چوہدری نعیم ابراہیم پی ٹی آئی امیدوار کو بار بار گرفتار کیا جا رہا ہے عدالتیں ضمانت دے رہی ہیں لیکن نعیم ابراہیم کو پھر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کیا انصاف ہے
مجھے سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فیصل آباد میں خفیہ ایجنسی کے دفاتر پر حملے کی 9 مئی کو درج کی گئی ایف آئی آر میں چیئرمین عمران خان کو باضابطہ طور پر ملوث کیا گیا ہے۔ حکام جلد ہی آرمی ایکٹ 1952 کے تحت قائم ملٹری ٹریبونل کے سامنے مقدمے کی سماعت کے لیے ان کی تحویل کو فوجی حکام کو منتقل کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ خان صاحب کو 9 مئی کو فیصل آباد میں درج مزید تین مقدمات میں بھی ملوث کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے خصوص�� طور پر فیصل آباد کا دورہ کیا اور انہیں ایس ایس پی انویسٹی گیشن فیصل آباد نے کیسز میں ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ دی۔
@sherafzalmarwat چلیں ایک بار تو آپ نے پیچھا کرنے والے پر اپنا دل ہلکا کر لیا اور پیچھے کرنے والے کا پروگرام تو پورے کا پورا وڑ گیا۔ امید ہے آئندہ ایسے پیچھا نہیں کرے گا۔
لیکن اب آپ زرا محتاط رہئے گا کیونکہ یہ پیچھا کرنے والے اب آپکو مشکل میں ڈالنے کی کوشش کریں گے۔
@sherafzalmarwat جس طرح کی گالیاں وہ موٹر سائیکل سوار دے رہا تھا، اسکت بعد آپکا رد عمل آنا جائز تھا۔
آج کل عمران کے ہر وکیل پر سازشیوں اور دشمنوں کی نظریں ہیں۔
https://t.co/bYIopZs29Y
سپریم کورٹ کا واقعہ:
ایک موٹر سائیکل سوار میری گاڑی کا پیچھا کر رہا تھا، اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں، میرے جونیئر وکیل نے اس سے کہا کہ ہمارا پیچھا نہ کریں۔ اس نے میرے محافظوں کے ساتھ بدتمیزی کی۔ میں سپریم کورٹ کے لیے روانہ ہوا، جب میں سپریم کورٹ میں وکیل پارکنگ میں داخل ہوا تو میں نے اپنی گاڑی پولیس کے داخلی دروازے کے سامنے روک دی، وہی آدمی اپنی موٹر سائیکل میری ��اڑی کے پیچھے کھڑا کر کے آیا اور ہم سب کو گالیاں دینے لگا۔ پولیس اہلکاروں نے بھی اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے حملہ کیا اور مجھ اور میرے جونیئر وکیل کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور یہ واقعہ ویڈیو میں ریکارڈ کرلیا گیا۔ تمام سرکاری افسران جن کو پی ٹی آئی کے وکلاء کا پیچھا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ جان لیں کہ کسی شہری کا پیچھا کرنا اور گالی گلوچ کرنا ایک جرم ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ یکطرفہ بیانات سے پرہیز کریں کیونکہ میں چوبیس گھنٹے قابل رسائی ہوں۔ .
جناب محترم یہ خواتین بے جرم ۔۔۔ پانچ مہینوں سے زیادہ سے قید ہیں ۔۔۔نہ ان کے لیے عدالتیں دس منٹ میں لگی نہ ان کے لیے ججز کوٹ روم میں وقت سے پہلے پہنچے نہ ان کے لیے عدالتی عملہ پہلے سے تیار کھڑا ملا ۔۔۔ ہم فخر کرتے ہیں ہم مملکت شریفان میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہم صرف لگان دیتے ہیں
#مفرور_اعظم