہے، مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ اور عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے نوٹفکیشن کی واپسی کا مطالبہ مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہونگے۔