بینظیر بھٹو کی ایک دوست ہوا کرتی تھی جس کا نام وینا حیات تھا- بے نظیر کی حکومت جب غلام اسحاق خان نے 58 ٹو بی کا استعمال کرکے گرائی تو پیپلز پارٹی نے غلام اسحاق خان کے خلاف احتجاج شروع کروائے جس پر غلام اسحاق خان بہت زیادہ پریشان تھا- پھر ایک دن ایسا ہوا کہ ایک رات کچھ چور وینا حیات کے گھر گھسے ان کے گھر ڈکیتی کی اور پھر وینا حیات کا گینگ ریپ کیا- اور یہ کیس وینا حیات کیس کے نام سے مشہور ہوا-- انویسٹی گیشن کی گئی تو ایک نام اس کیس میں سامنے آیا جس کا نام عرفان اللہ مروت تھا یہ عرفان اللہ مروت کوئی اور نہیں بلکہ غلام اسحاق خان کا داماد تھا اور غلام اسحاق خان کے اس داماد کی بیٹی کوئی اور نہیں بلکہ ثمر ہارون بلور ہے اور وہ اس وقت پی پی کی کابینہ ہے
آپ کو یاد ہے کچھ عرصہ پہلے عرفان اللہ مروت نے پی پی میں شمولیت اختیار کی تو اس وقت بلاول اور اس کی بیٹیوں نے باپ سے احتجاج کیا جس پر پیپلز پارٹی نے عرفان اللہ مروت کو پارٹی سے نکال دیا- مگر آج اسی عرفان اللہ مروت کی بیٹی پیپلز پارٹی کی کابینہ میں شامل ہے-- کہا جاتا ہے کہ بے نظی راپنی زندگی میں بس دو دفعہ روئی ایک جس دن میر مرتضی بھٹو کو مارا گیا اور دوسرا وینا حیات کے ریپ پر اسمبلی میں بات کرتے ہوئے--
یہ اوقات ہے ان ب کے پکوڑوں کی--
بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، وہاں روز فوجی نوجوانوں کی شہادتیں ہوتی ہیں، کیا بلاول کسی کے جنازے پر جاتے ہیں؟ کیا اور زرداری کسی کے گھر جاتے ہیں؟ کیا یہ غدار وطن ہیں؟ نہیں ایسا نہیں ہے ہمیں اپنے سیاسی مقصد کے لیے کسی کو غدار نہیں کہنا چاہیے، اطہر کاظمی
وفاق کی منافقت کھل کر سامنے آگئی ، عوام یاد رکھے ان کا مقصد دہشتگردی سے نمٹنا نہیں تھا پی ٹی آئی کی منتخب حکومت گرانا تھا ۔ دہشتگردی کے خلاف پولیس کو کو سامان چاہئے تھا جس کی پیمنٹ مہینوں پہلے ہوچکی تھی وزیراعلی سہیل آفریدی نے بار بار ریکوئسٹ کی کہ ہماری پیمنٹ ہوچکی ہمیں سامان فراہم کیا جائے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور آج گورنر راج لگے ابھی 24 گھنٹے نہیں ہوئے تھے کہ وہ سامان خیبرپختونخوا پہنچا دیا گیا۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ مقصد دہشتگردی سے نمٹنا نہیں بلکہ تحریک انصاف کی منتخب حکومت کا خاتمہ کرکے اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل تھا۔
#گورنر_راج_نامنظور
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پولیس کیلئے خریدی گئی جدید گاڑیاں جسٹس چوک ریڈ زون پہنچ گئیں۔یہ وہ گاڑیاں ہیں جو صوبائی حکومت نے پولیس کے لیےخریدی تھیں لیکن وفاق میں بیٹھے منافق دے نہیں رہے تھے ۔حکومت جاتے ہی دوسرےدن پہنچا دیں
جب اپ سے سہیل خان افریدی سنبھالا نہیں گیا اپ نے طریقے سے تمیز سے تحریک انصاف سے بات نہیں کی تو اپ نے بہتر سمجھا کہ وہاں پر ایمرجنسی لگا دی اور پھر اپ سے صبر نہیں ہوا اپ نے ایک الیکٹڈ سی ایم کو گرفتار بھی کر لیا شرم انی چاہیے اپ کو! شازیہ ذیشان۔
”خیبر پختونخوا کے عوام سے ہزاروں ووٹ لیکر بیٹھنے والی صوبائی کابینہ کو ہٹا کر ان لوگوں کو مسلط کر دیا جنہیں کوئی جانتا تک نہیں۔ فیصل کریم کنڈی کے حوالے پورا صوبہ کر دیا جو 2008ء سے تمام انتخابات میں عوام سے مسترد ہوتا آیا ہے۔ بلوچستان کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی فوج تعینات ہو گئی، اب باقی 2 صوبوں میں بھی فوج لگا دیں تا کہ عوام کو پتا تو ہو کہ پورا نظام چلا کون رہا ہے۔ دہشتگردی کا صرف بہانہ بنایا گیا ورنہ اصل مقصد تحریک انصاف کی حکومت ختم کرکے خود قابض ہونا تھا۔“ ثمینہ پاشا
@pasha_samina
#گورنر_راج_نامنظور
@kaikausMir جی بالکل انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق
بڑے بڑوں کی سمگلنگ رک رہی تھی معدنیات چرانا مشکل ہو رہا تھا باڈر سے سمگل آئل لانا محفوظ نہیں۔ تھا فرضی دہشتگردی کی آڑ میں ڈالروں میں رکاوٹ تھی منتخب وزیراعلی مینج نہیں ہو رہا تھا سو گورنر راج کا پتہ کھیلا گیا اور اب کھل کریں گے سب
آج سپیکر ہاؤس خیبر پختونخوا اسمبلی پر بھی فوجی وردیوں اور سادہ کپڑوں میں ملبوس سینکڑوں لوگوں نے حملہ کیا اور سپیکر بابر سلیم سواتی، سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید اور سٹاف کے ممبران سمیت کئی افراد کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا
اس دوران سپیکر ہاؤس پر فائرنگ بھی کی گئی، توڑ پھوڑ بھی کی گئی
صوبائی اسمبلی کا سپیکر ایک آئینی عہدہ ہے اور اسمبلی اور حکومتیں ختم ہونے پر بھی ان کا عہدہ قائم رہتا ہے لیکن عاصم لأ نے ملک کے آئین و قانون کو بوٹ کی نوک پر رکھا ہوا ہے اور پاکستان کے ہر اصول اور ہر قاعدے کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں.
