ڈاکٹر یاسمین راشد کا وصیت کا لفظ استعمال کرنا اور کہنا کہ حالات ٹھیک نہیں لگ رہے اس بات کا ثبوت ہے کہ بات چیت نہیں ہو رہی کوئی معاملات بہتر نہیں ہو رہے تحریک انصاف کچھ کرنا چاہتی ہے تو کرے ۰
طارق متین
تاریخ گواہ ہے کہ انسان تو قید کیے جا سکتے ہیں، لیکن نظریات کو کبھی زنجیروں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔
جب ریاستیں انصاف کے ترازو کو انتقام کی بھٹی میں جھونک دیں اور عدالتوں کو سیاسی مخالفین کا گلا گھونٹنے کے لیے استعمال کیا جانے لگے تو سمجھ لیں کہ فاشزم اپنے عروج پر ہے۔
سیاسی اختلاف کی پاداش میں دی گئی سیکڑوں سال کی یہ فرضی سزائیں پی ٹی آئی اور عمران خان کے حوصلے توڑنے اور جھکانے کی ناکام کوششیں ہیں۔
بزرگ سیاستدانوں سے لے کر پرعزم خواتین اور نڈر نوجوان کارکنوں تک، سب کو جس بے رحمی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں لکھا جائے گا۔
یہ سزائیں جرم کی نہیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے خوفزدہ لوگوں کے ڈر کی علامت ہیں۔ حوصلہ بلند رکھیے، کیونکہ جمہوریت کی یہ تاریک ترین رات جلد ختم ہوگی اور انصاف کا سورج طلوع ہو کر رہے گا۔
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ ہی اسلام کی سمجھ۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔
اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے۔”
- عمران خان
#FreeBushraBibi
#FreeImranKhan
“We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail. A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events.” - @Aleema_KhanPK
جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا ، بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جاتی:
1- آپ نے سر پلس بجٹ پاس نہیں کرنا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ ایک یا مہینے سے زیادہ پاس نہیں کروانا
سب باتیں چھوڑ کر اس ایک بات پر فوکس کرنا ہے ہم سب نے۔
"چکوال فائرنگ واقعہ: پولیس قبر پر پھول ڈال رہی ہے اور سربراہ تعزیت کے لیے پہنچ گئے! اگر بچی اور اس کے والدین کی آسٹریلیا کی شہریت نہ ہوتی، اور آسٹریلین میڈیا اور حکومت نے اس قتل کو نہ اٹھایا ہوتا، تو ایک بچی چھوڑ کر سارا خاندان بھی قتل ہو جاتا تو کسی کو کوئی فرق نہ پڑتا۔ بس! یہی ہمارا سسٹم ہے۔"سجاد مصطفیٰ باجوہ
@sajjadmustafa
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
"1998ء میں خان صاحب سوات آئے تھے۔ میں نے عمران خان کو لابی میں صبح کی نماز پڑھتے دیکھا تو کہا کہ ماشاءاللہ! آپ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ عمران خان نے مجھے کہا، 'میری ماں نے مجھے کسی چیز پہ نہیں مارا کیونکہ میں اکلوتا تھا، لیکن فجر کی نماز کے لیے وہ مجھے اٹھاتی تھیں؛ چاہے اس کے لیے ان کو ڈنڈا اٹھانا پڑے یا تھپڑ مارنا پڑے۔'" ڈاکٹر امجد علی
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan