ترکی کے صدر کا کہنا ہے کہ
پاکستان نے مسلم ممالک کو تقسیم کرنے کے اسرائیلی شیطانی منصوبوں کو شکست دی
"بھائی کو بھائی کے خلاف لڑانے کے منصوبے ناکام ہو گئے۔ ترکوں، عربوں، کردوں اور فارسیوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوششیں ناکام رہیں۔
پاکستان مسلم ممالک کا بڑا بھائی ہے
Asim Munir was Pakistan’s most unpopular army chief since Yahya Khan for his role in removing Imran Khan from the power. Modi’s senseless air attacks on Pakistan in May 2025, helped Munir to gain popular support in Pakistan, as he managed to strike back forcefully with the support from China & forced Modi to accept Trump-dictated ceasefire. Overnight, he became a hero in Pakistan. In February 2026, when Trump, being tricked by Netanyahu attacked Iran and failed to get a quick victory, it gave Munir a grand opening to play the peacemaker role. He became the primary mediator, and brokered a deal between the US and Iran. Munir has now become a global statesman - Complete control of Pakistan politics, trusted by both Trump and Xi. The world hates Netanyahu and Netanyahu hates Munir the most. South Asia hates Modi and Modi hates Munir the most. The last one year has been a glorious year for Munir as well as for Pakistan!
Pakistan saved Iran, Pakistan saved Lebanon, Pakistan saved the Gulf economy, Pakistan brought the oil and gas prices down globally!
GREATEST DAY FOR PAKISTAN🇵🇰
یہ ایف ٹین کا واقعہ ہے اسلام آباد کا پوش علاقہ ہے گھر بھی تیس چالیس کروڑ سے اوپر کا ہو گا حکام بتا رہے کہ یہ لڑنے والے تینوں بہن بھائی ہیں جس آدمی نے عورت کو تھپڑ مارا وہ اس عورت کا بھائی ہے اور جائیداد کا جھگڑا ہے
بہنوں کا حصہ دیتے موت کیوں پڑتی ہے؟
السلام علیکم !!!
درود پاک پڑھ لیا ہے آپ سب نے؟
روزانہ درود پاک پڑھنے کی عادت اپنائیں اور اپنی زبان کو درود پاک سے مُعطر کریں۔
ملائک بھی سنتے ہیں جھکا کے اپنے سروں کو
جہـاں بھی ہـوتـی ہے اس شـافـعِ جـزا کی بات
💗 صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِہٖ وَسَلَّم 💗
ہمارے پاکستان کے لیے اعزاز کی بات یہ ہے کہ امن ڈیل کا اعلان ہمارے پرائم منسٹر نے کیا ہے اور اسے 190 ممالک نے اپنے چینلز پر چلایا ہے
انٹرنیشنل میڈیا یعنی جس انٹرنیشنل میڈیا پر مُلک دشمن شکایتیں لگاتے تھے وہی والا میڈیا
یوتھڑوں کی تقریباً تقریباً سڑ سُڑ گئ ہے
الله ولي عمر بن الخطاب في الدنيا والآخرة ، لا إله إلا اللہ
یعنی : الله عمر بن خطاب کا دنیا اور آخرت میں کارساز ہے الله کے سوا کوئی معبود نہیں
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا 1400 سال پرانا کتبہ مدینہ منورہ کے علاقے مہد الذہب سےدریافت❤️
سورہ یسین اور والدین !!!
