حامد میر سے جب یہ سوال کیا گیا کہ تم “قومی اثاثہ “ فیصل واڈا کو اپنے پروگرام میں اکیلے بٹھا کر کیوں انٹرویو کرتے ہو ، تو اس نے کس ڈھٹائی سے جواب دیا کہ ایسے ہی عمران خان بھی ایک قومی اثاثہ تھا اور ہم اس ایک اکیلے ایم این اے کو بٹھا کر پروگرام میں سوال کیا کرتےتھے
اپنے اس جواب پروہ تنہائی میں ضرور شرمسارہوا ہو گا ۔ کیا منور حسن ، قاضی حسین احمد ، سراج الحق ، اختر مینگل ، محمود اچکزئی ، ولی خان ساجد میر ، مولانا سمیع الحق ، رسول پلیجو وغیرہ یہ سب بھی قومی اثاثہ تھے۔ یہ لیڈر بھی تو کبھی ایک ایم این اے والی یا کبھی بغیر کسی ایم این اے کی پارٹی کے سربراہ تھےاور آپ انہیں بھی پروگرامُ میں اکیلے میں بلاتے تھے ۔
کیا یہ سب فیصل واڈا کی جیسے تھے جس شخص کو پاکستان میں دس لوگ بھی نہ جانیں اگر آپ کا چینل اسے نہ دکھائے ۔ آپ نے اپنے دفاع میں عمران خان کا قد چھوٹا کرنے کی جو کوشش کی ہے ، لگتا ہے آپ جرنلزم تو چھوڑ انصاف کے بنیادی معیارات بھی بھول گئے ہیں ۔
عمران خان سیاست میں آنے سے پہلے بھی اس قوم کا ایک اثاثہ تھا اور آج بھی ہے اورآپ جیسے نوکری پیشہ شکست خوردہ صحافی اسے پاکستان کی تاریخ سے اب نہیں کھرچ سکتے ۔
کاش آپ جواب میں یہ سچ بول لیتے کہ آپ فیصل واڈا کو اپنے شو میں کیوں بلاتے ہو ، کاش ایسا ہو جاتا
آپ نے مجھے پیڈ ٹرول کہا، میں کلمہ پڑھتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی شخص سے ٹویٹ کرنے کا ایک روپیہ بھی لیا ہو آپ گھٹیا جھوٹ بول رہی ہیں، پیڈ ٹویٹ تو درکنار اگر ٹویٹ میرے نظریے سے منافی ہے تو کسی کا باپ بھی مجھ سے وہ نہیں کروا سکتا یہ پیڈ ویڈ آپ کے ہاں چلتا ہے
آپ نے دوسرا جھوٹ یہ بولا کہ مطیع اللہ جان نے گالیوں سے بھری ٹویٹ کو کوٹ کیا میری اس ٹویٹ میں گالی نکال کر دکھا دیں
محترمہ آپ کو برا لگے یا اچھا لیکن یہ سچ ہے کہ آپ پر جب بھی تنقید ہوتی ہے آپ عورت کارڈ کھیلتی ہیں، آپ نے جتنی نوکری کی اس میں مذہب کارڈ بھی کھیلا، آپ نے ساری زندگی بلیک میلنگ کر کے گزاری
آپ کو جیو نیوز میں حامد میر نے عزت دی آپ نے اس کے خلاف بھی گروپ بندی کی یہ الگ بات ہے کہ تمہاری بلیک میلنگ اور عورت کارڈ کے ڈر سے اب یہ سب خاموش ہیں بلکہ آپ جب عورت کارڈ کھیلتی ہیں اور مگرمچھ کے آنسو بہاتی ہیں تو یہ آپ کیساتھ آنسو بہانے بھی آ جاتے ہیں
