@Silly_siSilly اور آپ کا اتنے خلوص سے بلانا میرے لیے باعثِ عزت ہے۔ آپ سے مل کر خوشی ہوگی اور بہت اچھی گپ شپ کا موقع بھی ملے گا۔
اور ایک بار پھر بہت بہت شکریہ اتنی محبت اور عزت دینے کا۔ ان شاء اللہ جلد ملاقات ہوگی
@Silly_siSilly جی، میں نے آپ کی کافی پوسٹس دیکھی ہیں، بہت اچھی لگیں۔ آپ بتائیں کس دن اور کس وقت آپ فری ہوتے ہیں، میں اسی حساب سے آ جاؤں گا تاکہ آرام سے بیٹھ کر گپ شپ ہو سکے۔
@iSaleem_khan34@OfficialDGISPR@OfficialDGISPR jesa TLP walo ka Software update kia tha kindly inka bhi kia jaye. There is a difference between supporting someone and destroying ur country. No one should be allowed to damage or talk against the Pakistan
Why are some individuals living safely in the UK openly glorifying the Taliban and calling for “fighting” alongside them?
We’ve already seen the consequences when people travelled to Syria and Iraq to join ISIS. Have we learned nothing?
Is there a gap in monitoring extremist propaganda online? Or is the UK allowing its freedoms to be exploited by those promoting violent jihadist ideologies?
Supporting the Taliban from London while enjoying British liberties is hypocrisy and it raises serious security questions.
Extremism should never be normalised under the cover of free speech.
@elonmusk@10DowningStreet@UKGovOfficial@ukhomeoffice@TerrorismPolice@metpoliceuk@CommonsHomeAffs
جنگ لڑنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔
مردانہ وار: جس میں دشمن کو کہتے ہیں کہ ' ناؤ یو ویٹ فار آور ریسپانس!!'
عمرانہ وار: جس میں اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا جاتا ہے کہ 'اب کیا میں انڈیا پہ حملہ کر دوں؟'
باقی سب کہانیاں ہیں۔۔
ہماری لڑائی اُس سوچ سے ہے کہ جب نواز شریف کی اپنی اہلیہ کے بسترِ مرگ کے سامنے کھڑے ایک مظلوم حال چہرے کی تصویر امریکہ میں آویزاں کی گئی تو سامنے بیٹھے لوگ اُس کربناک لمحے کی تصویر پر تالیاں بجاتے رہے۔
ہماری بیزاری اُس سوچ سے ہے جس کے سامنے یہ بات فخر سے کہی گئی کہ میں جیل میں قید شریف برادران کے جا کر اے سی اتروا دیتا ہوں۔۔۔اور لوگ تالیاں بجاتے رہے۔
ہماری لڑائی اُس سوچ سے ہے جس کے سامنے مخالفین پر ظلم کی ویڈیوز چلائی گئیں اور بیک گراؤنڈ میں وہ آواز لگائی گئی جو پکارتی تھی کہ ”میں انہیں رولاؤں گا“، تو لوگ تالیاں بجاتے رہے۔
ہماری لڑائی اُن سیاستدانوں سے ہے جو مخالفین کو ”رگڑا لگا“ کہہ کر قہقہے لگاتے تھے۔
ہماری لڑائی اُس سوچ سے ہے جو آج بھی کہتی ہے کہ اگر ہمارا دورِ اقتدار واپس آیا تو ہم مخالفین کی لاشیں درختوں سے لٹکائیں گے۔
ہم نفرت کے بیوپاریوں سے بیزار ہیں۔ ہماری لڑائی پاکستان میں انتشار پھیلانے والوں سے ہے۔ ان لوگوں سے جو جناح ہاؤس، جی ایچ کیو اور ریاست پاکستان کے اداروں پر حملے کر کے انقلاب کے نعرے لگاتے رہے۔
ہماری لڑائی اُن لوگوں سے ہے جو بھارتی چینلز پر بیٹھ کر ریاستِ پاکستان کو گالیاں دے کر داد وصول کرتے ہیں، جو جنگ کے دوران بھارت کا قومی ترانہ گاتے اور پاک فوج کو ڈی مورالائز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہماری لڑائی اُس سوچ سے ہے جس نے اقوام متحدہ کے باہر بھارتی افراد کے شانہ بشانہ ریاستِ پاکستان کے خلاف نعرے لگائے۔ ہماری لڑائی اُن عناصر سے ہے جنہوں نے امریکی ایوانِ نمائندگان میں پاکستان کے خلاف بل منظور کروانے کی کوشش کی اور اقوامِ متحدہ کے ایک ذیلی فورم میں پاکستان کے خلاف قرارداد پیش کروائی۔
ہم سیاسی اختلاف کے قائل ہیں، مگر ریاست دشمنی کے نہیں۔
ہم تنقید کے حق کو تسلیم کرتے ہیں، مگ�� تخریب کے نہیں۔
ہم آزادیٔ اظہار کے حامی ہیں، مگر آزادیٔ انتشار کے نہیں۔
یہ غصہ سیاست سے نہیں۔۔۔ملک دشمن رویّوں سے ہے۔
یہ اعلانِ جنگ نہیں۔۔۔اعلانِ اصول ہے۔
پاکستان رہے گا، ادارے رہیں گے، سیاست بدلتی رہے گی۔
مگر جو لوگ نفرت کو ایندھن بناتے ہیں، تاریخ انہیں کبھی عزت نہیں دیتی۔
Dear @RightatHomeRE, On Thursday, November 13, 2025, an individual employed by your organisation was recorded verbally harassing a Pakistani couple in a public place. The incident involved not only threats of physical assault but also the deliberate recording and public dissemination of the harassment, which has since sparked widespread outrage in Pakistan.
I would like to know whether permitting such conduct forms part of your organisation’s standard operating procedure, or whether this individual’s actions are in no way representative of, or condoned by, your institution.
For your reference, I have attached the link to the individual’s X profile. The person in question is named “Shahid Bhatti”.
I will await your official response within the next 24 hours. Should your organisation fail to issue a clear statement—either acknowledging that such behaviour aligns with your policies, or confirming that appropriate disciplinary action will be taken—your silence will be interpreted as tacit endorsement of this conduct.
In that event, I, as a Pakistani citizen, reserve the right to file a formal complaint against your organisation with the appropriate provincial or Canadian Human Rights Tribunal on the grounds of publicly condoning discriminatory and harassing behaviour toward individuals on the basis of their national or ethnic origin.
اندازہ کریں، طعنے وہ دے رہے ہیں جن کا مہاتما خود تسلیم کرتا رہا ہے کہ قانون سازی کے لئے بندے آئی ایس آئی پورے کروا کے دیتی تھی اور اس وقت یہ سارے طبلے کی تھاپ پر سنگت دے رہے ہوتے تھے ۔۔۔