ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
اس دشت سے بہتر ہے نہ دِلّی نہ بخارا
جس سمت میں چاہے صفَتِ سیلِ رواں چل
وادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا
#PMSpeech#ImranKhan#ImranKhanPTI
اگر بیوی کا خیال کہ میرا شوہر ٹھیک کر لے گا اور شوہر کا خیال کہ اکیلا میں سروس پسٹل اور وردی سے ہجوم قابو کر لوں گا تو دونوں پاگل ہیں۔
باقی توجیہات دینے والے تو وقتی سیاسی زنا کی حرام کاری سے پیدا ہونے والے ولدالحرام ہیں اور ولدالحرام سے ہمدردی نہ رکھنے والا بھی شقی القلب ہے۔
کافی سوچنے کے بعد یہ پوسٹ کر رہی ہوں۔ سوچا تھا نہیں لکھوں گی، لیکن سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس ملک کی حقیقت کیا ہے، فوج کی، حکومت کی، اور بلوچ دہشت گردوں کی، جنہیں اب پی ٹی آئی کے سیاست دان اور فالوورز کشمیری مجاہدین سے زیادہ عظیم سمجھتے ہیں۔
وسیم احمد، ایئرپورٹ سکیورٹی کا ڈپٹی ڈائریکٹر جنھیں بی ایل اے کے دہشت گردوں نے ایک ماہ پہلے اغوا کر کے کل قتل کر دیا، میرے جان پہچان والے تھے۔ جب انھیں اغوا کیا تھا تو میں نے اپنے اصول توڑ کے ٹوئٹر پر موجود بی ایل اے کے دہشت گرد کو میسج کر کے گزارش کی کہ وسیم احمد کو چھوڑ دیا جائے۔ ایک تو ان کی صرف بیٹیاں ہیں اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس میں کام کرتے تھے جن کا کام ایئرپورٹ پر مسافروں اور سامان کی چیکنگ کرنا ہوتی ہے۔ ان کا فوج سے کوئی لینا دینا نہیں اور بلوچستان میں فوج کے مظالم اور دہشت گردی کے ساتھ بھی کوئی لینا دینا نہیں۔ اور اس کے علاوہ کچھ ہی دنوں میں یہ اسی نوکری سے استعفیٰ دینے والے تھے۔ اگر میرا بھائی بھی ہوتا تو میں یہ کوشش نہیں کرتی۔ لیکن یہ بیچارہ بے قصور تھا۔
بی ایل اے کے دہشت گردوں نے انہیں اغوا کر کے ان کے خاندان سے ان کی رہائی کے عوض بیس کروڑ مانگے۔ اور پچھلے ایک ماہ ان کو مسلسل ان کی ویڈیوز بھیجیں جن میں وہ ان پر بری طرح سے تشدد کرتے تھے اور ان کی چیخیں ان کی بیٹیوں اور بیوی کو سناتے تھے، بالکل ویسے ہی جیسے کچے کے ڈاکو کرتے ہیں۔ اس ملک میں جس کے ہاتھ میں بھی بندوق ہے، وہ لٹیرا اور مجرم ہے، کوئی آزادی کا جنگجو نہیں، کوئی مسیحا نہیں، کوئی رکھوالا نہیں۔
ان کے خاندان نے جب ایئرپورٹ سیکیورٹی سے رابطہ کیا تو انھوں نے بیس کروڑ دینے سے منع کیا اور کہا ہم اسے آپریشن کے ذریعے چھڑوائیں گے اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ دہشت گردوں کے بھیجے ہوئے پیغامات اور ویڈیوز کا ذکر کسی سے مت کریں۔
جب ان کو اغوا کیا گیا تب یہ چھٹی پر گھر جا رہے تھے۔ راستے میں اپنی بیٹیوں کے لیے چیری خریدنے کے لیے رکے تھے۔ یہی جس راستے سے گئے تھے اس کا مشورہ ان کے باورچی نے دیا تھا ورنہ یہ ہمیشہ دوسرے راستے سے جاتے تھے۔ بلوچستان میں سبھی نہیں تو بیشتر مقامی لوگ بی ایل اے اور باقی دہشت گردوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہ بھی فوج کا بہت بڑا جرم اور ناکامی ہے۔
حکومت اور فوج کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ آرام سے ان کو پیسے دے کے بچا سکتے تھے لیکن نہیں بچایا، کوشش تک نہیں کی۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر بچے اور بچیوں کو ٹریس کرتے ہیں اور اغوا کرتے ہیں لیکن دہشت گردوں کو اتنی ٹیکنیکل انٹیلیجنس سے ٹریس نہیں کر پاتے ہیں۔ پاکستانی فوج سے بھی زیادہ نالائق فوج شاید ہی کہیں ہو۔ اس فوج کا ایک ہی اصول ہے کہ کرگل ہو یا بلوچستان ہو یا خیبر پختونخوا، نہ کسی کی ذمہ داری لینی ہے نہ کسی کو بچانا ہے۔ اگر مریم نواز کا رشتہ دار ہوتا یا بیٹا ہوتا، تو عاصم منیر 20 کروڑ کیا، 200 کروڑ بھی دیتا، اور ایس ایس جی کی ایک بٹالین کو آپریشن کے لیے بھیجتا۔
