مجبور بیٹی Food Panda رائیڈر!!💔
پاکستانی بیٹیوں کو سلام!!
لیکن پیٹرول اتنا مہنگا کیا ہؤا ہے, کہ اگر بیٹیاں بھی محنت مزدوری کرے تو مہنگے پیٹرول کی وجہ سے اتنے پیسوں سے گزرا نہیں ہوتا!!
اب انسان کیا کہہ سکتا, بس ان ظالموں کا انجام دیکھنے والا ہوگا انشاء اللہ
مریم نواز جب حکومت میں نہیں تھیں تو جاوید ہاشمی کے گھر پر حملے پر شدید مزمت کرتی تھی اور جب حکومت میں آئیں تو انہیں کی سرپرستی میں ہی چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہورہا ہے، اس وقت بدعائیں دیتی تھیں
میں تو سب کچھ بھگت کے آیا ہوں اور بھگت رہا ہوں لیکن میں بڑا خوش ہوں کہ چیزیں ایکسپوز ہو گئیں ہیں اور آپ کو بھی چیزیں سمجھ آگئیں ہیں
جسٹس محسن اختر کیانی
پنجاب پولیس کی بے حسی کا اندازہ لگائیں!!
ملتان میں نوجوان کو قتل کیا گیا ہے💔
جب مقتول کی بہنیں پولیس اسٹیشن گئی تو پولیس والے, مقتول کی بہنوں کا مذاق اڑاتے ہیں, اور انکی ویڈیوز بناتے ہیں!!
🚨سندھ میں یہ معمولی بات سمجھی جاتی ہے
میں غریب ہوں میری بیٹی کو جب غنڈوں کادل چاہتاہے اٹھاکر لے جاتے ہیں
لڑکی کاوالد مسلسل رورہاکتنامجبورایک غریب باپ اسکے پاس رونےکے علاوہ کچھ نہیں
کیا غریب کی بیٹی کی کوئی عزت نہیں؟
"I don't want the real Fungsuk Wangdu to die"
Chatur from 3 Idiots calls for support for Sonam Wangchuk & appeals to listen to his cause!!
Finally people are speaking up !!
توشہ خانہ میں خان پر جس گھڑی کا جھوٹا الزام لگایا گیا یاسر شامی اس جھوٹ کو سامنے لے آیا گھڑی خریدنے کا دعویٰ کرنے والے فاروق نامی شخص کا جھوٹ بھی بے نقاب کر دیا✊
اللہ تعالیٰ یاسر شامی کی حفاظت فرمائے آمین
میری 15 سالہ بیٹی گزشتہ 14 دن سے لاپتا ہے، لیکن پولیس ہماری کوئی مدد نہیں کر رہی۔ SHO نعیم اعجاز نے بھی تعاون نہیں کیا۔ میں CPO کے پاس بھی گئی، مگر انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ SHO کے پاس جائیں۔ اس کے باوجود SHO نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔ آج میری بیٹی کو لاپتا ہوئے 14 دن ہو چکے ہیں، مگر پولیس اسے تلاش کرنے کے لیے ذرا سی بھی کوشش نہیں کر رہی۔ میری سب سے گزارش ہے کہ خدارا میری بیٹی کو ڈھونڈنے میں میری مدد کریں۔ — گوجرانوالہ سے ایک ماں کی فریاد
@hinaparvezbutt@MaryamNSharif@OfficialDPRPP@GovtofPunjabPK
ابو فوت ہو گئے ہیں کوئی کمانے والا نہیں ریڑھی لگاتا ہوں تو وارڈن والے اٹھا لیتے ہیں
گھر میں اس قدر فاقے ہیں ہمیں زہر کے ٹیکے لگا کر ما دیں معصوم بچہ رو پڑا
لاہور،اچھرہ میں 11 سالہ گھریلو ملازمہ پر والد کا تشدد۔بچی ایک آفیسر کے گھر میں کام کرتی تھی مبینہ چوری کی شکایت پر والد نے اسی گھر میں بیٹی پر تشدد کیا۔اہلِ علاقہ کی اطلاع پر پولیس نے ملزم والد کو حراست میں لے لیا،سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کیا جا رہا ہے
#lahore#domesticworker
رات 12 بجے کے قریب جب میں ترامڑی چوک میں واقع کوئٹہ آرم باغ کیفے میں چائے پینے کے بعد بل ادا کرنے کے لیے کاؤنٹر پر گیا تو ہوٹل کے مالک امداد خان نے ایک ایسی کہانی سنائی جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا
انہوں نے سامنے ایک ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “یہ بچہ گزشتہ چار سے پانچ گھنٹوں سے یہاں بیٹھا ہے۔ اس کا باپ کھانا کھانے کے بعد 640 روپے کا بل ادا نہ کر سکا۔ اس نے اپنی گھڑی اتار کر مجھے دی اور کہا کہ میرے پاس اس وقت پیسے نہیں، آپ گھڑی رکھ لیں
امداد خان نے بتایا کہ انہوں نے گھڑی لینے سے انکار کیا تو اس شخص نے کہا، “میرا بیٹا یہیں بیٹھا ہے، میں صرف پانچ منٹ میں پیسے لے کر آتا ہوں، پھر بل بھی ادا کر دوں گا اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے جاؤں گا
مگر وہ پانچ منٹ گھنٹوں میں بدل گئے
میں بچے کے پاس گیا اور پوچھا، “بیٹا، آپ کہاں سے ہو؟ آپ کا نام کیا ہے؟
وہ خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور بے یقینی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ شاید وہ اجنبی لوگوں سے بات کرنے سے گھبرا رہا تھا یا پھر اپنے باپ کے انتظار میں گم تھا
کچھ دیر بعد میں نے اس سے صرف ایک سوال کیا، “بیٹا، کھانا کھایا ہے؟
اس نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا
آہستہ آہستہ جب وہ کچھ مانوس ہوا تو میں نے دوبارہ اس سے گھر کے بارے میں پوچھا۔ اس بار اس نے اپنے گھر کا پتا بتا دیا
پھر میں، امداد خان، ان کے چند دوست اور ان کے بچے، اس معصوم کو اس کے بتائے ہوئے پتے پر چھوڑنے نکل پڑے
وہاں پہنچ کر پڑوسیوں سے معلوم ہوا کہ بچے کے والدین الگ الگ رہتے ہیں۔ اس کا والد وقاص خان، جو پیشے کے لحاظ سے پینٹر ہے، ایک گھر کے کرائے کے کچن میں رہائش پذیر ہے اور بچہ بھی اسی کے ساتھ رہتا ہے
جب ہم وہاں پہنچے تو وقاص خان گھر پر موجود نہیں تھا۔ کافی انتظار اور تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ آخرکار بچے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے تھانہ شہزاد ٹاؤن کی پولیس کے سب انسپکٹر انور کے حوالے کر دیا گیا تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے اور اس کے والد تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے
یہ واقعہ صرف 640 روپے کے ایک بل کی کہانی نہیں، بلکہ اس معاشرے کی تلخ حقیقت ہے جہاں غربت انسان کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جن کا تصور بھی تکلیف دہ ہے۔ ایک معصوم بچہ گھنٹوں اپنے باپ کے انتظار میں خاموش بیٹھا رہا، اور شاید اسے یقین تھا کہ اس کا باپ ضرور واپس آئے گا
افسوس اس بات کا ہے کہ اسی ملک میں ایک طرف اشرافیہ اربوں روپے کے نئے جہاز خریدنے میں مصروف ہے، جبکہ دوسری طرف اسی ملک کے عام لوگ ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے بھی شدید مجبوری کا شکار ہیں۔ جب ریاست کی ترجیحات بدل جائیں تو ایسے ہی دردناک مناظر جنم لیتے ہیں!!
صحافی مشرف ضیاف ستی کی تحریر 💔
حاصل پور شہر میں میاں اور بیوی نے مل کر پہلے دونوں بچوں کو زہردیا انکو مار کر خود بھی
زہرپی لیا ذرائع سےمعلوم ہوا ہے کہ کرائے کےمکان میں رہتےتھے میاں بیوی کام ناملنے کی وجہ سے پچھلے تین ماہ سے کرایا نہیں دے سکےتھے۔ مکان مالک نے گھرخالی کرنےکاکہ رکھا تھا۔ اوپرسے 17500بجلی کابل واپڈاوالوں نے بھیج دیابجلی میٹراوتارکرلےگئے اوربچوں نے دودھ لانے کی ضد کی میاں بیوی نے بچوں سمیت اپنےآپ کو ہمیشہ کیلئےختم کردیا۔ذرائع
ان کی موت کا ذمہ دار کون ؟؟
فیصلہ قوم کے ھاتھ
(لوگ مر رہے ہیں مگر کرپٹ نظام کے خلاف نہیں نکلتے)😭😭🚨🚨🚨💔💔
इन बच्चों की पूरी दुनिया उजड़ गई… इससे बड़ा दुख और क्या होगा, जब बच्चों के सिर से मां बाप दोनों का साया ही उठ जाए।😢
सरस्वती देवी अपने बीमार बच्चों बेटी आरती और बेटे अमित का इलाज कराने अस्पताल पहुंची थीं, लेकिन इलाज के दौरान अचानक उनकी तबीयत बिगड़ गई और डॉक्टरों ने उन्हें मृत घोषित कर दिया ,
बताया जा रहा बच्चों के पिता पहले ही परिवार को छोड़ चुके थे ,मां की मौत के बाद दोनों मासूम घंटों तक अस्पताल में अपनी मां के शव के पास भूखे-प्यासे बैठे रोते रहे ,
उन्हें यह भी नहीं पता था कि मां जिंदा है भी या नहीं, अब यह वीडियो सोशल मीडिया पर तेजी से वायरल हो रहा है ,
वीडियो देखने के बाद लोग भावुक हो रहे हैं।
لودھراں میں افسوسناک واقعہ، 23 سالہ اقرار اسلام آباد میں ایلومینیم کی دکان پر کام کرتا تھا، ماں کے پاس گیا ہوا تھا جو سلائی کڑھائی کا کام کرتی تھی، بجلی کا بل لگاتار دوسرے مہینے 10 ہزار سے زائد آیا تو ماں نے اپنا موبائل فروخت کرکے ادا کیا، لڑکے سے ماں کی بے بسی دیکھی نہیں گئی، ماں سے معافی مانگی اور خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی،جسم کا 75 فیصد حصہ متاثر ہوا،
20 گھنٹے ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔
اج پیسے لبھ جان گے، بچیاں واسطے کوئی چنگی شے بنا لئیں ۔۔۔۔۔ !! ہائے غربت ۔۔۔۔۔۔بیوی کو یہ جملہ کہہ کر گھر سے نکلنے والا محنت کش اپنے بڑے بیٹے سمیت جان بحق۔۔ خوشاب میں کل پیش آیا ایسا واقعہ کہ ہر آنکھ نم ہو گئی ۔۔۔ محنت کش اور اسکا 12 سالہ بیٹا دیگر اہل خانہ کی روزی روٹی کا انتظام کرنے گھر سے نکلے تھے ، شہر کے نواح میں انہیں ایک سوئمنگ پول کی صفائی کا کام مل گیا ، سوئمنگ پول میں صفائی کےدوران پانی میں اچانک کرنٹ آگیا ۔ موٹر شارٹ ہو گئی یا کوئی تار پانی میں گر گئی جسکے باعث کرنٹ لگنے سے دونوں باپ بیٹا سوئمنگ پول کے پانی میں ہی دم توڑ ہو گئے ۔ اللہ کریم مرحومین کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر عطا کرے آمین