4. Security or Centralisation of Power?
If emergency measures are intended to restore peace, the public deserves to know how they will protect citizens, reduce terrorism and revive local businesses. Will these measures deliver lasting security, or will they primarily shift administrative authority? These questions require clear answers.
Address by JUI Chief Maulana Fazlur Rehman at the Mufti Mahmood Conference in Multan.
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ #نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا #معدنیات_حساب_دو #ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
پاکستان پیپلز پارٹی جو کہتی ہے کہ جمہوریت میری شناخت ہے، جس جماعت کی شناخت جمہوریت ہے اسی نے سن 1970 کے الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا،اسی نے بنگال کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا،اسی نے بٹے ہوئے پاکستان کے اندر بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دیا اور صوبہ سرحد میں راتوں رات گورنر کو تبدیل کر دیا اور اس کے نتیجے میں مولانا مفتی محمود تھے جس کے ضمیر نے گوارا نہ کیا کہ ایک لمحے کے لیے بھی مزید حکومت جاری رکھی جائے اور اپنی وزارت کے منصب سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا،جب بھی کسی صوبے میں گورنر راج لگا ہے تو یہ جمہوریت کی علم بردار پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے نامدار سربراہ آصف زرداری ہی کی قسمت میں آیا۔
آئین چاروں صوبوں کی خودمختاری کی بات کرتا ہے،فیڈریشن کے تحت تمام صوبے اپنے وسائل پر اختیار رکھتے ہیں،اپنی قانون سازی پر اختیار رکھتے ہیں،آئین صوبوں کے عوام کو اختیار دیتا ہے اور ہر صوبے کے وسائل پر وہاں کے عوام وہاں کے بچوں کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن جب بھی دیکھا صوبوں کے اختیار پر شب خون مارا گیا ہے
جنرل مشرف سے لیکر موجودہ آرمی چیف تک تمام ادوار میں حالات خراب ہوئے ہیں، دہشتگردی میں بھی اضافہ ہوا ہے،2010 سے بار بار آپریشنز کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو یہ ان کی ناکامی ہے،ان کی حکمت عملی،سوچ اور فلسفے کی ناکامی ہے،آج ہمیں کہا جارہا ہے کہ ہماری آپريشنز کی حمایت کریں۔
ہم جب آزادی مارچ کر رہے تھے اس وقت ملک کے ہر کونے سے قافلے آرہے تھے لیکن دہشتگردی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا،بی ایل اے،ٹی ٹی پی اور کچے کے ڈاکوؤں کا مسئلہ نہیں تھا،حالات معمول پر تھے،مگر آج ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی گھوم پھر نہیں سکتے،رات کو تھانے پولیس سے خالی ہو جاتے ہیں۔
اس پوری صورتحال میں جہاں دہشتگردی اور دہشتگردوں کو زیر بحث لائیں گے وہیں آپ کی ناکامیوں کا ذکر بھی ہوگا۔
کیا ملک کے لئے صرف ادارے جنگ لڑ رہے ہیں ؟ کیا ہم ملک کے لئے اور آئین کے لئے قربانیاں نہیں دے رہے؟ پچھلے سالوں میں 250 سے زائد علماء اور کارکنان دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں،ایک جلسہ میں بیک وقت 90 سے زائد شہداء کی لاشیں اٹھائی ہیں،لیکن ہم اسلحہ نہیں اٹھا رہے،ہم دلیل کے ساتھ سلیقے سے اپنے سیاسی کردار کی بات کرتے ہیں اور اسکی بھی ہمیں سزا دی جارہی ہے۔
صرف اختلاف رائے کے نتیجے میں ہم نے یہ قربانیاں دی ہیں۔
جنرل مشرف سے لے کر موجودہ آرمی چیف تک اگر ملکی حالات خراب ہوۓ ہیں، دہشتگردی بڑھی ہے، یا دہشتگردی میں ناکامی ہوئی ہے تو ان ہی کی وجہ سے ہوئی ہے، ان کی ناکام پالیسیوں اور حکمت عملی کیوجہ سے ہوئی ہے
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان صاحب
آج کا ہیش ٹیگ
#پاسبان_جمہوریت_مولانا
جنرل مشرف سے لے کر موجودہ آرمی چیف تک اگر ملکی حالات خراب ہوۓ ہیں، دہشتگردی بڑھی ہے، یا دہشتگردی میں ناکامی ہوئی ہے تو ان ہی کی وجہ سے ہوئی ہے، ان کی ناکام پالیسیوں اور حکمت عملی کیوجہ سے ہوئی ہے
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان صاحب
آج کا ہیش ٹیگ
#پاسبان_جمہوریت_مولانا
جمہوریت صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ آئین، پارلیمان اور عوامی حقِ حکمرانی کے تحفظ کا نام ہے۔
مولانا فضل الرحمان اسی اصولی مؤقف کی بات کرتے ہیں۔
#پاسبان_جمہوریت_مولانا