ان کے خاندان نے اختر مینگل سے بھی رابطہ کیا تھا لیکن اس نے بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ وسیم احمد بیچارہ بے قصور اور بے گناہ تھا جس کی گواہ میں خود ہوں اور اب میں یہاں اس پر زیادہ نہیں لکھ سکتی لیکن اس ملک میں ہر کوئی سسٹم بری طرح سے ناکام ہو چکا ہے۔ اور بہت سارے نادانوں کو بلوچستان میں جاری خوبصورت دکھنے والی دہشت گردی کے اس روپ کی خبر نہیں۔ اللہ کرے آپ اور آپ کے عزیز، جو ان دہشت گردوں کے چیئر لیڈر بنے بیٹھے ہیں، کبھی آپ کا ان کے ساتھ سامنا نہ ہو۔
💥یہ لوگ اسٹیمپ پیپر لے لے کر عمران خان کے پاس جارہے ہیں۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان قید نہیں ہے،آپ نے کبھی کوئی ایسا قیدی دیکھا ہے جو دروازے کو اندر سے کونڈی لگا کر باہر کھڑے ہوئے لوگوں کو قید کر دے۔
راناثناء اللہ نے ایک بار کہا تھاکہ چھ مہینے میں آپکا پتہ چل جاتا ہے کہ جیل سیاستدان کو کھا گئی ہے یا سیاستدان جیل کو کہا گیا ہے۔
تو عمران خان جیل کو نگل گیا ہے اور اس نے ڈکار بھی نہیں مارا۔ 😂🔥
عمرام خان کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ انکے بیٹے ہیں وہ انکے گرفتاری پر بھی انکی بات نہیں مانیں گے۔آپکے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے سوائے اسکے کے آپ اسکے پیروں میں سر رکھ کر معافی مانگیں ۔اور یہ بات آخر میں گردنیں بچانے پر ختم ہو گی ۔
Are you aware that Sufiyan was one of the students who participated in the 2023 long march to Islamabad and was brutally beaten, arrested and tortured? As per BLA’s own spokesperson (info available on social media), Sufiyan joined BLA in 2024.
Dehumanization, alienation and uncalled for crackdowns/violence are the State’s standard response to peaceful Baloch voices who demand engagement/dialogue. The State itself has created the pathway. The sooner this is realised, the better.
Would also advise you to read the order sheets in WP 794/2022, Baloch Students Commission report submitted in IHC, list of students disappeared in 2022 alone and profiles of insurgents released by their proscribed organisation, so you can better understand how students were pushed against a wall in 2022 by the military and intelligence agencies which resulted in a rapid increase in recruitment for the BLA.
Let there be no confusion over this: the more the State targets innocent civilians in Balochistan, the more intense the insurgency gets.
There really isn’t all that much to “unpack” here provided you aren’t parroting the State narrative.
مسلمان ہونے کے ناتے میرا خون کسی افغانی کسی ایرانی کسی عربی کسی افریقی پر مقدم نہیں ہے۔ انسانیت کے ناتے میرا خون دنیا کے ہر انسان کے برابر مقدم ہے۔ خواہ اسکا کوئی بھی مذہب ہو کوئی بھی عقیدہ ہو۔
1/ The UAE exercises extraordinary control over Pakistan's economy through the strategic management of its labour market. Not only does the UAE host approximately 1.5 million Pakistani workers (making it the second-largest destination after Saudi Arabia), but these migrants represent Pakistan's economic lifeline, sending back over $7 billion in 2024, with $4.1 billion in March 2025 alone.