سورہ یسین کی بہت طاقت ہے، یہ اللہ کے کلام کا دل ہے، اسے ایک بار پڑھنے سے دس بار قران پاک پڑھنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جو سورہ یسین روزانہ تلاوت کرے یہ اس کی محافظ ہے دشمنوں سے، قحط سے، لاچاری، بے بسی، غربت اور بیماری سے۔ اس کے لئے عافیت ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ ��ورہ یسین روزانہ کیسے پڑھی جائے تو اس کا مجھے ایک طریقہ یہ ملا کہ جب میری والدہ کا انتقال ہوا تو میں نے روزانہ ان کے لئے بطور تحفہ پڑھنی شروع کر دی۔ پہلے روزانہ گیارہ مرتبہ، پھر سات مرتبہ، چالیسویں تک تین مرتبہ اور اس کے بعد روزانہ ایک مرتبہ۔ ہم یہ سمجھیں کہ ہم اپنے والدین کو سلام کہہ رہے ہیں، ایک تحفہ پیش کر رہے ہیں تو یہ معمول بن جاتا ہے۔
ایک طرف قرآن پاک کی حلاوت ہے، اس کی تحریر میں روانی ہے۔ آپ اسے پڑھنا شروع کریں تو یہ خودبخود یاد ہونے لگتا ہے۔ میں یہ زمانہ طالب علمی میں سورہ رحمان اور سورہ واقعہ سمیت دیگر سورتیں بھی اسی طرح یاد کیں بغیر کسی ارادے اور بغیر کسی کوشش کے۔ سورہ یسین ہو سکتا ہے کہ اس کے پانچ رکوع شروع میں دس منٹ میں پڑھے جائیں مگر ایک ماہ کے اندر یہ وقت تین سے پانچ منٹ رہ جاتا ہے۔ منہ سے آیات ایسے نکلتی ہیں ہیں جیسے پانی روانی سے بہہ رہا ہو۔
میں کہہ رہا تھا کہ یہی سوچیں کہ ہم اپنے والدین سے دس پندرہ منٹ کی ملاقات کر رہے ہیں اور اس کے بعد تین، چار منٹ میں دس ��ران پاک پڑھنے کا ثواب ہدیہ۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ گاڑی چلاتے ہوئے پڑھ لی یا کسی ایک نماز کی سنتوں یا نفل کا حصہ بنا لیا جیسا کہ ظہر کی نماز میرے لئے دن کا آغاز ہوتی ہے تو اس کے لئے مسجد میں جماعت سے صرف دس منٹ پہلے پہنچ گئے، سات آٹھ منٹ میں سورہ یسین اس طرح پڑھی کہ پہلی دو رکعتوں میں دو دو رکوع، تیسری میں آخری رکوع اور آخری رکعت میں تین مرتبہ سورہ احد یعنی گیارہ مرتبہ قران پاک پڑھنے کا ثواب۔ اسے سال دو سال، دس بیس سال پڑھتے رہیں اور دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کیسی طمانیت عطا کرتے ہیں، لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت ڈالتے ہیں۔ آپ خواہش کرتے ہیں اور بند راستے کھل جاتے ہیں، تجربہ شر�� ہے۔
مجھے یہ خیال بہت پہلے تب آیا جب میں جامعہ مسجد منصورہ میں ایک نماز کے موقعے پر قاضی حسین احمد مرحوم و مغفور کے پی اے کے ساتھ بیٹھا تھا۔ وہ کہنے لگے نجم صاحب، ہم اپنے والدین کے احسانات کا کیا بدلہ دے سکتے ہیں یہی کہ کچھ تسبیح کر لیں، تین مرتبہ استغفار ہی کر لیں اور والدین کو ہدیہ کر دیں۔ یہاں سے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ جب ہم قیامت کے روز ملیں تو میری طرف سے بہت سارے تحائف ہوں۔ وہ مجھے دیکھ کے مسکرائیں خوش ہوں۔
جب سورہ یسین یاد ہو گئی تو کسی بھی جنازے میں جاتا ہوں یا قبرستان تو ایک مرتبہ پڑھ کے اس قبرستان کے مکینوں سے کہتا ہوں، یا اہل القبور یہ میری طرف سے تحفہ ہے۔ جب ہم قیامت کے روز ملیں تو میرے اس تحفے کو یاد رکھنا۔ اس سے دل کو بہت طمانیت ملتی ہے۔ میرے کچھ دوست یہی عمل مغرب کی نماز کے بعد کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس فراغت کا وہ وقت ہوتا ہے جبکہ میرا وہ وقت مصروف۔
