آپس میں جُڑنا دین پر چلنا ہے اور معاف کرنا دین کو زندہ کرنا ہے- اللہ تعالیٰ معاشرت کو اس انداز میں پسند کرتا ہے کہ معاشرت میں لوگ ٹوٹے ہوئے نہ ہوں بلکہ جڑے ہوئے ہوں- لوگ اناؤں کی تسکین کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو معاف کرنے والے ہوں، اپنا انتقام خود لینے کی بجائے پروردگار پر چھوڑنے والے ہوں، اگر دو مسلمان جھگڑ پڑیں تو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے نام پر انہیں آخرت کی یاد دلا کر اُن کو صلح پر مائل اور تصفیہ پر قائل کرنے والے ہوں-
مکمل مضمون: اِسلامی مُعاشرت کے دوسنہری اصول، ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، ستمبر 2020
اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ستّار العیوب (عیبوں کو چھپانے والا) ہے- وہ اپنے بندوں کے عیبوں کو ڈھانپتا ہے، ان کی کمزوریوں کو ظاہر نہیں ہونے دیتا، حالانکہ وہ ہر عیب کو جانتا ہے، ہر نقص سے واقف ہے- جب ایک انسان اپنے آپ کو اس صفتِ الٰہی کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے، تو اس کے لیے یہ لازم ہو جاتا ہے کہ وہ بھی دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالے- کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انسان خامیوں سے خالی نہیں- ہر فرد کے اندر کوئی نہ کوئی کمزوری، کوئی نہ کوئی نقص ضرور موجود ہے،چاہے وہ اسے تسلیم (Confess) کرے یا نہ کرے-
مکمل خطاب: گوجرانوالہ میڈیکل کالج، 6 جون 2024ء
اہل راز، صوفیاء، نرم دل والے دردمند لوگ مسافر کو خدائی مہمان کہتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اپنے مہمان سے بڑھ کر مسافر کی خدمت کرنا زیادہ اجر کاعمل ہے- کیونکہ وہ خدا کے توکل پر سفر کر رہا ہوتا ہے اور خدائی مہمان بن کر زمین کے اوپر چل رہا ہوتا ہے- شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ:
بزرگاں مسافر به جان پرورند
که نام نکوئے به عالم برند
اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو بزرگی و عظمت عطا کرتا ہے وہ اپنے قریب سے گزرنے والے مسافر پہ اپنی جان بھی نثار کر دیتے ہیں اور اس خدمت کے باعث اللہ عزوجل ان کو اپنی اس زمین میں نیک نامی عطا فرماتا ہے-
مکمل مضمون: مسافر کے حقوق، مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، جنوری 2021
اُچھالی شریف (خوشاب) میں منعقدہ فکری نشست "سید الشہداء امام حسین (رض) و ذکرِ اہل بیت" سے خصوصی خطاب:
گفتگو کے اہم نکات:
-اہلِ بیت سے محبت کا حکم قرآن کریم نے دیا ہے:
"بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول ﷺکے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے" (احزاب:33)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کو نکلے اور ﷺ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے -اتنے میں سیدنا حسن(رض) آئے تو آپ ﷺ نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا۔ پھر سیدنا حسین(رض) آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا۔ پھر سیدہ فاطمۃ الزہراء(رض) آئیں تو ان کو بھی انہی کے ساتھ شامل کر لیا پھر سیدنا علی (رض) آئے تو ان کو بھی شامل کر کے سورۃ احزاب کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔(صحيح مسلم،كتاب فضائل الصحابة)
- ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"آپ ﷺ فرمائیے کہ میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا سوائے قرابت (اہلِ بیت) کی محبت کے"(الشوریٰ:23)
قرابت داروں کے متعلق اصحابہ کرام نے دریافت کیا کہ ان میں کون شامل ہیں تو آقا کریم (ﷺ) نے فرمایا کہ ان میں حضرت علی، حضرت فاطمہ اور ان کے دو بیٹے(حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین (رض)) ہیں ۔ (العجم الکبیر طبرانی)
-حدیث : "میں تم میں ایسی چیز چھوڑنے والا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ان میں سے ایک اللہ کی کتاب ہے گویا اور دوسری میری" عترت" یعنی میرے اہل بیت ہیں –" (سنن الترمذی)
- سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے لونڈوں کے ہاتھ سے ہو گی۔ (صحيح البخاري،كتاب الفتن)
حضرت ابوہریرہ یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے ساٹھ ہجری نہ دکھانا ۔ یہی وہ سال تھا جب یزید تخت نشین ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ نے جو پیشین گوئی فرمائی تھی کہ میری امُت قریش کے لونڈوں کے ہاتھوں تباہ ہوگی اس سے یزید کے دورِ حکومت کی طرف اشارہ تھا-
-سیدنا حضرت امام حسین رض نے یومِ عاشور کی صبح یزیدی لشکر کو مخاطب ہوکر فرمایا: اے لوگو!میرے حسب و نسب پہ غور کرو اور دیکھو تو صحیح میں کون ہو؟ اپنی طرف غور کرو کہ تم کس کے ساتھ کیا کررہے ہو، اپنے پر ملامت کرو-غور کرو آیا تمہارے لیے میرا قتل کرنا میری عزت کا خیال نہ کرنا جائز ہے تم پر؟
جے کجھ ملاحظہ سرور(ﷺ) دا کردے تاں خیمے تمبو کیوں سڑدے ھو ُ
پر صادق دین تنہاں دے باھو ُؒ جو سر قربانی کردے ھو ُ (ابیاتِ باھوؒ)
-اہلِ ایمان کو کربلا اور سیدنا حضرت امام حسین (رض) کی ذاتِ گرامی سے متعلق کبھی بھی تشکیک کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔قرآن کریم کی رُو سے حضور اکرمﷺ کی آل اولاد سے محبت ہم پر فرض اور قرض ہے ۔
آج کے دور میں تعلیم عام ہے لیکن تربیت ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی- بدقسمتی سے اچھی تعلیم تھوڑی مہنگی ملتی ہے لیکن پھر بھی مل جاتی ہے، میسر ہے- لیکن تربیت مہنگی بھی نہیں مل رہی، بالکل ہی ناپید و نایاب ہوتی جا رہی ہے - صوفیاء اور بزرگانِ دین کا طریق ہمیشہ تربیت رہا ہے- کیونکہ جب تربیت نہیں ہوتی تو خرابیاں جنم لیتی ہیں، معاشرے میں نفرت، تعصب اور دشمنی کے جذبات فروغ پاتے ہیں-
مکمل مضمون: اِسلامی مُعاشرت کے دوسنہری اصول، ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، ستمبر 2020
1The Prophet Muhammad ﷺ's Prophecy & the Conquest of Constantinople | Sultan Mehmed the Conqueror
پیشگوئی رسول ﷺ اور فتحِ قسطنطنیہ (سلطان محمد فاتح)
[Explained By: His Excellency Sahibzada Sultan Ahmed Ali Sb (Sec Gen Islahee Jamaat and Aalmi Tanzeem ul Arifeen) ].
#sultan
🚨 Proud Moment for Pakistan! 🇵🇰
Sahibzada Sultan Mohammad Ali wins election to the Board of Directors of the International Tent Pegging Federation (ITPF) for 2026-2030 term!
Under his presidency, Pakistan dominated internationally:
• 3 Gold, 2 Silver & 2 Bronze medals
• World's 2nd Best Team medal
• Hosted 9 full-member international events
A champion off-road jeep rally racer too!
Big achievement for Pakistani sports!
#TentPegging #PakistanZindabad #SultanMohammadAli