تیل کی ڈاؤن سٹریم کمپنیاں جو کنزیومرز کو ڈائریکٹ پٹرول بیچتی ہیں، ان کا پرافٹ مارجن فی لٹر پٹرول پر ایک سے ڈیڑھ فیصد ہوتا ہے۔ اگر اس میں سے یہ دو روپے نکال دیں تو سمجھ جائیں کہ بزنس نقصان میں چلنا شروع ہوگیا۔
لیکن ایک منٹ۔
اے پی ایل کو تیل کی سپلائی کون کرتا ہے؟ فوجی فیولز
فوجی فیولز کے پاس پٹرول کہاں سے آتا ہے؟
سمگلنگ کے ذریعے ۔ ۔
اسی لئے اب ڈسکاؤنٹ بھی دے رہے ہیں ورنہ اگر ریفائنری سے پٹرول خریدا ہوتا تو ایک پیسہ بھی کم نہیں کرسکتے تھے۔
یہ ڈسکاؤنٹ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ ایرانی تیل کی سمگلنگ میں کون سا مافیا ملوث ہے!!!
عامر مغل صاحب اب بھی اگر جی ایچ کیو، آپ کو 8 فروری کی رات ان باوردی فوجیوں کے ہاتھوں لوٹی ہوئی سیٹ واپس نہیں کرتا تو آپ کو ماننا ہوگا یہ جرنیل اپنی طاقت کے لئے کبھی بارڈروں پر فوجی مرواتے ہیں، کبھی 8 فروری کو ڈاکہ مرواتے ہیں اور کبھی 26 نومبر کو عام شہریوں پر گولیاں مرواتے ہیں، ان فوجیوں کو شہید کہنا، اسلام کی توہین ہے، آپ نے شہید کی تعریف پڑھنی ہے تو آپ کو یہ تحریر پڑھنی ہوگی،
عنوان: اسلامی شہید، قومی شہید یا جرنیلی شہید:
ہزاروں فٹ آسمان کی بلندیوں پر مسافر خوش گپیوں میں مصروف تھے، کچھ سامنے والی سیٹ کے پیچھے لگی اسکرین پر فلمز دیکھنے میں تو کچھ کانوں پر ہیڈ فون لگائے آنکھیں بند کر کے موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے، کچھ گہری نیند سو رہے تھے۔ اچانک کاک پٹ سے پائلٹ کی آواز آئی، سب مسافر حیرانگی سے متوجہ ہوئے کیونکہ لینڈنگ میں ابھی وقت تھا۔ اعلان شروع ہوا لاس اینجلس لینڈنگ کرنے میں 45 منٹ باقی ہیں، ہماری اس فلائٹ میں ایک شہید فوجی کا جسد خاکی موجود ہے، آپ سے درخواست ہے کہ لینڈنگ کے بعد تھوڑا انتظار فرمائیے گا، جب شہید کی میت اتار لی جائے تو پھر اپنی سیٹ بیلٹس کھولیے گا، تعاون کرنے کا شکریہ،
یہ اعلان ہوتے ہی پورے جہاز کا ماحول بدل گیا، خوش گپیوں میں مصروف مسافر خاموش ہو گئے۔سونے والے اٹھ کر بیٹھ گئے، موویز دیکھنے والوں نے اپنی اسکرینز بند کردیں، موسیقی سننے والوں نے ہیڈ فون ہٹا دیے، اور پورے جہاز میں خاموشی چھا گئی۔ سب مسافر اداس لگ رہے تھے کہ اسی جہاز میں، جس میں وہ سفر کر رہے ہیں، ایک امریکی فوجی اپنی قوم کی حفاظت اور عظمت کے لیے دنیا کے کسی کونے میں قربان ہوا اور اب اپنے خاندان کے پاس میت کی صورت میں لے جایا جا رہا ہے۔ مختلف قومیتوں کے امریکی شہری، ہسپانوی، سیاہ فارم، ایشیائی اور گوری رنگت، سب اس فوجی کی قربانی پر انتہائی افسردہ تھے۔ پھر پائلٹ نے اعلان کیا: "تیار ہو جائیں، ہم لاس اینجلس پہنچنے والے ہیں۔"
