In continuation of security forces operations against the terrorists nexus of Indian sponsored Fitna al Hindustan and Fitna al Khwarij, comprehensive joint operations are being carried in different parts of Balochistan to weed out remnants of terrorists and their facilitators.
In last 48 hours security forces have conducted multiple intelligence-based area sanitization and targeted operations in District Surab and District Mastung of Balochistan, during which ten terrorists were killed.
During the conduct of these operations, security forces effectively engaged the terrorist locations, killing seven terrorists in District Surab. Whereas three terrorists were killed and two female Suicide Bombers along with facilitator were also apprehended in District Mastung belonging to Indian-sponsored Fitna al Hindustan.
Weapons, ammunition and improvised explosive devices used by terrorists were also recovered from the terrorists.
Sanitization operations are being conducted to eliminate any other Indian sponsored terrorist found in the area. Relentless Counter Terrorism campaign under vision “Azm e Istehkam” (as approved by Federal Apex Committee on National Action Plan) by Security Forces and Law Enforcement Agencies of Pakistan will continue at full pace to wipe out menace of foreign sponsored and supported terrorism from the country.
��اگتے رہنا اور بکل وچ چور پر نظر رکھتے رہنا
فضلو ڈیزل کی سیاسی تاریخ دھوکہ دہی اور وعدہ خلافی سے بھری پڑی ہے۔ فضل الرحمان جس کی سیاست کا محور ہی اسٹیبلشمنٹ ہے اس کی موجودہ لڑائی نورہ کشتی کے سوا کچھ نہیں۔
فضل الرحمان سیاست کا گرو ہے اور اسٹبلشمنٹ مہا گرو۔ یہ جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ جو جائے گا تحریک انصاف اس کے ساتھ ہو گی۔ محمود اچکزئی اور راجہ ناصر والا تجربہ فیل ہو چکا، اسلیے اسوقت فضل الرحمان انصافیوں کے لیے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہے۔
فضل الرحمان پہلے تحریک انصاف کو سبز باغ دیکھا کر خیبر پختونخواہ کی وزارت اعلی اور مجموعہ اپوزیشن لیڈر کی کرسیاں لے گا۔ اس کے بعد نورا کشتی کا اور دور چلے گا اور حکومتی مدت سکون سے گزار لے گا۔ پھر نہ بانس رہے گا نہ بانسری اور مشرف کے صدارتی ووٹ اور چھبیسویں آئینی ترمیم کی طرح آخری لمحے فضل الرحمان پلسیٹا مار کر پیا گھر سدھار جائے گا۔ فضل الرحمان کے پاس تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ ہوں گے لیکن ہماری جماعت کے پاس صرف پچھتاوا اور رونا رہہ جائے گا۔
اب بھی کہتی ہوں مومن کی نشانی ہے کہ وہ ایک بل سے دو دفعہ ڈسا نہیں جاتا، اسلیے مولانا پر اعتبار کرنے کی غلطی نہ کی جائے۔۔
آدھا نہیں پورا سوچیئے
فضلو شیطان نے کشمیر کمیٹی کا چیرمین بن کر پاکستانیوں کا ٹیکس کا پیسہ کھایا اور بھاعت کو فائدہ پہنچایا جسے علی گیلانی بھانپ گئے تھے
#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر#فضلو_عبدللہ_بن_ابی
بلیک میلنگ اور مفاد پرستی کی سیاست کا وقت اب ختم ہونے کو ہے۔
عوام اب ان کھوکھلے نعروں اور ڈرامے بازیوں کے دھوکے میں بالکل نہیں آئیں گے۔
#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر#فضلو_عبدللہ_بن_ابی
The strength of Pakistan has always been its unity, and every citizen expects leaders to contribute to stability instead of division. #فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر#فضلو_عبدللہ_بن_ابی
حصہ اول
فضل الرحمان فیملی کا ہوس اقتدار
1970 کے انتخابات کے بعد سے شروع ہونے والی لالچ اور مکاری کی داستان
#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر#فضلو_عبدللہ_بن_ابی
‼️ کیسے مفتی محمود صرف چھ سیٹوں کے بل بوتے پر صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے اور بلوچستان میں متعدد وزراء سمیت وہ سینئر وزیر کا عہدہ بھی لے گئے ۔
‼️ کیسے 2002 میں *پورا صوبہ اکرم درانی کی داڑھی بڑھنے کی شرط کی تکمیل کا انتظار کرتا رہا مگر فضل الرحمان نے کسی متبادل امیدوار کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ۔*
‼️ کیسے *فضل الرحمان نے جب ایک الیکشن میں مولانا حسن جان کو سینئر سیاستدان خان عبدالولی خان کے خلاف چارسدہ میں امیدوار کے طور پر زبردستی کھڑا کردیا تو بعد میں پتہ چلا کہ اس انتخابی مہم کے لیے افغانستان کے سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی نے لاکھوں روپے فراہم کئے تاکہ ولی خان کو ہرایا جاسکے ۔*
سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی اور ان کی پارٹی کی سیاسی جد وجہد اور اہداف اصولوں اور عوام کی مینڈیٹ اور خدمت کے نظریہ پر قائم ہے حالانکہ تاریخی حقائق اس دعوے کے بلکل برعکس ہیں ۔
*اس پارٹی نے مفتی محمود کے دور سیاست سے پارلیمانی بارگیننگ اور بلیک میلنگ کا راستہ اختیار کئے رکھا* جس پر ان کے جانشین فضل الرحمان اور ان کے بھائیوں کی شکل میں تاحال عمل پیرا ہیں ۔مثال کے طور *1970 کے انتخابات* میں صوبہ سرحد اسمبلی کے جو نتائج برآمد ہوئے اس کے مطابق نیشنل عوامی پارٹی نے 13 جنرل سیٹیں حاصل کیں جبکہ دوسرے نمبر پر مسلم لیگ قیوم خان گروپ آیا جس نے 10 سیٹیں حاصل کیں ۔
*مفتی محمود کے زیر قیادت جے یو آئی صرف 6 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ۔*
43 ارکان اسمبلی پر مشتمل ایوان میں کوئی بھی پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی ۔ اکثریتی پارٹی کے سربراہ خان عبدالولی خان نے جب اس سلسلے میں مفتی محمود سے مخلوط حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات کیے تو *مفتی محمود نے خود سے دگنی سیٹیں حاصل کرنے والی نیپ سے وزارت اعلیٰ کا عہدہ مانگا اور یہ شرط بھی لگائی کہ وزیر اعلیٰ وہ خود ہوں گے حالانکہ وہ اس الیکشن میں قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوگئے تھے ۔*
ساتھ میں یہ شرط بھی لگائی کہ نیپ بلوچستان میں عطاء اللہ مینگل کی قیادت میں بننے والی صوبائی حکومت میں بھی اس کے باوجود برابر کی حصہ دار ہوگی کہ وہاں نیپ کو اسمبلی میں اکثریت حاصل تھی ۔
*یوں مفتی محمود 6 سیٹوں کے بل بوتے پر صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے اور بلوچستان میں متعدد وزراء سمیت وہ سینئر وزیر کا عہدہ بھی لے گئے ۔*
فضل الرحمان نے 1980 کے بعد والد کے انتقال پر پارٹی کی قیادت سنبھالی تو وہ ہر دور میں نہ صرف اقتدار کی حصول پر توجہ مرکوز کرتے رہے بلکہ انہوں نے اپنے *خاندان اور رشتے داروں کو بھی باقاعدہ ایک پاور گینگ میں تبدیل کرکے رکھ دیا ۔*
*
80 کی دھائی* میں جب ایم آر ڈی کی تحریک شروع ہوئی تو پیپلز پارٹی، نیپ اور متعدد دیگر بڑی پارٹیوں کے ہوتے ہوئے بھی *ایک موقع پر فضل الرحمان نے یہ دھمکی دے کر اس اتحاد کی سربراہی حاصل کی کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ ایم آر ڈی چھوڑ دیں گے ۔*
اس دوران یہ خبریں زیر گردش رہیں کہ وہ بعض عرب ممالک سے ایم آر ڈی اور جے یو آئی کے سربراہ کے طور پر فنڈز لیتے رہے ۔لاہور میں ایم آر ڈی کے ایک سربراہ اجلاس کے دوران اس معاملے پر ان کے اور بیگم نصرت بھٹو، نوابزادہ نصر اللہ خان کے درمیان باقاعدہ جھڑپ ہوئی جس کے ردعمل میں *فضل الرحمان نے موقف اختیار کیا کہ ان کو لیبیا اور بعض دیگر ممالک سے اس لیے کچھ امدادی رقوم ملی ہیں کہ بقول ان کے وہ مدارس کے ایک کنسورشیم " وفاق المدارس العربیہ" کے صدر ہیں ۔*
تاہم بعد میں بھی ان پر مختلف ممالک سے مختلف طریقوں سے فنڈز لینے کے الزامات لگتے رہے ہیں ۔
فضل الرحمان کے ہوس اقتدار کی ماضی قریب میں ایک مثال ایم ایم اے کے قیام اور 2002 کے الیکشن، صوبہ سرحد میں حکومت کی تشکیل کے واقعات کی شکل میں ملتی ہے ۔
مولانا فضل الرحمان نے نہ صرف یہ کہ جماعت اسلامی سمیت متعدد دیگر مذہبی جماعتوں کے ہوتے ہوئے *65 فی صد ٹکٹ اپنی پارٹی کو جاری کیے بلکہ وہ انتخابی نشان " کتاب" کو کھلے عام الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے " قرآن مجید" قرار دیتے رہے* تاکہ اس طرح عوام سے ووٹ لئے جائیں ۔
اس پر دیگر پارٹیوں نے شکایتیں بھی کیں مگر مولانا ڈٹے رہے ۔ اسی الیکشن کے دوران انہوں نے نہ صرف افغانستان کے طالبان کے نام پر ووٹ لئے اور ان کے طرز پر شریعت کے نفاذ کے دعوے کرتے ہوئے مہم چلائی بھی اس قسم کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں کہ افغان طالبان نے ان کی الیکشن کمپین میں فنڈنگ بھی کی تھی ۔
ایم ایم اے کی جیت کے بعد وزارت اعلیٰ کا مرحلہ سر پر آیا تو *فضل الرحمان نے کسی عالم دین کی بجائے
بلوچستان :
سوراب اور مستونگ میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے مشترکہ آپریشنز میں 10 دہشت گرد جہنم واصل (سوراب 7، مستونگ 3)، جبکہ 2 خودکش خواتین اور ایک سہولت کار گرفتار ہوئے۔ اسلحہ، گولہ بارود اور IEDs برآمد
🚨 FACT CHECK | FALSE & MISLEADING CLAIM
A Europe-based Indian propaganda account is falsely portraying an old BLA propaganda video as footage of a recent attack on the Pakistan Coast Guard.
Fact:
This is not a new incident. The video being circulated is old footage from April 2026 that is being deliberately recycled and shared out of context to mislead audiences & create the impression of a fresh attack.
Don't fall for recycled terrorist propaganda.
فضلو کے مدارس کی وجہ سے خیبر پختون خواہ میں لواطت اسمگلنگ اور دیگر جرائم میں اضافہ ہوا ہے ۔دوسری جانب پی ٹ�� آئی کی کرپشن کی وجہ سے صوبے میں ترقیاتی کام کہیں نظر نہیں ��تے ان دونوں نے کے پی کے کا ہر لحاظ سے بیڑا غرق کر دیا ہے
#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر
#فضلو_عبدللہ_بن_ابی
ایک طرف فضل الرحمن کی پیڈ ٹیم ہے اور دوسری طرف عام پاکستانی ہیں جنھوں نے فضل الرحمن کو بجا کر رکھ دیا ہے آج سے پہلے پاکستانیوں نے اس قدر شدید احت��اج کسی کے خلاف نہیں کیا، بےشک جب فضل الرحمن جیسے عوام کے دل سے اتر جائیں تو عوام یونہی جوتے مارتی ہے
#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر
#فضلو_عبدللہ_بن_ابی