حکمران حضرت عمر بھی تھے اور فرعون بھی تھا لیکن دونوں کی حکمرانی میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ فرعون نہایت ہی ظالم اور بے رحم تھا اور بد قسمتی سے اسکے چیلے ہمارے ملک میں موجود ہیں۔ یہ ہے فرعونیت کی ایک اور مثال۔ بزرگ شام تک کی مہلت مانگ رہے ہیں لیکن ان خاتون کو نا بزرگ کا احترام ہے نا کوئی انسانیت۔ ایسے حکم چلا رہی ہیں جیسے انکے ابو کا ملک ہو۔
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
یہ ہے وہ درندہ توقیر نزیر جس نے آج رائل آرچڈ کالونی میں مزدور بچے کو جان بوجھ کے گاڑی کے نیچے روند کے قتل کیا ہے۔
آج اگر اس کو سزا نہیں ملی تو ہر دوسرا ظالم ایسے ہی غریب اور بےبس لوگوں کو روندتا رہے گا۔
میری پنجاب کی ماں سے اپیل ہے کہ اس فوری پھانسی دلوائی جائے۔۔
@MaryamNSharif@AzmaBokhariPMLN@CCD_Punjab
آج ڈان میں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق بورے والا کے چک 187/EB میں رہائیشیوں نے الزام لگایا ہے کہ سی سی ڈی اہلکاروں نے ایک مشکوک شخص بلال کو پکڑنے کے لیے چھاپہ مارا۔
مطلوب شخص تو نہ ملا مگر سادہ کپڑوں میں ملبوس سی سی ڈی کے اہلکار ایک سترہ سالہ لڑکی کو گھر سے اٹھا کے لے گئے
ون فائیو پہ کال کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ لوکل پولیس کو ریڈ کا کوئی علم نہیں، نہ انہیں لوپ میں لیا گیا ہے۔
بعد میں وہاڑی پولیس نے تصدیق کی بورے والا سی سی ڈی ٹیم نے بلال نامی ملزم کو پکڑنے کے لیے چھاپہ مارا ہے لیکن ان کا موقف ہے کہ لڑکی کو لے کر نہیں گئے
مقامی رہائشیوں کے مطابق ون فائیو پہ کال کرنے اور ایشو کے سوشل میڈیا پہ ہائی لائیٹ ہو جانے کے باعث سی سی ڈی والے چند گھنٹوں بعد لڑکی کو واپس چھوڑ گئے۔
سوال یہ ہے کہ یہ کیا اندھیر نگری ہے
خواتین تو مریم نواز کی ریڈ لائین ہیں، پھر یہ کیا تماشا ہو رہا ہے؟
ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں
ساحر لدھیانوی
تم معصوم ہو تم بے بس تھے ۔ تم اس درندوں کے معاشرے سے آزاد ہوئے ۔ ایک سور نے تم کو روند ڈالا ۔
سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ ہم سب کو یہ لگتا ہے کہ وہ سور اس سے پہلے ظلم ڈھانے والے کسی بھی سور کی طرح بچ جائے گا۔
تم اب اپنا مقدمہ خدا کے سامنے رکھنا ۔ وہی انصاف کرے گا ۔ ہم اس کے نائب نہیں بن سکے ۔ ہم تمہارے مجرم ہیں ۔
سانحہ ملتان کا معصوم ۔
ایک جانور کو بھی ایسی موت دینے سے پہلے انسان کئی بار سوچتا ہے، مگر ان درندوں نے اس معصوم غریب بچے کی کس بے رحمی سے جان لی!
وسیم عباس، عمر صرف 15 سال، مظفرگڑھ سے ملتان الیکٹریشن کا کام سیکھنے آیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کام میں تاخیر پر ٹھیکیداروں نے اس پر تشدد کیا، جس پر وہ بھاگ نکلا۔ دونوں ٹھیکیداروں نے گاڑی میں تعاقب کرکے اسے ٹکر ماری اور کچل ڈالا۔ معصوم بچے نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔
بہرحال، اس نظامِ انصاف سے مایوس ہو کر بھی ہم صرف یہی درخواست کر سکتے ہیں کہ ان ظالموں کو قانون کے مطابق ایسی سخت سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی کسی معصوم کے ساتھ ایسا ظلم کرنے کی جرأت نہ کرے۔
@rpo_multan@OfficialDPRPP@MohsinnaqviC42
دماغ سُن ہو گیا ہے، کچھ سمجھ نہیں آ رہا کیا لکھوں۔ ہم کیسے جانوروں میں گھرے ہیں۔ بچے سے کوئی غلطی ہوئی بھی تھی تو اس سفاکیت سے اسے موت کے گھاٹ اتار دینا.... ملتان میں ہونے والی اس بربریت میں صرف ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے حالانکہ گاڑی سے دو درندے اترتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ ایک بھی اب تک زندہ کیوں ہے؟ بچہ یتیم اور لاوارث بتایا جا رہا ہے۔ خون رائیگاں ہی جائے گا۔
گورنر راج کے اثرات: ایک نوجوان کے خوابوں کی دکان بھی ملبے کا ڈھیر بن گئی!
میڈیکل اسٹور گرایا گیا تو نوجوان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ شدید پریشان تھا، آب دیدہ آنکھوں کے ساتھ اپنی دکان کے بارے میں جواب دے رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ بغیر کسی نوٹس کے اس کی دکان گرا دی گئی۔
گورنر راج کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ شہریوں کے کاروبار اجاڑ دیے جائیں، لوگوں کو بے روزگار کر دیا جائے اور ان کی زندگی بھر کی محنت کو ملبے میں بدل دیا جائے۔ قانون پر عمل درآمد ضروری ہے، لیکن شہریوں کے حقوق اور قانونی تقاضوں کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
پنجاب میں شہریوں کو ایسے حالات کا سامنا کرتے طویل عرصہ گزر چکا ہے، اور اب خیبر پختونخوا میں بھی ایسی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
آخر ایک عام شہری کہاں جائے؟ اس نوجوان کے آنسو اور اس کی بے بسی کا جواب کون دے گا؟
گورنر راج ہو یا کوئی اور انتظامی نظام، شہریوں کے حقوق پامال کرنے کا لائسنس کسی کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔ ظلم اور ناانصافی کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے!
انڈین ہائیکورٹ کی پروسیڈنگ کی اس گیارہ منٹس کی ویڈیو کو پاکستان کی عدلیہ کے تمام ججز کو دیکھنا چاہئے اور تھوڑا بھی اپنے عہدوں کا آئین کا قانون کا پاس ہو تو شرم بھی کرنی چاہئے
ایک پولیس کے سب انسپکٹر کے ساتھ ایک گاؤں میں بدتمیزی ہوئی گاؤں کے چند لوگ پولیس اسٹیشن کے باہر اکٹھے ہوئے پولیس نے رات کے ایک بجے گاؤں میں گھروں پر ریڈ کیا جس پر گاؤں والوں نے ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی
مکالمہ ضرور سنیں۔ اور پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حالت زار دیکھیں
وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کیا شرمناک حرکت کی ہے۔ عمران خان کے بارے میں خود جیل کور کرنے والے بتاتے ہیں، جیل حکام بتاتے ہیں کہ کسی افسر کے کمرے میں منگل کے روز بشریٰ بی بی سے کبھی کبھی ملاقات ہوتی ہے اور وہاں جیل حکام موجود ہوتے ہیں۔
آپ جب یہ بات کر رہے ہیں کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں ہو رہی ہیں، اپوزیشن نے سوال کیا تو کہا کیا چارپائی لبرٹی پر رکھ دیں۔ ایوان میں کھڑے ہو کر۔
آپ کو خود احساس بھی ہے کہ آپ کیا بات کر رہے ہیں؟ کس قدر شرمناک حرکت ہے اس شخصیت کی، جسے جب دیکھو وہ ٹوئٹر پہ احادیث اور آیات پوسٹ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور یہاں ایسی باتیں کرنے کے بعد کھی کھی کر رہے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو بھگت چکے اس ملک میں سیاست میں جو کچھ ہوتا ہے، ہوتا رہا ہے اور اب پہلے سے کہیں زیادہ، کہیں زیادہ کھلے عام ہو رہا ہے۔ یہ وہ سب کچھ بھگت چکے، پھر بھی انہیں احساس نہیں ہے کہ کل یہ سب کچھ ان کے ساتھ دوبارہ ہو سکتا ہے۔
شرمناک، انتہائی شرمناک۔
کراچی، صرف رشوت نہ دینے پر 16 سالہ بچے کے ساتھ مبینہ پولیس درندگی!
شرم سے سر جھک جاتا ہے، الزام ہے کہ محافظوں نے معصوم بچے کے جسم میں ( پاخانے کے راستے کی جگہ) سریا گھسا دیا۔ ایک ہفتے سے وہ درد سے تڑپ رہا ہے، نہ بیٹھ سکتا ہے، نہ لیٹ سکتا ہے، نہ کروٹ بدل سکتا ہے!
یہ بچہ انصاف مانگ رہا ہے، اور ہم سب کی انسانیت کٹہرے میں کھڑی ہے
16 سالہ بچے پر مبینہ پولیس تشدد، انسانیت شرمسار..
اہلِ خانہ کے مطابق رشوت نہ دینے پر پولیس اہلکاروں نے اس کے ساتھ ایسی مبینہ درندگی کی کہ وہ کئی دنوں سے شدید تکلیف میں مبتلا ہے، نہ ٹھیک سے بیٹھ سکتا ہے، نہ لیٹ سکتا ہے۔
یہ کیسا نظام ہے جہاں عوام کے محافظوں ہی پر ایک معصوم بچے کو اس حال تک پہنچانے کا الزام لگ رہا ہے؟
مجھے یاد ہے کہ جب بھارت میں حجاب پر پابندی کا معاملہ سامنے آیا تھا تو ہمارا مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا انسانیت، اخلاقیات اور بنیادی انسانی حقوق پر ہمیں بھاشن دے رہا تھا۔ لیکن آج چونکہ معاملہ ایک مسلم برادر ملک اور دوست ملک آذربائیجان کا ہے، اس لیے ہمارے صحافیوں، مین اسٹریم میڈیا اور ہماری پالیسی میں ایک الگ ہی منافقت واضح نظر آتی ہے۔
حجاب پہننے پر پابندی لگا کر آپ بچوں کے بنیادی انسانی حقوق پامال کر رہے ہیں اور معصوم بچوں کو تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم کر رہے ہیں۔ لیکن مجال ہے کہ اس معاملے پر کسی کو انسانی حقوق یاد آ جائیں یا حجاب کی اس توہین کے خلاف کوئی آواز بلند کرے۔
آخر ان معصوم بچوں کا کیا قصور ہے؟ انہیں اپنی پسند کے مطابق لباس پہننے اور تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ میں ان بچوں کے ساتھ کھڑا ہوں اور آپ سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ کم از کم ان معصوم بچوں کے حق میں آواز اٹھائیں۔
یہ ظلم ہے، یہ زیادتی ہے۔ ظالم چاہے دوست ہو یا دشمن، اگر وہ ظلم کرتا ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ انسانی حقوق کا کوئی مذہب، سرحد یا سیاسی مفاد نہیں ہوتا۔ اصول ایک ہی ہونا چاہیے: ظلم جہاں بھی ہو، اس کے خلاف بولیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور میں بی آر ٹی سروس غیر معینہ مدت تک معطل کردی گی اور آج مختلف فوٹیج منظر عام پر آئی کہ بسوں کو پنجاب کی طرف شفٹ کیا جارہا ہیں
لعنت ہو اس نظام اور اسکے چلانے والوں پہ، کراچی میں ایک غریب خاندان کے 5نے مشترکہ فیصلہ کرکےخودکشی کرلی 2 بچوں کو زھر دیا موت کی وجوہات کا خط بھی لکھاگیس تک کے پیسے نہ تھے رشتہ داروں نے بھی مدد سے منع کردیا تھا،یہ خط نہیں حکومت پاکستان کے نام چارج شیٹ ہے افسوس یہ آخری سانحہ نہیں