3 سال مکمل: ایک طرف عمران خان نے بہادری سے جیل کاٹ کر اسٹیبلشمنٹ کا غرور خاک میں ملا دیا۔
دوسری طرف عاصم منیر اور انکے ساتھیوں نے خان کو توڑنے کے چکر میں عدلیہ، میڈیا، پارلیمان، اداروں، آئین، معیشت، امن و مان، قومی یکجہتی اور انسانی حقوق سمیت سب کچھ تباہ کر دیا مگر بات نہیں بنی۔
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
آج اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کر رہا ہوں۔ کشمیر لہو لہان ہے۔ آج وہی فارمولا استعمال کیا گیا جو خیبر پختونخوا بلوچستان 26 نومبر اور تحریکِ لبیک کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔ آج اسی کے تحت راولاکوٹ میں بھی مظلوموں کو شہید کر دیا گیا۔ اس طرح تحریکیں روکی نہیں جا سکتیں۔ درندگی کی بس کرو۔
اقبال آفریدی نے ایم این اے ڈیٹ کو جوتے کی نوک پر رکھ لیا
میں شیر افضل مروت نہیں ہو ایم این رہوں یا نا رہوں مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے میرا عقیدہ اسلام اور نظریہ تحریک انصاف ہے میں عمران خان کا پرانا ساتھی ہوں میں سمجھتا ہوں کہ میں ایک ورکر بھی ہوں تو مجھے نکلنا ہے کیونکہ میرے ساتھی عمران خان کے ساتھ اس وقت ظلم ہو رہا ہے آج بھی میں علیمہ خان کے لیے خیبر سے گاڑیوں میں لوگ لایا ہوں ۔
اقبال آفریدی کی مردان سٹریٹ موومنٹ میں گفتگو
ہمارے پاکستانی صحافیوں کی دور کی نظر کتنی تیز اور قریب کی نظر کتنی کمزور ہے
کہ بھارت میں حکومت کے خلاف احتجاج تو ان کو نظر آ گیا لیکن کشمیر والا احتجاج ان کو نظر نہیں آ رہا۔
بلوچستان کے ایشو پر میڈیا کو مکمل طور پر بات چیت سے روک دیا گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ظلم و جبر کو دبانا چاہتی ہیں اپنی ناکامیوں کو چھپانا چاہتی ہے۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ بلوچستان کے حق میں ضرور بولیں یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ بس اتنا ہی لکھ دیجیے
#بلوچستان_کو_جینے_دو
سب جانتے ہیں کہ عمران خان کی بہنوں کی یہ کوشش سیاست کے لیے نہیں بلکہ اپنے بھائی کی زندگی کے لیے اور اسکے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف ہے۔ مگر منافقین اسے سیاست قرار دیں گے۔
یہ کام عمران خان کے نام پر ووٹ اکٹھے کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والوں کو خود کرنا چاہیے تھا۔
کوئٹہ: زیارت شہداء دھرنا
پاکستان تحریکِ انصاف بلوچستان کے صوبائی صدر داؤد شاہ کاکڑ کا سانحۂ زیارت کے شہداء کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب۔
#بلوچستان_کو_جینے_دو
"ہماری تکلیف سمجھ لیں ہمیں عمران خان کی آنکھ کی فکر ہے ان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟ تحریک چلانے کا مطلب اس حکومت پر پریشر ڈالنا ہے تاکہ ان کا علاج ہو، عمران خان خود کبھی نہیں کہیں گے انہوں نے تو کہا تھا میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن وقت کے یزید کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا"علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
ماہرنگ بلوچ، صبغت شاہ جی اور قادر بلوچ کو انسداد دہشت گردی کے عدالت سے عمر قید کی سزا کی مذمت کرتا ہوں،پرامن جدوجہد اور اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے کو دہشت گردی قرار دے کر جمہوری آوازوں کو خاموش نہیں کیاجا سکتا؟؟ بلوچستان سے کشمیر تک حکومت/ ریاست ہارڈ سٹیٹ کی میں آڑ میں اندھا دھند غداری اور دہشت گردی کے لیبل لگا رہی ہے۔
خدارا ہوش کے ناخن لیں۔۔۔
تاریخِ امم کا یہ پیامِ ازلی ہے
صاحب نظراں ! نشۂ قوت ہے خطرناک۔