جہاز جیسے ہی رن وے پر لینڈ کیا تو دونوں اطراف سے جہاز پر پانی کے فواروں کے ذریعے روایتی انداز سے شہید کو خراج تحسین پیش کیا گیا، جیسے ہی ونڈوز پر پانی کی برسات ہوئی اندر بیٹھے مسافروں کی آنکھوں سے آنسو بے اختیار سمندر کی طرح بہنے شروع ہوگئے، ساتھ ہی سارے مسافر فوجیوں کی عظمت بیان کرنے کے لئے نغمے ہم آواز ہو کر پڑھنے لگے، جہاز رن وے پر روکا، عظیم الشان فوجی لباس میں ملبوس چاق و چوبند دستوں نے امریکی جھنڈے میں لپٹے شہید فوجی کے تابوت کو سلامی دی اور لے کر روانہ ہوگئے،
دنیا کی ہر قوم ان کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کو شہید کا لقب یعنی Martyred سے تعبیر کرتی ہے، آپ پاکستان میں پیدا ہوئے اور پاکستان میں پچانوے فیصد مسلمان پیدا ہوگئے، اگر آپ پچانوے فیصد مسلمان نہ بھی پیدا ہوتے پھر بھی آپ کے ملک میں جو فوجی اپنی عوام کی حفاظت کرتے ہوئے مرتا اسے 'قومی شہید' کا درجہ دیا جاتا،
اسلامی شہید کا حق دار وہ جو خالص اللہ عزوجل کی خاطر اور اللہ کے پسند کئے ہوئے مذہب اسلام کی خاطر جان کی قربانی دیتا ہے، اس درجے پر فائز ہو جاتا ہے، ایسا شہید جو زندہ ہے، اسے مردہ کہنے پر بھی ممانعت ہے، ایسا شہید جو اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے کسی بھی لالچ اور نوکری کی پرواہ کئے بغیر خالص اللہ کی خوشنودی کے لئے شہید ہو، چاہے میدان جنگ میں یا ظلم و انصاف کے خلاف جنگ میں،
پاکستانی فوجی 1971 میں اپنے مسلمان بھائیوں کا قتل کرتے پائے گئے، 26 نومبر 2024 کو اسلام آباد میں انصاف مانگتے مسلمان بھائیوں کو زبح کرتے پائے گئے، لاشیں چوری کرتے پائے گئے، لہذا پاکستانی فوجی نہ تو 'قومی شہید' اور نہ ہی 'اسلامی شہید' کہلانے کے حقدار ہیں،
پاکستانی فوجی، سوائے جرنیلوں کی طاقت کو دوام دینے کے علاوہ کسی بھی درجے پر پورا نہیں اترتے، دنیا کے ہر فوجی کی ڈیوٹی کا حصہ ہے سامنے والے کو گولی مارنا اور سامنے سے آتی ہوئی گولی سے بچنا، اگر گولی سے نہ بچ پائے تو آن لائن آف ڈیوٹی فوجی مر سکتا ہے،
پاکستانی فوج کے خود ساختہ خدا آرمی چیف عاصم منیر بخوبی پاکستانی فوجیوں کی لاشوں پر سیاست کرتے نظر آئے ہیں، جب جب مشکل پڑی دوبارہ ایسا کرے گے جیسے پانچ نومبر کو فائنل کال کا علان ہوا، 5 نومبر سے لے کر 26 نومبر تک چیف نے فوجیوں کے ہر جنازے میں شرکت کی اور کندھا دیا، 26 نومبر کی شام نہتے شہریوں پر گولیاں چلائی، فائنل کال ختم، چیف نے بھی جنازوں کو کندھا دینا چھوڑ دیا، حالانکہ بعد میں بھی کئی پاکستانی فوجی مرے، ان مرنے والے فوجیوں کو اب سے 'جرنیلی شہید' کہا جا سکتا ہے،
ہاں ہم جائیں گے۔ بار بار جائیں گے۔ تم سناو بنگال جا سکتے ہو؟ سلہٹ چٹا گانگ جا سکتے ہو؟ وہ بھی چھوڑو آواران خضدار جا سکتے ہو؟ وہ بھی چھوڑو تیراہ جاسکتے ہو؟ چلے بھی جاو تو واپس کھوتوں پر آتے ہو۔
نوٹ ؛ یہ مہم ISPR کی ہدایت پر چل رہی ہے۔
https://t.co/4y8enl2Zao
کھسرے کو سارا دن کوئی گاہک نہ ملے تو شام کو ڈاکٹر کے پاس ٹیکہ لگوانے چلا جاتا ہے کہ کسی طرح کوئی تکلیف تو پہنچے ۔ ۔ ۔
جب عمران خان سے باقی تمام مطالبات منوانے میں ناکام ہوگئے تو نیا مطالبہ یہ لے آئے کہ تمہاری مہربانی، بشری بی بی کو طلاق ہی دے دو ۔ ۔ ۔