سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور موجودہ آرمی چیف، بشریٰ بی بی کی کرپشن کی فائلیں لے کر عمران خان کے پاس گئے تھے: عظمیٰ کاردار!
تو وہ آرمی چیف ہیں، کدھر ہیں وہ کرپشن کی فائلیں؟ کون ہیں وہ افسر جن کے، بشریٰ بی بی نے فرح گوگی کے ذریعے پیسے لے کر، تبادلے کروائے؟ کوئی ایک کیس؟ کوئی ایک افسر جسے آپ نے نوکری سے فارغ کیا ہو کیونکہ اس نے رشوت دی:ثمینہ پاشا!
حکومت کو اب اعلان کردینا چاہیے کہ ہم ڈیفالٹ کر چکے ہیں کیونکہ ڈیفالٹ کی ساری نشانیاں پوری ہو چکی ہیں۔
اگر قرضہ جی ڈی پی کا 50 فیصد ہو جائے تو یہ ڈیفالٹ کی علامت ہے جبکہ ہمارا قرضہ جی ڈی پی کا 70 فیصد ہو چکا ہے ۔ ماہر معیشت حسن ظفر
کوئٹہ میں زیارت سانحے کے دھرنے سے سالار کاکڑ کے گزارشات:
1۔ زیارت کے اندوہناک حادثہ پر ناصرف شہداء کےاقرباء بلکہ تمام بلوچستان شدید صدمے اور غم و غصہ میں ہے۔
2۔ ریاست امن و امان کو یقینی بنائے۔
3۔ حکومت عوامی خدشات دور کرنے کےلیے مائنز اینڈ منرلز بل واپس لے۔ لاکھوں ایکڑ کے جو مبینہ الاٹمنٹس غیر لوکل لوگوں کو دی ہیں وہ کینسل کرے۔
4۔ صوبے کے مخدوش صورتحال کےلیے آل پارٹیز و تمام قبائل مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔
#Balochistan
🚨🚨اس وقت امریکہ آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی جزیروں پر بمباری کر رہا ہے۔
اس بمباری میں قطر میں موجود "العدید" ائربیس سے فیول دینے والے جہاز "ٹینکرز" امریکی جہازوں کو ایندھن دے ریے ہیں۔
یہ وہی قطر ہے جو چار دن پہکے ثالثی کر رہا تھا۔ اور پھر ایران کے پیسے بھی ایران کو نہ دے سکا کیونکہ امریکہ نے منع کر دیا تھا۔ اب قطر ایران پر حملے میں معاونت کر رہا ہے۔
جب ایران کی جوابی کاروائی ہوئی تو قطری بھی روئیں گے اور پاکستان میں ان کے خود ساختہ پٹواری اور ملواڑی ٹائپ سپورٹرز بھی۔
اس سے بڑی زیادتی اور عدلیہ کے لئے باعث شرم بات کیا ہو گی کہ ایک ٹویٹ پر ایمان مزاری کو سترہ سال کے لئے قید میں ڈال دیا۔ کیا کسی کو محض ایک ٹویٹ پر اس کے زندگی کی قیمتی سال ضائع کرنے چاہئیں؟ اس خاتون کے جو پڑھی لکھی ہے غریبوں کی ہمدرد وکیل ہے۔ دنیا میں پاکستان کاایک روشن چہرہ ہے.
مشرف دور میں ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل ارشد محمود کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگا دیا گیا
ایک میٹنگ میں اس ریٹائرڈ جنرل نے ڈاکٹر مجاہد کامران سے پوچھا!
