اوریا صاحب ولی اللہ بنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں دوران حراست مشورہ دیا گیا کہ ہفتے میں ایک مرتبہ کوئی عورت منگوا لیا کرو۔۔۔یہ ابھی تک دوسروں کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔جہنوں نے گرفتار کیا انہیں ان کے شوق بھی معلوم تھے
فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے میڈیکل کالج کے ENT ڈیپارٹمنٹ نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے—50 بچوں کی سماعت کو کوکلیئر امپلانٹ کے ذریعے بحال کر دیا گیا ہے۔
دو سال پہلے، فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے فاؤنڈیشن یونیورسٹی میڈیکل کالج نے ایک سنگ میل عبور کیا جب ENT اسپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹر نصرت رضا اور ان کی ٹیم نے پانچ سالہ انس کا کوکلیئر امپلانٹ کامیابی سے کیا، جس سے وہ سننے کے قابل ہو گیا۔ اب تک ڈاکٹر نصرت رضا اور ان کی ٹیم 50 بچوں کو دوبارہ سننے کی صلاحیت لوٹا چکی ہے۔
کوکلیئر امپلانٹ ایک جدید طریقۂ علاج ہے، جو پیدائشی یا کسی بیماری کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ آلہ اندرونی کان میں لگایا جاتا ہے تاکہ متاثرہ افراد دوبارہ سن سکیں، معمول کی زندگی گزار سکیں اور آوازوں کو پہچان سکیں۔
3 مارچ، جو کہ عالمی یومِ سماعت ہے، اس موقع پر فاؤنڈیشن یونیورسٹی نے اپنے 50 ویں مریض کی سماعت کی بحالی کا جشن منایا۔ یہ کامیابی نہ صرف فاؤنڈیشن یونیورسٹی بلکہ پاکستان کے طبی شعبے کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ہے۔
فاؤنڈیشن یونیورسٹی اعلیٰ معیاری تعلیم، جدید طبی تحقیق، اور عالمی معیار کی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ تدریسی اسپتال میں جدید ترین طبی آلات اور ماہرین کی موجودگی مریضوں کو مؤثر اور معیاری علاج کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
فاؤنڈیشن یونیورسٹی کا وژن تحقیق، معیاری تدریسی طریقوں، اور جدید طبی سہولیات کے ذریعے صحت اور تعلیم کے شعبے میں مثبت تبدیلی لانا ہے، اور کوکلیئر امپلانٹ پروگرام اس مشن کا عملی ثبوت ہے۔
تقریب میں ریکٹر، فاؤنڈیشن یونیورسٹی میڈیکل کالج اور فوجی فاؤنڈیشن اسپتال کی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید مریضوں کو اس علاج سے مستفید کیا جائے گا۔
#WorldHearingDay
#HearingCare
#Health
#Pakistan
#WHO
#FUI
Michelle Keegan and Ben Aldridge in web series " our girls". Drama following the extraordinary adventures of female medics in the British Army.
Song "Power of love" by Celine dion.
۲۰۲۰ میں عمران خان کامیاب دورے میں متحدہ عرب امارات سے ۲۰۰ ملین ڈالر لے آئے-
۲۰۲۴ میں شہباز شریف صرف ۱۰ ارب ڈالر-
کہاں ۲۰۰ اور کہاں ۱۰- ملین اور ارب کو دفع کریں آپ فگر دیکھیں : ع ا دلاّ راجہ ان لن دن
اگر شیشہ نہ ہوتا؛
ہماری سوچ مکمل طور پر جلیبی کی طرح ہے- شیرہ اندر کہاں سے گھستا ہے نظر نہیں آتا-
ہم اچھے کپڑے ، بناؤ سنگھار اپنی مرضی کا کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ دوسرے اسے پسند کریں- اگر شیشہ ایجاد نہ ہوتا ہو دنیا میں خود نمائی اور تکبر بہت کم ہوتا- آپ اندازہ کریں ، شیشہ نہ ہوتا تو ہم ساری زندگی اپنی شکل ہی تلاش کرتے رھتے کہ میں کیسا ہوں ؟ صنم بد دماغ نہ ہوتے اور شاعر خوار نہ ہوتے- اس کا مطلب ہے شیشہ بنیادی جڑ ہے اس تکبر اور گھمنڈ کے فساد کی-
ایک اور تضاد دیکھیں
زندگی کی خوشگوار شروعات کا اس سے بڑا دھوکا کیا ہو گا کہ رشتہ دیکھنے
سا س اور نندیں جاتی ہیں-
ھماری زندگی کی زیادہ پریشانیاں حسد اور نقالی کی پیداوار ہیں - محروم طبقہ ، بینک سے ادھار لے کر گاڑی اور پلا ٹ کی فائلیں خرید لیتا ہے، کریڈٹ کارڈ رکھے ہوئے ہیں - مشہور برانڈز ، بینک اور رئیل اسٹیٹ اسی سوچ کا فائدہ اٹھا رہی ہے- کیپیٹلزم ادھار اور سود پر کھڑا ہے اور دنیا نیزے پر چڑھی ہو ئی ھے
ہماری گفتگو کی بھی ترجیحات شہنشاھانہ ہیں-
انتہائی بد اخلاقی سے بات کر کے اگلے سے ہم عزت و احترام کے متمنی ہوتے ہیں- زندگی بھر کتاب کو ہاتھ نہیں لگاتے اور سارا دن نصیحتیں کرتے گزر جاتا ہے-
دوسروں کے ساتھ زندگی گزارنے کے ہمارے سلیقے کے بھی کیا کہنے - جو ارد گرد اور قریب ہیں ان کی طرف دیکھتے بھی نہیں اور ھزاروں میل دور بیٹھے ہوئے سے Chat ہو رھی ہے-
تجارت کا سن لیں
سستے داموں بہترین چیز خریدنا چاھتے ہیں- اور دوکاندار جب سستی چیز کو اچھا کر کے دکھائے تو مان بھی لیتے ہیں- اس اعلی خریداری کے کیا کہنے- شوھر سارا دن سمجھاتا رھے کبھی نہیں سننی، دوکاندار ایک دفع کہ دے باجی یہ پرنٹ پورے شہر میں نہیں ، تو فورا سوٹ خرید لیں گی-
ریاستوں اور معاشروں کا المیہ یہ ہے کہ جو سیاست ، معیشت ، سائنس، تاریخی علوم پر عبور رکھتے ہیں ان کا حکومتی امور میں کوئی لینا دینا نہیں- اور جو حکومت کرتے ہیں ان کا علم سے کوئی واسطہ نہیں- یہ صدیوں پہلے طے ہو چکا ہے کہ حکمرانی اشرافیہ کرے گی اور علم و دانش کے معاملات پڑھا لکھا طبقہ دیکھے گا- اور حکمرانوں نے حکمرانی کیسے کر نی ہے یہ سیٹھ طے کرے گا- دانش ور کو صرف وظیفہ ملے گا-
حکمرانوں اور دانشوروں کے رابطہ کار بیربل ہونگے جنہیں ہم بیوروکریسی کہتے ہیں اور اس ساری اشرافیہ ، حکمران، سیٹھ ، دانشور، بیربل کے بیک وقت آلہ کار بھی اور متاثرین بھی رعایا ہو گی جنہیں اب عوام کہا جاتا -