مراد سعید کا پیغام | 13 اکتوبر 2026 - پہلے پیغام
[انگریزی سب ٹائٹلز - اردو بیان]
"آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا تو کر دیا ہے، مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑے گا۔"
کل کو جب ان کے لائے ہوئے دہشت گرد آپ کو اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنائیں گے اور آپ کی پشت پر یہ قوم نہیں ہوگی، تب آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی تنخواہوں اور ترقیوں کی کوئی وقعت نہیں۔
آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی تو سوال پوچھتے کہ کسی کی ہمت کیسے ہوئی آپ کی عملداری میں آ کے آپ کے 4 کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو کو اغوا کرنے کی؟ خاموشی سے بے گھری اور بے بسی کی موت قبول کرنا بند کریں۔
#FreeImranKhan
#SubtitledByPTI | #MuradSaeed
@MuradSaeedPTI
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
آج مجھے ہاؤس اریسٹ سے رہا کر دیا ہے۔ اس سے تمہیں کیا فائدہ ہوا ہے؟ کیا تم مجھے روک سکے ہو؟
میں فوج اور فوجیوں کی عزت کرتا ہوں، لیکن نہ عاصم منیر کو فوجی مانتا ہوں اور نہ انہیں فوج۔
میرے ساتھ چلنے والے غریب لوگوں پر ٹارچر کیوں کیا؟ اپنا زور انڈیا پر دکھاؤ! بلوچستان میں دکھاؤ! طالبان کے خلاف دکھاؤ! غریب کو مارنے سے طاقتور نہیں ہوجاؤ گے۔
ہمارے محسنوں پر انہوں نے ظلم کیے ہیں۔ قائدِاعظم سے لے کر مشرقی پاکستان تک، ایک ایک کا حساب تم سے لوں گا۔ جب تک میری سانس ہے اور جب تک تمہاری سانس ہے، یہ جنگ جاری ہے۔
یہ ہے ابوبکر کا بھائ قاری بلال جو دہست گرد ہے جس کو کل کا اٹھایا ہے ابھی تک کوئ پتا نہیں جرم یہ ہے میرا بھائ ہے امام مسجد ہے اس نے کوئ آئن نہیں توڑا کوئ الیکشن نہیں چوری کیا کسی ماں کے بیٹے کو گولیاں نہیں ماری کوئ 53ارب کی کرپشن نہیں کی بلکے بچوں کو اللہ کا کلام سیکھاتا ہے اور گھر سے اغوا کر لیا مدرسہ بند بچوں کی تعلیم بند ہے
8 فروری 2024 کو خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے کے لیے 3 ہزار سے زیادہ امیدواروں نے اپلائی کیا، ہر ایک نے کہا کہ میں ہی ٹکٹ کا اصل حقدار ہوں، ان تین ہزار میں سے اس وقت گراونڈ پر صرف دو اور سوشل میڈیا پر کل سات ایکٹیو ہیں، باقی سب کہاں گئے؟ ٹارگٹ ان تین چار کو کیا جارہا ہے جو اکتوبر 2024 ، نومبر 2024 اور ستمبر 2026 میں مسلسل ایکٹیو تھے، وہ تین ہزار امیدوار کہاں ہیں؟ اور یہی تین ہزار اگلے الیکشن میں پھر ٹکٹ کے لیے درخواست دیں گے کہ ہم ہی ٹکٹ کے اصل حقدار ہیں
مراد سعید، سہیل آفریدی یا کسی بھی ساتھی کے خلاف الزام تراشی سے گریز کریں۔ ایک ایک کر کے سب کو نشانہ بنانا ہی حکومتی بیانیے کا مقصد ہے۔ اختلافات کو تقسیم کا ہتھیار نہ بننے دیں۔
ان کی چال تقسیم، ہمارا جواب اتحاد!
کوئی ابہام نہ رہے۔ سہیل آفریدی ایک بہادر نوجوان ہے جو عمران خان صاحب کے نظریے پہ ثابت قدم کھڑا ہے۔ تاہم لانگ مارچ کے انتظامی معملات کا تنقیدی جائزہ ضروری ہے۔ یہ جائزہ سہیل آفریدی کے خلاف سازشی بیانیوں کا جواب دینے کیلئے ضروری ہے۔ کور کمیٹی میں گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر اور توڑ مروڑ کر پیش کرنا سازشی بیانیوں کا حصہ ہے۔
Do not get involved or fall into the trap of blaming and attacking the likes of Murad Saeed, Sohail Afridi or anyone else for that matter. This narrative is being pushed by the regime, with the aim of picking us off one by one.
Instead, stand by your party, its leaders and your colleagues with grace, dignity and unity.
Take careful note of those pushing the regime’s agenda by creating further divisions and chaos under the guise of blame games.
Dividing us is their strategy. Standing united MUST be ours!
جب بن سکی نہ بات ،کوئی ہیر پھیر سے،
کتے لڑا دئیے گئے ، جنگل کے شیر سے۔
بھونک بھونکتے رہو۔۔چاند پھر بھی چاند رہے گی،
بھونک۔۔ورنہ قصائی تمہیں ذبح کرے گی۔
جن کرنل صاحب کی ڈیوٹی تھی کہ ایک لسٹ بنائیں، اُس نے جلدی میں خیبر پختونخوا میں غیر آئینی مشاورتی کونسل میں ایک ایسے شخص کا نام شامل کیا جو کئی سال پہلے دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہو گئے تھے۔ یہ ٹولہ بار بار عمران خان کو درست ثابت کر رہا ہے کہ یہ ڈاکو ڈفر الائنس ہے۔
پاکستان کے باشعور عوام جانتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت، جو ملک کی واحد جائز حکومت تھی، کا خاتمہ کبھی بھی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے نہیں تھا۔
#DakooDufferAlliance
باڑہ میں پولیس فائرنگ سے زخمی ہونے والے کمسن ہابیل ولد عبدالغفور کی شہادت پر دلی افسوس اور دکھ ہے۔ ہابیل احتجاج کا حصہ نہیں تھا بلکہ ایک ہوٹل میں مزدوری کرکے اپنے خاندان کا سہارا بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایک غریب محنت کش بچے کا یوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا انتہائی افسوسناک ہے۔ واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ شہید ہابیل کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
باڑہ میں پولیس فائرنگ سے ایک بے گناہ محنت کش نوجوان، ہابیل ولد عبدالغفور، سکنہ عزیز مارکیٹ اکاخیل، شہید ہوگیا۔ افسوس کہ وہ احتجاج کا حصہ بھی نہیں تھا بلکہ ایک ہوٹل میں مزدوری کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پال رہا تھا۔
آخر اس کا قصور کیا تھا؟ کیا غریب نوجوان کو محنت کرکے روزی کمانے کا بھی حق نہیں؟
اس نوجوان کے قتل کے ذمہ دار گورنر راج لگانے کے تمام افراد ہیں، جن میں پولیس، فیصل کریم کنڈی اور ان کے ہینڈلرز شامل ہیں۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی حراست اور ان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ ان کے حفاظتی تحویل میں ہونے کی اطلاعات اور بازیابی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہونے کے بعد حکومت کی ذمہ داری ہے کہ صورتحال پوری طرح واضح کرے۔
کونسل حکومت اور متعلقہ حکام سے سوال کرتی ہے: سہیل آفریدی اس وقت کہاں ہیں، کس ادارے کی تحویل میں ہیں اور انہیں کس قانونی بنیاد پر رکھا گیا ہے؟ اگر وہ زیرِ حراست ہیں تو انہیں عدالت کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا جا رہا؟ ان کی سلامتی، اہلخانہ سے رابطے اور وکیل تک رسائی کے بارے میں واضح معلومات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں؟
کسی صوبے کے سابق وزیراعلیٰ کی موجودگی اور قانونی حیثیت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر سنگین تشویش پیدا کر سکتی ہے۔ جب ایک نمایاں عوامی نمائندے کے حوالے سے ایسے سوالات جواب طلب ہوں تو عام شہری اپنے تحفظ کے بارے میں کیا اطمینان رکھے؟
’’حفاظتی تحویل‘‘ کی اصطلاح عدالتی نگرانی، شفافیت اور جواب دہی کی ضرورت ختم نہیں کرتی۔ سیاسی اختلاف کسی بھی شخص کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ سہیل آفریدی کی موجودگی، صحت اور حراست کی قانونی بنیاد فوری طور پر واضح کی جائے، انہیں بلا تاخیر مجاز عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور اہلخانہ و وکلا سے ملاقات یقینی بنائی جائے۔ اگر ان کی حراست کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔
عوام کو خاموشی نہیں، واضح جواب چاہیے۔ ہر شہری کی آزادی، عزت اور سلامتی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ترجمان
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan)
#HRCPakistan #SohailAfridi #HumanRights #RuleOfLaw
پیر کے روز انشاءاللہ پشاور یونیورسٹی میں متحدہ طلباء محاذ کا عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ ہوگا ۔طلبہ کے بازیابی کیلئے انشاءاللہ ہر صورت احتجاج کریں گے
پشاور یونیورسٹی اکیڈیمیک بلاک
ایسی کہانیوں پے حیرانگی ہوتی ہے یہ سب کیسے کر لیتے ہیں ۔۔
11 اکتوبر سے ایک ہفتے پہلے اور 11 اکتوبر سے اب تک حکومت وقت کے وزرا گورنر لیڈر شپ سب نے یک زبان ہو کر پوری دنیا کو بتایا ہے ٹی وی چینلز پر پریس کانفرنسز چلیں ہیں کہ خیبرپختونخواہ میں اتنی دہشتگردی ہے اتنی دہشتگردی ہے کہ منتخب حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام ہو گئی ہے اس لئے ہمیں مجبوری میں ایمرجنسی و گورنر راج کا اختیار استعمال کرنا پڑا
اتنے تمغے خیبرپختونخواہ کے چہرے پر سجانے کے بعد آج گورنر کے پی دعوت دے رہے ہیں کہ غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کار ، خیبرپختونخواہ میں سرمایہ کاری کریں
اب بندہ پوچھے پہلے تو سرمایہ کاری کی بات تب آئی جب یہ نظام آچکا پیلے تو بتایا گیا تھا دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ہم آرہے ہیں
دوسری بات یہ کہ جب آپ نے خود یہ بیانیہ پھیلایا کہ کے پی دہشتگردی زدہ ہے تو اس صورت میں کیسے سرمایہ کار آئے گا ؟؟
تیسرا یا پھر چھ دنوں میں کیا دہشتگردی ختم ہو گئی ہے جو سرمایہ کار کو بلا رہے ہیں ؟؟؟
پشاور: خیبر پختونخوا میں لانگ مارچ کی نگرانی کے لیے ایکشن کمیٹی قائم، ایم این اے اقبال آفریدی کمیٹی کے سربراہ مقرر۔
کمیٹی کے ارکان میں شاہد خٹک، عبدالغنی آفریدی، مینا خان آفریدی، شفیع جان، کامران بنگش، تیمور سلیم جھگڑا، عرفان سلیم، شکیل خان، آئی ایس ایف اور یوتھ کے صدور سمیت تمام ریجنز اور اضلاع کے صدور و جنرل سیکریٹریز شامل ہیں۔
جنید اکبر اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری کے بعد یہ کمیٹی لانگ مارچ کی نگرانی کرے گی۔
زنجیروں میں جکڑے پی ٹی آئی کے نہتے کارکنوں کی ضمانتوں کے بعد مچلگے جمع ہورہے ہیں!!
پشاور ہائی کورٹ آئی ایل ایف کے وکلا کا بہت شکریہ ضمانت بھی دلوائی، کھانا بھی کھلایا اور دوا بھی دی، سلامت رہیں
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدام کے خلاف 20 اکتوبر کو پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوگی۔تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ سماعت کی براہِ راست کوریج کے لیے بھی ایک متفرق درخواست دائر کرے، تاکہ پوری قوم دیکھ سکے کہ وفاقی حکومت عدالت میں دہشت گردی کو بنیاد بنا کر گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حق میں کیا دلائل دیتی ہے، اور یہ اقدام کیوں اور کن وجوہات کی بنا پر ضروری قرار دیا گیا۔
مریم نواز، طلال چودھری، خواجہ آصف، عظمیٰ بخاری کی تنقید کے بعد مولانا فضل الرحمان کا لاہور سے جواب، پوچھ رہے ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کے پرانے بیانات کس کھاتے میں جائیں گے ؟؟؟ ویسے یہ پریس کانفرنس قومی میڈیا پر نہیں چل رہی
میرا آج بھی وہی مطالبہ ہے انشاءاللہ آرٹیکل چھ ہی لگےگ زہنی مریض پے جب تک زندہ ھین سچ کا ساتھ دیں گئےساری فیملی بھی اٹھا کے مار بھی دے پیچھے نہیں ہٹنے والا