"شاہ جی آپ کیا بننا پسند کریں گے"
جس پر ڈاکٹر مجاہد کامران نے جواب دیا کہ *میں راولپنڈی کا کور کمانڈر بننا پسند کروں گا.*
جنرل نے کہا آپ تو پروفیسر ہیں آپ کا کوئی فوجی تجربہ نہیں آپ کیسے راولپنڈی کے کور کمانڈر لگ سکتے ہیں؟
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا *جیسے ایک ریٹائرڈ فوجی کو ایک اہم ترین تعلیمی ادارے کا سربراہ بنا دیا گیا ہے، بالکل ویسے ہی مجھے بھی کور کمانڈر لگایا جائے*
اس کے بعد جنرل ارشد محمود صاحب کے چراغوں میں روشنی نہ رہی
*لمحہ فکریہ ہے کہ ایک سال میں 2 لاکھ سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بیرون ممالک شفٹ ہو چکے ہیں اور یہاں ریٹائر حضرات میں اعلیٰ عہدے فتح کرنے کا ورلڈکپ جاری ہے*
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
Copy
جنرل ایوب نے الزام لگایا کہ جب سہروردی وزیر اعظم تھے، انھوں نے اپنے اختیارات کے غلط استعمال میں ایک شخص سیٹھ نور علی کو چاولوں کا پرمٹ دیا تھا۔ فوجی عدالت میں سہروردی نے اپنا کیس خود لڑا سہروردی نے ریکارڈ سے ثابت کر دیا کہ پرمٹ کے اجرا کے لیے وزارت تجارت کے سیکریٹری نے ان سے منظوری لی ہی نہیں، بلکہ خود ہی پرمٹ جاری کر دیا، اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خاں کے کہنے پر۔
مگر فوجی عدالت نے سہروردی کو سات سالہ نااہلی کی سزا تو پھر بھی سنا دی پریس کو عدالتی کارروائی رپورٹ کرنے سے بزور بندوق روک دیا گیا
66 سال گزر گئے کیا بدلا
https://t.co/QYRtj2WDI8
الیکشن کمیشن کا ایک نوٹس شریف خاندان کا چھوٹا بڑا دونوں پیشاب بند کرسکتا ہے کہ آپ نے جعلی الیکشن کی مدد سے نشستیں جیتیں ، آپ آئین سے غداری کے مرتکب ہوئے اور اب تیاری پکڑیں۔ایسے میں پرلے درجے کے احمق وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ ڈار فیملی کے کیسز اس لیے کھل رہے ہیں کہ فوج اسحاق ڈار کی جگہ محسن نقوی کو وزیر خارجہ بنانا چاہتی ہے۔ البتہ کوئی واردات سامنے آنے پر ایک گروپ دوسرے کو جی بھر کے ذلیل ضرور کرسکتا ہے۔ وہی ہو رہا ہے۔
فوج شریف خاندان سے جو تقاضا کرے گی وہ ملے گا۔ صرف دو دن ہوا چلی کہ اٹھائیسویں ترمیم میں فیلڈ مارشل کو صدر بنایا جارہا ہے یا زرداری گروپ کو کٹ ٹو سائز کیا جارہا ہے ، بلاول اور زرداری نے فورا فیلڈ مارشل کے اعضائے مخصوصہ سر پر اٹھا لیے اور خصوصی جلسے منعقد کرکے پالش پھیرنے لگے۔
فوج جس وقت محسن نقوی کو وزیر خارجہ یا وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کرلے گی اسی وقت مطالبہ پورا ہوگا۔ عمران خان جو کچھ برداشت کرگیا شریف و زرداری خاندان ہر مرتبہ اس آزمائش سے فرار ہوئے۔ لہذا گزارش ہے کہ اگر مگر چونکہ چنانچہ لیکن شاید وغیرہ والے تبصرہ پاڑوں سے پرہیز کریں۔
مریم نواز اور سی سی ڈی کا پنجاب
یہ “میں نےوزیر اعلی بنناہے” “میں نےوزیراعظم بنناہے” کا شوق لیے آ جاتے ہیں اور پھر اپنی نااہلی کی وجہ سےپورے نظام کا بیڑہ غرق کر دیتے ہیں۔
جرائم کی اس بدترین صورتحال کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ پنجاب پر اتنا بُرا وقت پچھلے ڈیڑھ سو سال میں نہیں آیا۔
جب قیمتیں 230 سے 380 پر لے کر گئے تھے اور ان کمپنیوں نے اپنے پاس پڑے اربوں لیٹرز پر گھربوں بنائے وہ پیسے ہیں نا قائرہ صاحب۔ تب قوم کا کیوں نا سوچا کہ غریب جو دیوالیہ ہوگیا ہے وہ کیا کرےگا؟
منیب فاروق کہہ رہے ہیں کہ ہمیں عام عہدوں پر فائز لوگ بتاتے تھے کہ “ہمیں بچانا ہے اور عمران خان کی حکومت کو گرانا ہے۔”
بےشرمی کی انتہا ہے! آپ اسٹیبلشمنٹ کے ڈاکیے ہیں یا صحافی؟ شرم آنی چاہیے۔ آج کس منہ سے بیٹھ کر تجزیے کر رہے ہیں!مطیع اللہ جان۔
’میں نے پولیس والوں کی بہت منتیں کیں کہ خدا کے لیے کھانے پینے کی چیزیں گھر لے کر جانے دیں کیونکہ میرے گھر میں نوبت اب فاقوں تک پہنچ چکی ہے، بیوی بھی حاملہ ہے۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور کہا کہ کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کو اپنے ہاتھوں سے ضائع کر دو تو جانے کی اجازت ہے، ورنہ واپس چلے جاؤ۔‘
آزاد کشمیر کے شہری کی بی بی سی سے گفتگو
تم سب کے باپ نے 2018 میں بھی کہا تھا کہ حلقے کھول دیتا ہوں مگر تم سب چِندی چور بیغیرت بھاگ گئے تھے۔ کھولو حلقے اگر ایک باپ کے ہو تو
عمران احمد خان نیازی نے یہہ کر 2013 کے الیکشن میں چار حلقے کھلوائے تھے چاروں میں چوری نکلی دوبارہ الیکشن میں پھر جیت لئے
بوٹوں میں بیٹھ کر تسموں کی جگالی کرتے الیکشن جیتتے حکومتیں بناتے انکی عمر گذر گئی ہے