آپ کو لگ رہا ہوگا کہ یہ بھارتی فورسز جنتر منتر میں طلباء پر حملہ آور ہو گئی ہیں اور ان کو سیدھی گولیاں مار رہی ہے
لیکن آپ غلط سوچ رہے ہیں، یہ پاکستانی فورسز ہیں اور یہ دارالحکومت اسلام آباد میں پرامن مظاہرین کو مار رہی ہیں اور آپ کو یہ جان کر بھی حیرانگی ہوگی کہ بھارت میں ابھی تک ایک گولی نہیں چلائی گئی
کچھ غلیظ کردار صحافی کل سے بھارت میں ہونے والے لاٹھی چارج کی ویڈیوز دیکھا دیکھا کر کہہ رہے ہیں کہ اسے کہتے ہیں ظلم !!
اوئے بے شرموں ظلم اسے کہتے ہیں کہ جب 26 نومبر کو نہتے شہریوں پر جدید ہتھیاروں کے منہ کھولے گئے تھے، انڈیا سے کوئی ایک ایسا منظر ہے تو دیکھا دو
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
26 نومبر کو اسلام آباد D chowk میں ہونے والے قتل عام پر اکنامک ٹائمز کی رپورٹ
بے شرموں کس منہ سے انڈیا پر بات کررہے ہو جبکہ تمھاری اپنی عوام نے اتنا ظلم سہا ہے
Salute to the brave Indian students, parents, and citizens standing for democracy, free speech, and justice. Repression is never a sign of strength. Whether it’s RAF Assistant Commandant Sonia Sehrawat in India or ASP Sher Bano Naqvi in Pakistan, abuse of power in uniform is unacceptable. Brutality has no borders—and neither should our demand for accountability.
جب سے میرے والد، عمران خان، کو قید کیا گیا ہے، میرے بھائی اور میں نے مارچ کے بعد سے ان کی آواز تک نہیں سنی۔ کئی مہینوں سے ہمیں ان سے کسی بھی قسم کے رابطے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ انہیں مناسب طبی سہولیات میسر ہیں یا نہیں، جبکہ ان کی بینائی مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔ انہیں فوری طبی توجہ کی ضرورت ہے، لیکن نہ خاندان کو ان تک رسائی حاصل ہے اور نہ ہی وکلا کو، اس لیے ہمیں ان کی خیریت کے بارے میں کوئی ثانوی اطلاع یا اطمینان بھی نہیں ملتا۔
حال ہی میں مجھے ان کی کمی پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں ان سے روزمرہ کی عام باتیں کروں، جیسے اپنی کرکٹ کے بارے میں، وہ کتابیں جو میں پڑھ رہا ہوں، اور یہ کہ کون سی نئی فلمیں اچھی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے لوگ اپنے منتخب رہنما کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن مجھے اپنے والد کی کمی پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔
لیکن یہ صرف ایک باپ کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ پاکستان اور اس کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ ایک دھاندلی کے ذریعے قائم ہونے والی آمرانہ حکومت مسلسل سیاسی مخالفین کو کچل رہی ہے، جمہوری اداروں کو کمزور کر رہی ہے، لاکھوں پاکستانیوں سے اپنے رہنماؤں کا آزادانہ انتخاب کرنے کا حق چھین رہی ہے، اور جو لوگ اپنے عقائد کے اظہار کی ہمت کرتے ہیں انہیں خوف و ہراس کا نشانہ بنا رہی ہے۔
میں ایک بار پھر عالمی برادری سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس صورتحال سے نظریں نہ چرائے۔ ناانصافی کے سامنے خاموشی اختیار کرنا دراصل اس ناانصافی کو مزید تقویت دینا ہے۔... قاسم خان
قاسم خان کا ٹویٹ!
گزشتہ کچھ عرصے سے مجھے ان کی کمی پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ان سے روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتیں کروں 💔
#LetTheWorldSeeImranKhan