یقین کیجئے ہم اپنے ��الدین کی محبت اور خدمت کا قرض نہیں چکا سکتے۔ ماں اور باپ دونوں کا ہی۔ ماں پالتی ہے تو باپ پالنے کے اسباب کرتا ہے۔ دونوں کا درجہ یکساں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کا فرمانبردار رکھے کہ ہم انہیں اُف تک نہ کہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو والدین کی زندگی میں ہی ان کی خوشنودی اور رضا حاصل کر لیتے ہیں اور کئی بدقسمت تو ان کی وفات کے بعد بھی اس نعمت کی اہمیت اور قدر نہیں جان پاتے۔ فیملی سسٹم میں ماں باپ سے ہی جڑے ہوتے ہیں۔ اگر والدین کی اطاعت کا نظام اللہ اور نبی کے احکامات کے مطابق چلتا رہے تو بہت سارے مسائل ختم ہو جائیں۔ مجھے فخر ہے کہ میں اسلامی اور پاکستانی معاشرے میں رہتا ہوں جہاں دس میں سے آٹھ، نو گھروں میں آج بھی بزرگ والدین کا راج ہے، اُن کا حکم چلتا ہے۔
نجم ولی خان
سعودی ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ کے علاقے المحاد میں ایک نایاب چٹان کی تحریر دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس تحریر پر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، اسلام کے دوسرے خلیفہ، کا نام درج ہے۔ اس میں یہ خوبصورت جملہ بھی شامل ہے: "اللہ دنیا اور آخرت میں حضرت عمر بن الخطاب کا مددگار ہے"۔
یہ دریافت ابتدائی اسلامی تاریخ کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ الفاظ حجازی رسم الخط میں لکھے گئے ہیں، جو اسلام کی پہلی صدیوں میں استعمال ہونے والے عربی رسم الخط کی قدیم ترین اقسام میں سے ایک ہے۔ علماء اور محققین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی دریافتیں ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی، ایمان اور تاریخی کردار کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کی خلافت 634 سے 644 عیسوی تک عدل، مضبوط نظامِ حکومت، عوام کی فلاح اور تجارت و حج کے راستوں پر امن کے قیام کے لیے یاد کی جاتی ہے۔
المحاد مدینہ کے قریب قدیم سفری راستوں پر واقع ہے۔ اس طرح کی چٹانی تحریریں ماضی کا براہِ راست ثبوت ہیں۔ انہیں اسی دور کے لوگوں نے تراشا تھا۔ سعودی ہیریٹیج کمیشن اب ویژن 2030 کے تحت اسلامی اور عرب ورثے کے تحفظ کے لیے اس تحریر کا مطالعہ اور حفاظت کر رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو اسلام اور امت کی عظیم خدمات کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین
اگر تو آزاد کشمیر میں تعینات بریگیڈیئر فائق ایوب وہی ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ انہیں ایٹمی پاکستان سے جنونیوں سے بھی زیادہ محبت اور وابستگی ہے تو پھر یقین رکھیں، وطن عزیز محفوظ اور دانشمندانہ ہاتھوں میں ہے اور آزاد کشمیر میں فتنہ و فساد پھیلانے تو کسی کھیت کی مولی ہی نہیں ہیں بریگیڈیئر فائق ایوب جیسے جوانوں کے آگے۔۔۔۔
Long Live #Pakistan
ایک ایسا منظر جس نے ہزاروں دلوں کو چھو لیا۔
نماز کے دوران اپنے والد کو جذباتی انداز میں دعا کرتے دیکھ کر ننھی بچی بھی رو پڑی اور معصومیت سے ان کے ساتھ دعا مانگنے لگی۔
ادویات کی قیمتیں کم کریں
کچھ عرصہ پہلے تک ہیپاٹائٹس سی تقریباً لاعلاج یا انتہائی مشکل مرض سمجھا جاتا تھا۔ پاکستان اور مصر دنیا کے اُن ممالک میں شامل تھے جہاں اس بیماری کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور ہزاروں لوگ اس کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے۔
پھر ایک انقلابی دوا “سوفوسبوویر (Sofosbuvir)” آئی برانڈ نام Sovaldi تھا جس نے ہیپاٹائٹس سی کے علاج کا نقشہ ہی بدل دیا۔ امریکہ میں ابتدا میں اس دوا کے صرف 12 ہفتوں کے کورس کی قیمت تقریباً 84 ہزار ڈالر تھی، لیکن دوا بنان�� والی کمپنی نے پاکستان، مصر اور دیگر غریب ممالک کو اس کے سستے جینرک ورژن بنانے کی اجازت دی۔ نتیجتاً یہی علاج چند ہزار روپے میں دستیاب ہو گیا اور لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچ گئیں۔
دنیا بھر میں بڑی فارما کمپنیاں اکثر غریب ممالک کے لیے جان بچانے والی ادویات پر خصوصی رعایت دیتی ہیں تاکہ زیادہ ��ے زیادہ مریض علاج حاصل کر سکیں۔ لیکن پاکستان میں ادویات پر مختلف ٹیکسوں، بلند پیداواری اخراجات اور قیمتوں کے نظام کی وجہ سے بہت سی دوائیں ضرورت سے زیادہ مہنگی ہو جاتی ہیں۔ بعض اوقات وہی دوا پڑوسی ممالک، خصوصاً بھارت، کے مقابلے میں بھی زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی ہے۔ادویات پر صفر ٹیکس ہونا چاہیے
پاکستان جیسے غریب ملک میں جہاں لاکھوں لوگ علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، وہاں ادویات کو ممکنہ حد تک سستا اور قابلِ رسائی بنانا قومی ترجیح ہونی چاہیے
شہری آبادیوں سے جب کبھی پہاڑوں کی دنیا میں جانا ہو تو ہم بڑی بڑی چٹانوں پر اکثر عاشقوں کے نام کا پہلا حرف، کسی دل جلے کا کوئی شعر یا پھر کوئی ایسا جملہ کندہ دیکھتے ہیں جو شاید لکھنے والے کے لیے بہت اہم رہا ہو۔ پہاڑ اپنی اونچائی کی طرح بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے ان الفاظ کو صدیوں تک اپنے سینے میں محفوظ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چٹانوں پر کندہ بعض تحریریں محفوظ ہو کر ، وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ کا اہم ترین حصہ بن جاتی ہیں۔
حال ہی میں سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ منورہ کے علاقے المحاد میں ��ودہ سو سال ��بل کے دور سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی ہی نایاب چٹانی تحریر دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر خلیفہ دوم حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا نام درج ہے۔ چٹان پر لکھی مکمل عبارت یہ ہے:
الله ولي عمر بن الخطاب في الدنيا والآخرة، لا إله إلا الله
ترجمہ:
اللہ دنیا اور آخرت میں عمر بن الخطاب کا کارساز ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ عبارت حجازی رسم الخط میں لکھی گئی ہے جو اسلامی دور کے ابتدائی زمانے میں رائج عربی رسم الخط کی قدیم ترین شکلوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دریافت کو صرف ایک چٹانی نقش نہیں بلکہ ابتدائی اسلامی تاریخ کا ایک اہم مادی ثب��ت سمجھا جا رہا ہے۔
اس عبارت کے بارے میں مختلف امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ کسی مسلمان مسافر نے سفر کے دوران عقیدت یا دعا کے طور پر چٹان پر لکھی ہوگی۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق براہ راست حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے سے ہو سکتا ہے۔ اگر مستقبل میں تحقیق سے یہ ثابت ہو جائے کہ یہ تحریر واقعی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دست مبارک سے لکھی گئی تھی تو یہ دریافت اب تک سامنے آنے والی ابتدائی اسلامی دور کی چٹانی تحریروں میں سب سے اہم دریافتوں میں شمار کی جا سکتی ہے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ حجاز کی سرزمین سے اس نوعیت کی کوئی اہم عبارت دریافت ہوئی ہو۔ اس سے قبل حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک چٹانی تحریر نے بھی ماہرین آثارِ قدیمہ اور مؤرخین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تھی۔
اس عبارت میں لکھا تھا:
اللهم اغفر لزيد بن ثابت ولمن قرأ هذا الكتاب ثم قال آمين آمين رب العالمين رب موسى وهارون
ترجمہ:
اے اللہ! زید بن ثابت کو بخش دے اور اس شخص کو بھی جو اس تحریر کو پڑھے پھر آمین کہے۔ اے تمام جہانوں کے رب! اے موسیٰ اور ہارون کے رب۔
مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ اور حجاز کے مختلف علاقوں سے اب تک سینکڑوں چٹانی نقوش، دعائیں، قرآنی آیات، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام اور قدیم عربی تحریریں دریافت ہو چکی ہیں۔ ان میں سے بعض تحریریں قافلوں کے قدیم راستوں کے قریب ملی ہیں جبکہ بعض دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں موجود ہیں جہاں کبھی مسافر آرام کیا کرتے تھے۔
یہ دریافتیں ہمیں صرف چند نام یا جملے نہیں دیتیں بلکہ اس دور کے لوگوں کی سوچ، عقائد، زبان اور طرزِ زندگی کی جھلک بھی دکھاتی ہیں۔ کتابوں میں لکھی تاریخ اپنی جگہ اہم ہے لیکن جب اسی دور کا کوئی نقش، کوئی نام یا کوئی دعا پتھر پر کندہ حالت میں سامنے آتی ہے تو ماضی سے ربط براہ راست محسوس ہونے لگتا ہے۔
جس شخص نے یہ الفاظ چٹان پر کندہ کیے ہوں گے اس نے شاید کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ چودہ سو سال بعد اس کی لکھی ہوئی یہ مختصر سی عبارت دنیا بھر کے محققین، مؤرخین اور عام لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جائے گی۔
اس کے ہاتھوں سے تراشے گئے یہ چند الفاظ وقت کی گرد، بارشوں، تیز ہواؤں اور صدیوں کے طویل سفر کے باوجود آج بھی باقی ہیں جبکہ اس دور کے بے شمار مکانات، بازار، قافلے اور ان سے ��ابستہ لوگ تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہو چکے ہیں۔
وقت گزر جاتا ہے، لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن کچھ نشانات لوگوں کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے درمیان ان کو زندہ رکھتے ہیں۔
آپکو پتا ہے کہ
شہد کی نر مکھی کر عربی میں "نحل" کہتے ہیں اور اسکے اندر قدرتی 16 کروموسوم ہوتے ہیں۔ قران پاک میں بھی سورت "النحل" 16 ویں سورت ہے اور جس آیت میں نحل یعنی شہد کی مکھی کا ذکر ہے اُس آیت کے شروع سے "النحل " تک حروف بھی 16 بنتے ہیں۔
اللہ اکبر 😍❤️
مدينہ منورہ کے قریب سعودی عرب 🇸🇦 میں آثار کے ماہرین نے 1400 سال پرانی تختیوں کی دریافت کی ہے جن پر سورۃ الاخلاص لکھی ہوئی ہے!
مدینہ منورہ کے قریب سعودی عرب 🇸🇦 میں آثار کے ماہرین نے صخاوی نقوش کی دریافت کی ہے جن پر سورۃ الاخلاص درج ہے: