پیٹرول 458 روپے، ڈیزل 520 روپے، ایک متوسط آدمی بچوں کو سکول لانا، لے جانا اور آفس آنا جانا کرے باقی کچھ بھی نہ کرے تو ایک محتاط اندازے کیمطابق روزانہ 5 ہزار کا پیٹرول جلائے گا، بتایئے رہ گیا کوئی جینے کے قابل؟ پوری دنیا میں ملکوں نے پیٹرول پر ٹیکس کم کر کے اپنے لوگوں کو ریلیف دیا ہے لیکن یہ عوام دشمن فارم 47 والی حکومت نے غریب عوام کا جینا حرام کر دیا ہے، قوم سکتے میں آ گئی ہے، بہانہ IMF کا کیا جا رہا ہے، آئی ایم ایف نے ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کے مفت پیٹرول پر اعتراض نہیں کیا؟ چیک کر لیں انہیں جنریٹروں کیلئے پیٹرول بھی مفت مل رہا ہے، ہمیشہ چھری عوام کی گردن پر پھیری جاتی ہے، یہ عوام دشمن حکمران غریبوں کو خود سوزی اور خود کشی پر مجبور کر رہے ہیں