پھول روتے ہیں تو دیتی ہے دہائی تتلی
تُو نے کیا سوچ کے پھولوں سے اڑائی تتلی
مجھ گُلِ ہجر زدہ کو تو ہوا نے روندا
مجھ سے ملنے کو بڑی دیر سے آئی تتلی
میری وہ رات بھی رو رو کے کٹی جب اُس نے
قید مٹھی میں مجھے کر کے دکھائی تتلی
میں نے بے رنگ سا کاغذ پہ بنایا اک پھول
اُس نے اِ س پر بھی محبت سے بٹھائی تتلی
ہائے، پَر نوچنے والے یہ تجھے کیا معلوم
کس قدر جتن سے ہم نے تھی کمائی تتلی
اپنی میّت کو کیا دفن اکیلے میں نے
میرے مرنے کی خبر بعد میں لائی تتلی
تم نے اک بار جو آخر پہ بنائی خط میں
خط جلا ڈالا مگر ہم نے بچائی تتلی
زین وہ رنگ محبت کے لٹاتی جاوے
مدتوں بعد بڑے وجد میں آئی تتلی
شاعر: جناب زین شکیل صاحب (@zainshakeel300 )
کاوش: سحربیاں (@seharebayan )
محترمہ ثنا سوئیٹ صاحبہ، سحرِ بیاں کی پوری ٹیم کی طرف سے سالگرہ کی پروقار مبارکباد!
آپ کی شخصیت ہمارے لیے ہمیشہ ایک روشن چراغ کی مانند رہی ہے۔ اس مسرت انگیز موقع پر ہم دعاگو ہیں کہ باری تعالیٰ آپ کے علم، عمر، صحت اور خوشیوں میں بے پناہ برکت عطا فرمائے۔ سحرِ بیاں کے اس سفر میں آپ کی موجودگی ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ خدا کرے کہ یہ نیا سال آپ کی زندگی میں کامیابیوں اور کامرانیوں کے نئے افق لے کر آئے۔
نیک تمناؤں اور احترام کے ساتھ،
@Sana____Sweet
سحرِ بیاں ٹیم
محترمہ@mariam__abbas کی خوبصورت تحریر
جانتے ہو
جس لمحے تو نے پہلی بار
میرے اندر سانس لیا تھا
جب تمہارا دل پہلی بار دھڑکا تھا
وہ لمحہ صرف وقت کی لکیروں میں نہیں تھا
بلکہ اسپیس ٹائم کے پیچ و خم میں
ایک نیا زاویہ پیدا کر گیا تھا۔
اس لمحے نے جب تیری آنکھیں پہلی بار کھلی تھیں
ہاکنگ کے کالے گڑھوں کو روشنی سے بھر دیا
کششِ ثقل کا قانون بدل گیا تھا
میرا وجود زمین کے بجائے تیری جانب اڑ رہا تھا
گویا صرف تیری موجودگی سے نئی شکل میں ڈھل گیا تھا
تُو تھا جو میرا کائناتی سوال حل کر رہا تھا
جیسے آئن سٹائن کے نظریات
تجھ میں سمٹ کر حقیقت بن گئے ہوں۔
یونان کے فلسفیوں نے جس مقام تک
دنیا کے اصولوں کو جانا تھا
تُو نے اُس سے آگے
ہر سوال کا جواب اپنی مسکراہٹ میں دے دیا
تھوریوں کے اجزاء اور کائنات کے قوانین
تجھ میں ایک نئی حقیقت بن کر جڑ گئے تھے
کہ تیری ہر حرکت میں
جذبہ اور وجود کی کشش تھی۔
تُو وہ جزو تھا جو کبھی نظر نہیں آیا
پھر بھی سب کچھ میں موجود تھا
تجھ میں شعور کی ابتدا تھی
تیرے ننھے قدموں میں
کائنات کا بڑا راز چھپاتھا
جیسے نیل بوہئر کی کوانٹم تھیوری
جو مکمل طور پر تجھ میں سمٹ آئی ہو
تو انجری کا منبع
تو الیکٹران کا مقصود
تو وجہ وجود کل
تُو وہ حقیقت ہے
جس نے ہر قانون، ہر حقیقت
ہر نظریہ، ہر خواب
ایک نیا مفہوم دے دیا
کہ تُو میرے لیے وہ حقیقت ہے
جو وجود اور عدم کے درمیان
ہر لمحہ حقیقت بن کر جیتی ہے۔
#کھوکھلارشتہ_سےماخوذ
محترمہ @mariam__abbas کی خوبصورت تحریر
میرے رام تھے نا تم
تمہیں لنکا گرانی تھی
مجھے رادھا بنانا تھا
ابھی محبت سکھانی تھی
کبھی اشوک کی صورت
کبھی موریا بن کر آنا تھا
کہ تم پورس تھے میرے
تمہیں ہند بچانا تھا
تمہیں دلا بھٹی ہونا تھا
تمہیں پرتاپ ہونا تھا
تمہیں دیس کا ہیرو
تمہیں بھگت سنگھ ہونا تھا
مگر
تو نے سیتا کو لنکا میں چھوڑا ہے
تو نے رادھا کا سپنا توڑا ہے
تم نے شانتی کو کھویا ہے
محبت کی سلطنت کو گنوایا ہے
تم سکندر بن کر آئے تھے
مغلوں کے طور اپنائے تھے
انگریزوں کی زنجیر لائے تھے
کیوں
تم نے محبت کو ٹھکرا کر
مجھے نیچا دکھانا تھا
پرتاب کی مزاحمت نے
لوٹ کر آنا تھا
بھٹی خون نے رنگ دکھانا تھا
بھگت کی روح نے واپس آنا تھا
کہ مجھے اپنا ہند بچانا تھا
#کھوکھلارشتہ_سےماخوذ
میں چاہتا ہوں کوٸی دشت میں جلاے چراغ
میں چاہتا ہوں کوٸی دشت میں جلاے چراغ
مگر یہ شرط نہ کچھ بھی جلے سواے چراغ
ہم آخری تھے میاں اب کے قحط سے پہلے
ہمارے بعد ہمیں ڈھونڈنے کو آے چراغ
ابھی ہوا نے تو بدلے ہی تھے ذرا تیور
کہ ہم بھی دوڑ پڑے اور کہا کہ ہاے چراغ
شعور اب بھی کہیں راستے میں اونگتا ہے
جنوں پہ آٸے ہوٸے عشق نے جلاے چراغ
یہ سوچتے ہیں کہ کوزہ گری کریں اس سے
ہماری خاک ہی ٹھہرے گی اب بِناے چراغ
انتخاب: نور مائیر (@babamaier)
شاعر: تنویر دانش
کھینچ کر روشنی میں لایا گیا
کھینچ کر روشنی میں لایا گیا
آدمی آدمی بنایا گیا
اک مہارت سے نبض کاٹی گٸی
اور اسے حادثہ بتایا گیا
خواب آلود رہ گٸیں آنکھیں
ہم کو تعبیر سے ڈرایا گیا
سانس لینا کہاں ضروری تھا
کام چلتا تھا بس چلایا گیا
میرا پہلا قدم تھا امبر پر
جب نظر سے مجھے گرایا گیا
انتخاب: ایمان (@_imaan_n)
شاعر: تنویر دانش
زلفِ برہم میں خم زیادہ ہے
زلفِ برہم میں خم زیادہ ہے
تو جو کہتا تھا کم زیادہ ہے
کس نے تقسیم کی وراثت کی
میرےحصے میں غم ذیادہ ہے
اپنے لہجے پہ آج غور تو کر
تیرے لہجے میں ،ہم، زیادہ ہے
ناقد ہجر کے سبو میں ابھی
اشک تھوڑے ہیں رم زیادہ ہے
سن یہ شکوہ ہے تیری پاٸل کا
چھن یہ کہتی ہے چھم زیادہ ہے
کیا ہوا آج کیا ہوا دانش
آج کچھ آنکھ نم زیادہ ہے
انتخاب: ملک (@malikafra1989)
شاعر: تنویر دانش
ترا نہ ذکر کرے بار بار لوگوں میں
ترا نہ ذکر کرے بار بار لوگوں میں
ہوا سے کہہ دو ذرا ہوشیار لوگوں میں
طلب نے شعر کی شہرت سے بے نیاز کیا
مرا شمار نہ کر بے شمار لوگوں میں
کواڑ کھول کے یہ کس کی راہ تکتے ہیں
یہ کون بانٹ گیا انتظار لوگوں میں
اداسیوں کو اماں ڈھونڈنی پڑے گی کہیں
جو اس نے بانٹ دیا کچھ خمار لوگوں میں
انتخاب: حرااعوان (@HiraMalik137216)
شاعر: تنویر دانش
میں اپنے قد سے جو ہاتھ اونچا اٹھا رہا ہوں
میں اپنے قد سے جو ہاتھ اونچا اٹھا رہا ہوں
یقین مانو کہ بس تعلق نبھا رہا ہوں
یہ چاند تاروں کی لو کو کس نے بڑھا دیا ہے
خبر یہاں پر ہے کیسے پہنچی میں آرہا ہوں
مرے جنازے کو جا کےپیڑوں کے پاس رکھنا
وہ چل کے آٸیں گے اتنا کہنا بلا رہا ہوں
گھڑی محبت کی اک نشانی جو بند پڑی ہے
بیکار اس کی میں سوٸیوں کو گھوما رہا ہوں
تمہیں پرندوں سے بات کرنے کا ڈھب سکھا لوں
تو خود پرندوں سے پوچھ لینا میں کیا رہا ہوں
میں سونے ہیڑوں کا دکھ سمجھتا ہوں یار دانش
سو کچھ دنوں میں خود پرندے بنا رہا ہوں
انتخاب: تنویر دانش (@tanveer56545635)
شاعر: تنویر دانش