#YahyaKhanPart2 #AsimLaw
جو جو خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کی حمایت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ آئین کے غداروں اور مینڈیٹ چوروں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفیشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اُس کے مفادات جڑے ہیں۔
اسد طور 🔥🔥
پانڈا کے بعد سب سے زیادہ معدومیت کا شکار اگر کوئی نسل ہے تو پٹواری نسل ہے جنکا کوئی ووٹ بنک باقی نہہں بچا اور وہ "ووٹ کو عزت" دے رہے ہیں 2 تہائی کی اکثریت سے جیت کر آنے والی جماعت جسکو مسلسل تیسری بار عوام نے مینڈیٹ دیا انکے مینڈیٹ کو روندنے پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور یہ خود کو جمہوریت کا چیمپئن کہتے ہیں اور ہیٹ ٹرک کردی غیر آئینی اقدام کی۔انتہائی افسوس کا مقام اور عوام کی توہین یے جس عوام نے 2 تہائی مینڈیٹ دیا اس حکومت کو دہشت گردوں کا سہولت کار بنا دیا گیا ۔ عطا اللہ تارڑ اچھل اچھل کر بہان رے رہا تھا افسوس ہے اس جمہوریت پر۔۔۔
#پخیر_پختونخوا
یہ پشاور ہے۔ جرنیلوں کو اتنی آسانی سے خیبر پختونخوا کی حکومت اور خیبر پختونخوا کی معدنیات پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ مزاحمت کریں گے۔ خیبر پختونخوا میں صرف عمران خان کا راج چلے گا۔
انہوں نے خیبر پختونخوا میں دو تہائی اکثریت سے منتخب ہونے والی حکومت کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے ذریعے ختم کر دیا ہے۔ میرا ان سے یہ سوال ہے کہ آپ نے بلوچستان میں ایمرجنسی بھی لگائی اور سب کچھ کیا، لیکن کیا آپ وہاں امن قائم کر سکے؟ اس لیے کہ عوام آپ کے ساتھ نہیں ہیں اور انہیں آپ پر اعتماد نہیں ہے۔
آپ ان نوجوانوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ یہ کہ آپ کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہے؟ کہ ہم یہاں گورنر راج اور ایمرجنسی بھی نافذ کریں گے، آپ کے وزیرِ اعلیٰ اور وزراء کو گرفتار بھی کریں گے، اور ان کی گاڑیوں کے ٹائروں پر گولیاں برسا کر انہیں روکیں گے۔ ہمارے وطن کے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟
کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ جیت رہے ہیں؟ نہیں، درحقیقت آپ ہار رہے ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بے حد افسوس ہوا جب میں نے وہ تصویر دیکھی جس میں پاکستان کے صدر اور وزیرِ اعظم ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسکرا رہے تھے۔ ان کی یہ مسکراہٹ پاکستان کے عوام کے ذہنوں اور سوچ و فکر کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یہ انتہائی شرم کا مقام ہے۔
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
@AllamaRajaNasir
#نکلو_پشاور_کی_طرف
بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کی قلعی کھول کر رکھ دی
15 ملاقاتوں میں جو 5 اگست سے آج تک ہوئی تھیں بتایا جائے کسی ایک بھی میٹنگ میں دہشتگردی کا ذکر ہوا ؟ 2 اکتوبر کو مذاکرات کی نشست میں جیسے ہی انہوں نے دہشتگردی کی بات کی تو میں نے کہا ہم سے غلطی ہوئی ہے آپ کے ساتھ نشست نہیں کرنی چاہیے تھی ہمیں پہلے آپ سے ایجنڈا مانگنا چاہیے تھا ہمیں لگا تھا کہ آپ ایک سیاسی جماعت کے مطالبات کو ایڈریس کرنے بیٹھے ہیں لیکن آپ کا ایجنڈا اور ہے .
بیرسٹر گوہر علی خان